کیا عمران خان غیر مقبول ہو چکے ہیں؟

کیا عمران خان غیر مقبول ہو چکے ہیں؟
کیا عمران خان غیر مقبول ہو چکے ہیں؟

  



آئین میں اگر کہیں یہ لکھا ہوتا کہ جو وزیراعظم غیر مقبول ہو جائے، اسے ہٹا دیا جائے گا تو پھر یہ منطق سمجھ میں آ سکتی تھی کہ عمران خان کو ہٹا دیا جائے، مگر ٹھہریئے اس کا فیصلہ بھی کیسے ہو گا کہ وزیراعظم غیر مقبول ہو گیا ہے؟ کیا اس کے لئے بھی ان کہانیوں پر یقین کیا جائے گا جو اپوزیشن بیان کرے گی اور ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر انہیں سچا ثابت کرے گی، مگر نہیں، ایسا تو آئین میں کہیں نہیں لکھا۔ وہاں تو وزیراعظم کے غیر مقبول ہونے کو ثابت کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد دلائی جائے۔ وزیراعظم عدم مقبولیت کا شکار ہوا تو تحریک کامیاب رہے گی، وگرنہ ناکام ہو جائے گی۔اب اس صورتِ حال میں اس وقت وزیراعظم کو ہٹانے کی جو مہم جوئی جاری ہے کیا، وہ آئین کے مطابق ہے؟ حیرت ہے کہ بات بات پر آئین کا حوالہ دینے والے وزیراعظم کی تبدیلی غیر آئینی طریقے سے چاہتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے اور اس کا اخلاقی جواز کیا ہے؟

مَیں سن رہا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کنٹینر پر تقریر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آج تاجر، ڈاکٹر، اساتذہ، کسان اور دیگر طبقے سڑکوں پر ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنا اعتبار کھو چکی ہے۔ مَیں سوچ رہا تھا، انہوں نے یہ کیوں نہیں کہا کہ عوام سڑکوں پر ہیں۔ عوام تو سڑکوں پر نہیں ہیں۔ تاجر اس لئے سڑکوں پر نہیں کہ مہنگائی انہیں تنگ کر رہی ہے، بلکہ وہ ٹیکسوں سے بچنا چاہتے ہیں، وہ اصلاحات کے خلاف ہیں۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال اچھے علاج کے لئے نہیں، بلکہ اچھے علاج کی خاطر ہسپتالوں میں حکومت جو اصلاحات لانا چاہتی ہے، اس کے خلاف ہے۔ اساتذہ ہوں یا کسان، ان کا مقصد اپنے حالات کو بہتر بنانا ہے، وہ اجتماعی مفاد کے لئے مظاہرے نہیں کر رہے۔ حکومت کا فوکس مجموعی بہتری لانا ہے، لیکن معاشرے کے مختلف طبقے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی تاجروں، صنعت کاروں، ڈاکٹروں اور سرکاری ملازمین کے بارے میں رائے پوچھیں تو یہ عقدہ کھلے گا کہ وہ ان سے سخت نالاں ہیں۔ مصنوعی مہنگائی کسی اور نے نہیں تاجروں نے کی ہے، اسی طرح سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے اپنی عدم توجہی اور سینئر ڈاکٹروں نے اپنی غیر حاضری سے عوام کے دِلوں میں نفرت کو جنم دیا ہے، ایسے میں عوام حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں مصنوعی مہنگائی سے بچایا جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنائے، انہیں علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اب حکومت اس سمت میں جو قدم بھی بڑھائے گی، وہ الٹا پڑے گا، کیونکہ مزاحمت قدم قدم پر نظر آئے گی۔ اسے عوام میں حکومت کی عدم مقبولیت نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ طبقاتی مفاد کو توڑنے کی ایک کوشش ہے، جسے بہر طور ہر حکومت کو کرنا چاہئے۔

اکرم درانی رہبر کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے جب یہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے احتجاج اس لئے کیا ہے کہ اگر ہم عوام کے جذبات کی ترجمانی کا فریضہ ادا نہ کرتے تو وہ خود باہر نکل آتے اور معاشرے میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی۔ اب یہ لوگ ہماری قیادت میں باہر نکلے ہیں اور قیادت کی گرفت میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب تک کوئی ایک گملا تک نہیں ٹوٹا۔اُن کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ آزادی مارچ پُرامن رہا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد تک اُس نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے،تاہم اس بات سے اتفاق ممکن نہیں کہ یہ عوام کا آزادی مارچ ہے۔یہ واضح طور پر ایک مذہبی جماعت کے عقیدت مندوں اور طالب علموں کا مارچ تھا، اسی لئے اس میں نظم و ضبط بھی برقرار رہا۔جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ عوام قیادت کے بغیر حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ سکتے ہیں، اس لئے ہم نے خود آزادی مارچ کی کال دی، تو اس میں زیب ِ داستان کے اسباب زیادہ نظر آتے ہیں۔عوامی سطح پر اتنی ہلچل ہوتی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی بھی عوامی احتجاج کی کال دیتیں، جبکہ سب کو معلوم ہے کہ اُن کی حالت اس حوالے سے پتلی ہے اور وہ کوئی بڑا شو کرنے سے قاصر ہیں،حالانکہ اپنے قائدین کی گرفتاری کے باعث انہیں عوامی ہمدردی کا ووٹ بھی مل سکتا ہے،مگر وہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں بھی کوئی بڑا حصہ نہیں ڈال سکے اور صرف اسلام آباد کے کنٹینر پر اُن کے رہنماؤں نے اپنی رونمائی کرائی اور منظر سے ہٹ گئے۔

