دو دن کے لئے مہمان یہاں

دو دن کے لئے مہمان یہاں
دو دن کے لئے مہمان یہاں

  



یہ سطور بروز اتوار مورخہ3نومبر 2019ء کو قلمبند کی جا رہی ہیں۔ سہ پہر کے3بج رہے ہیں۔ میری بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں خارش طلب ہوئی جا رہی ہے اور دائیں آنکھ بھی صبح سے پھڑک رہی ہے۔بزرگوں سے سنا ہے کہ یہ کوئی نیک شگون نہیں ہوتے۔جب بھی یہ خارش اور پھڑک بیک وقت ظہور پذیر ہوتی ہے تو حکومت پر بُرا وقت آنے اور چھانے لگتا ہے۔خدا خیر کرے متحدہ اپوزیشن کے ہر دلعزیز عوامی رہنما مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان کو دو دن کی مہلت دے رکھی ہے،جو آج رات ختم ہو رہی ہے۔ آج صبح جب بابا فضلُو دودھ دینے آیا تو مَیں نے پوچھا:”بابا جی!آج اتوار ہے۔ پھر بھی دودھ لیٹ لائے ہو۔ کیوں؟“ اس نے جواب دیا……“ کرنل صاحب! کل سے دِل بجھا بجھا سا ہے۔ جب سے ہمارے جنرل آصف غفور نے ایک لمبا چوڑا بیان داغا ہے میری تشویش بڑھ گئی ہے۔ رات بھر نیند نہیں آئی۔برے برے خواب آتے رہے ہیں۔آزادی مارچ کا انجام بخیر نہیں لگتا۔میرے ہم نام مولانا فضل الرحمن اور ان کی ساری ٹیم ڈٹ تو گئی ہے۔لیکن کرنل صاحب! یہ پاکستان کی اپوزیشن اور پاک آرمی کے درمیان براہِ راست تصادم کا معاملہ ہے۔اس لئے صبح دیر سے اٹھا اور اسی لئے دیر ہو گئی!“

مَیں بابا فضلُو کی باتیں سن کر چونک سا گیا اور دِل میں سوچا، ہماری عوام سیاسی موضوعات سے کتنا پیار کرنے لگی ہے۔ اسے ملک اور فوج کی فکر کم ہے لیکن اپوزیشن والوں کی فکر زیادہ ہے۔اتوار کا دن ہے۔ کئی دوست ملنے آئے اور سب متفکر تھے کہ مولانا نے جو الٹی میٹم دیا ہے اس کے مضمرات غور طلب اور پریشان کن ہیں اور دوسری طرف فوج کے ترجمان نے جو بیان دیا ہے وہ اور بھی پریشان کن ہے۔ واپس جانے سے پہلے یہ مہمان اس قسم کی باتیں کرتے رہے اور مَیں سوچتا رہا کہ اگر آج شام فوج نے ایکشن لینے کی آپشن استعمال کی تو کیا ہو گا اور اگر مولانا نے ضد نہ چھوڑی تو یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا……

فوج کی حکمت عملی یہی ہو گی کہ کم سے کم جانی نقصان ہو۔ فرض کریں فوج مولانا پارٹی کو گرفتار کر لیتی ہے۔مولانا پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جاتا ہے تو اس کا عوامی ردعمل کیا ہو گا۔ مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی نے اچھا کیا ہے کہ مولانا سے دوری اختیار کر لی ہے۔یہ دونوں مین سٹریم پارٹیاں دیکھیں گی کہ مولانا اینڈ پارٹی کی گرفتاری پر عوامی ردعمل کیا ہوتا ہے۔بقول مولانا حضرات کے اپوزیشن نے ضلع کی سطح پر احتجاج کا پروگرام بنا رکھا ہے۔بے نظیر بھٹو کے قتل ہونے پر بالخصوص سندھ میں جو گھیراؤ ہوا تھا وہ کافی تشویش انگیز تھا۔لیکن وہ سرا سر ایک سیاسی ردعمل تھا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ مولانا پارٹی حوالہ ئ زنداں کر دی گئی تو مذہبی کارڈ کا ردعمل کیا ہو گا۔ضلعی سطح پر عوام مولانا کے بیانیئے کے خریدار ہوتے ہیں یا نہیں۔ اور یہودی لابی اور کشمیر کو بیچ دینے والی لابی کا کیا بنتا ہے،اس کا نتیجہ بھی دو چار دن میں سامنے آ جائے گا۔

دونوں مین سٹریم سیاسی پارٹیاں اسمبلیوں میں موجود ہیں، جبکہ مولانا کسی اسمبلی میں موجود نہیں۔ان کی 9سیٹیں تو ہیں لیکن دونوں ہاؤسوں میں سیٹوں کی تعداد کے مقابلے میں یہ9 سیٹیں کیا اہمیت یا کیا وقعت رکھتی ہیں؟ ہاں دیکھنے والی بات یہ ہو گی کہ یہ احتجاج(بعد از گرفتاری) ملک گیر ہوتا ہے یا محدود رہتا ہے۔پُرتشدد ہوتا ہے یا پُرامن رہتا ہے۔ اگر پُرتشدد کی طرف بات نکلتی ہے تو مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی دونوں مولانا کی بینڈ ویگن پر سوار ہونے کو ترجیح دیں گی۔

کل (ہفتہ) ایک اور ڈویلپمنٹ بھی میڈیا کے ناظرین نے نوٹ کی ہو گی جو یہ تھی کہ اس آزادی مارچ کے احتجاجی جلوس میں بعض شمشیر بدمست لوگ بھی موجود تھے جن کے ہاتھوں میں داعش کے جھنڈے پکڑے ہوئے تھے؟ ان کو فی الفور گرفتار کر لیا گیا اور جہاں پہنچانا تھا، پہنچا دیا گیا تھا۔ پچھلے دِنوں ابوبکر البغدادی جو داعش کا سربراہ تھا وہ شام کے ایک شمال مغربی حصے میں ایک امریکی چھاپہ مار دستے کے ہاتھوں مارا گیا تھا اور اگلے روز اس کے جانشین کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

البغدادی کی اس داعش پر میڈیا میں بہت کچھ لکھا اور دکھایا جا چکا ہے۔اس کا اعادہ مقصود نہیں۔لیکن عراق اور شام کے علاوہ اس ISIS نے لیبیا، یمن اور افغانستان میں جو گل کھلائے وہ بھی کم ہولناک نہ تھے۔یہ تنظیم افغانستان میں آج بھی موجود ہے اور طالبان کا ایک دھڑا اس کو سپورٹ کر رہا ہے۔اس دھڑے (اور امریکہ) کا پروگرام یہ ہے کہ اس کو پاکستان کے اندر بھی داخل کیا جائے اور اس سے وہی کام لیا جائے جو عراق و شام میں لیا گیا تھا (اور آج بھی لیا جا رہا ہے) داعش کے ان عناصر کے رابطے پاکستان میں جس پارٹی/پارٹیوں کے ساتھ ہیں ان کی ”خبریں“ میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔ پاک فوج نے پچھلے20برس میں القاعدہ اور اس قبیل کی دوسری تحریکوں کا جو خاتمہ کیا ہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے اور 70,000 سویلین اور فوجی جوانوں اور افسروں کی جو قربانیاں پاکستانی قوم نے دی ہیں،ان کی تفصیلات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مولانا کے اس آزادی مارچ میں اس تنظیم (ISIS) کی موجودگی(خواہ وہ ٹوکن ہی تھی) پاکستانی قوم کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے۔ داعش ایک ایسی تنظیم ہے جس کی سفاکیاں، ہلاکو اور چنگیز کی تباہ کاریوں اور سفاکیوں کو بھی شرماتی ہیں۔