اپوزیشن اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ اُس نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صرف سوا سال بعد وہ حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے، عوام تو یہ ہر گز نہیں چاہتے، اگرچہ اُن میں بھی حکومت کے حوالے سے مایوسی بڑھی ہے،مگر وہ اِس بات کے حق میں نہیں کہ تجربے پر تجربہ کیا جائے۔پھر یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ عوام مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے بارے میں بھی کوئی خوش گمانی نہیں رکھتے، وہ ماضی قریب میں دونوں کو آزما چکے ہیں،انہیں تو شہباز شریف کی یہ بات بھی احمقانہ لگتی ہے کہ انہیں دوبارہ اقتدار ملا تو وہ چھ ماہ میں ملک کو معاشی طور پر خوشحال بنا دیں گے، جو اپنے پانچ سال میں نہ بنا سکے، وہ چھ ماہ میں کیسے بنائیں گے؟یہ سوال عوام کے ذہنوں میں گردش کرتا رہتا ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ پانچ سال بعد عوام ضرور سوچیں گے کہ انہیں دوبارہ ایک موقع مسلم لیگ(ن) یا پیپلزپارٹی کو دینا چاہئے۔ وہ بھی اُسی صورت میں جب تحریک انصاف کی حکومت بالکل ناکام ہو جاتی ہے اور پانچ سال بعد بھی اسی طرح خالی ہاتھ نظر آتی ہے، جیسی کہ آج ہے۔

اپوزیشن نے اس جلد بازی کا مظاہرہ کیوں کیا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں، سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن کو پہلے دن سے چین کے ساتھ نہیں بیٹھنے دیا۔ وہ خود ایک بے چین روح ہیں، کیونکہ انہیں پارلیمینٹ سے باہر رہنا پڑ رہا ہے۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ جس پارلیمینٹ میں مَیں نہیں، اُسے قائم نہیں رہنا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے وہ پہلے دن سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس جمہوری سیٹ اپ کی بساط لپیٹ دی جائے۔ وہ ایک ضدی بچے کی طرح اس کھلونے کو ہی توڑ دینا چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) اُن کی ضد کے آگے بے بس نظر آتی ہیں۔وہ اُس وقت بھی بے بس تھیں جب انتخابات کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمن نے مبینہ دھاندلی کے خلاف حلف نہ اٹھانے کا اعلان کیا تھا،جسے بڑی منت سماجت کے بعد واپس لینے پر آمادہ کیا گیا اور آج بھی یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مولانا کے پیچھے مقتدی کی حیثیت سے چل رہی ہیں۔ مولانا ایک بار پھر تخت یا تختہ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری کی کنٹینر پر موجودگی کے باوجود مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں،اور بلاول خاموشی کے ساتھ اسے سنتے ہیں۔ حالانکہ وہ بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ آزادی مارچ اور دھرنے میں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی مخالفت کریں گے۔

مولانا کی جلد بازی تو سمجھ میں آتی ہے،وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ سیٹ اَپ کچھ عرصے اور چلتا رہا تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ وہ ایک ہیرو کے طور پر اس سیٹ اپ میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس کھونے کو کچھ ہے ہی نہیں، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ہاتھ کیا آئے گا؟اس بارے میں شاید انہوں نے مولانا کے ہاتھوں میں کھیلنے کی وجہ سے کچھ سوچا ہی نہیں۔ آج اگر اسمبلیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور نئے انتخابات کا اعلان ہو جاتا ہے، تو دونوں سیاسی جماعتوں کے حالات کون سے اچھے ہیں کہ انہیں بھاری اکثریت ملنے کی امید ہے۔ پیپلزپارٹی کو سندھ حکومت بنانے کے بھی لالے پڑ سکتے ہیں،اس لئے غور کیا جائے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نئے انتخابات سے زیادہ اس نکتے پر زور دے رہی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان استعفا دیں۔ گویا ان کا مطالبہ مائنس ون کا ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمن پورے سیٹ اَپ ہی کی بساط لپیٹنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ اس سیٹ اَپ سے باہر کھڑے ہیں۔

مولانا ہزاروں افراد لے کر اسلام آباد پہنچ تو گئے ہیں، مگر ان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ اس اجتماع میں پورے ملک کی نمائندگی موجود ہے اس میں 90فیصد ان کی جماعت اور مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔ انہیں دیوبند کے سالانہ اجتماع میں جانے اور کئی دن تک ٹھہرنے کا تجربہ ہے، حتیٰ کہ اس اجتماع میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی نمائندگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں یہ دعویٰ کرنا کہ پاکستان کے عوام نے عمران خان کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے،دیوانے کی بڑ جیسا دعویٰ ہے۔ ملک میں اس وقت کوئی سیاسی بے چینی یا بحران موجود نہیں،ہاں صرف اسلام آباد میں ضرور اس دھرنے کی وجہ سے بے یقینی کی فضا ہے، مگر اس کا نتیجہ وہ نہیں نکلنے والا جس کی مولانا فضل الرحمن امید لگائے بیٹھے ہیں۔ البتہ کوئی ایسا نتیجہ ضرور نکل سکتا ہے، جو ان کی تھوڑی بہت اشک شوئی کا سامان پیدا کر دے۔

مزید : رائے /کالم