مقامِ اطمینان ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں کو یہ علم تھا کہ اس مولانائی احتجاج اور آزادی مارچ کے پردے میں داعش کے بعض عناصر بھی اپنی موجودگی کی اطلاع دیں گے۔سو یہ اطلاع ہفتہ(2نومبر) کو مل گئی اور ایجنسیوں نے ان کو فوراً ”قابو“ کر لیا۔ یہ خبریں بھی عام تھیں کہ اس آزادی مارچ میں انٹیلی جنس کے بعض عناصر داخل کر دیئے گئے تھے۔ اور یہ کوئی نئی یا انہونی بات نہ تھی۔اس قسم کے احتجاجی مظاہروں اور مارچوں میں حکومتی ایجنسیوں کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے جونہی داعش کے ان ”علم برداروں“ کو دیکھا، فوراً دبوچ لیا۔ جے یو آئی(ف) کے کسی علم بردار کو ہاتھ نہیں لگایا گیا لیکن داعش کے علمبرداروں کو عمداً پہلے میڈیا کو دکھایا گیا اور پھر غائب کر دیا گیا۔

اس آزادی مارچ کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ہمارا میڈیا کہتا اور سناتا رہا ہے کہ مولانا کے اس مارچ کی کوریج انڈین میڈیا پر جس سکیل پر دکھائی گئی وہ ہمارے لئے چشم کشا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کوریج کہاں سے حاصل کی گئی؟…… آزادی مارچ میں ڈرونوں کا استعمال بھی سیکیورٹی کے پیش ِ نظر روک دیا گیا تھا۔تو پھر یہ کوریج انڈین چینلوں پر کیسے دکھائی گئی؟……اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ انڈیا اور دوسرے کئی ”دوست ممالک“ کے پاور فل ڈرون کشمیر چوک کی عکاسی کے لئے پاکستان کی فضاؤں میں موجود رہے اور اب بھی ہیں۔ چونکہ کافی بلندی پر ہیں اس لئے ان کو ہمارا میڈیا نہیں دکھا سکتا لیکن ایجنسیوں کو معلوم ہے کہ یہ کوریج کی جا رہی ہے اور ہندوستان بھر میں دکھائی جا رہی ہے۔

اور یہ تو ابھی کل(16ستمبر2019ء) کی بات ہے کہ 18عدد ڈرونوں نے سعودی آئل فیلڈز پر حملہ کیا اور کروز میزائلوں سے مل کر سعودی کروڈ آئل پروڈکشن کی روزانہ مقدار نصف کر دی۔یہ ڈرون روز بروز زیادہ موثر، زیادہ مہلک اور زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں،جو اہلیتیں اور ٹیکنالوجیکل صلاحیتیں ان ڈرونوں کو زیادہ خطرناک بناتی ہیں وہ تعداد میں چار ہیں …… یعنی(1) زیادہ پاور فل وڈیو کیمرے،……(2)GPS کی بڑھتی ہوئی سہولیات،……(3) پوشیدگی …… اور(4) تیز تیر رفتار۔ 1990ء کی دہائی میں انڈیا نے اسرائیل سے ریکی اور سروے لینس کے لئے کئی پاور فل ڈرون خریدے تھے۔لیکن حال ہی میں 50عدد ایسے ڈرون بھی اسرائیلیوں سے حاصل کئے ہیں جن میں درج بالا چاروں خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ ان ڈرونوں کا نام ہاروپ (Harop)۔ اور اب تو ان کو DRDO (ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن) بھی بنا رہی ہے،بلکہ تقریباً چار درجن پرائیویٹ فرمیں بھی یہی کام کر رہی ہیں۔ہاروپ ڈرون 30,000 فٹ کی بلندی پر اڑتا ہے اور اس کی رینج سینکڑوں نہیں ہزاروں کلو میٹر تک ہے۔

اور اسلام آباد ہماری مشرقی سرحد سے کتنی دور ہے؟

مولانا اینڈ پارٹی کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ آپ نے فوج کو للکارا تو ہے لیکن آپ نے پہلے مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی والوں کا حال نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟……نواز شریف صاحب کا ”مجھے کیوں نکالا“ والا پندرھواڑہ (Fortnigth) یاد کیجئے اور پھر زرداری صاحب کی ”اینٹ سے اینٹ“ بجا دینے والی دھمکیاں بھی یاد کیجئے!…… فوج اپنے ہزاروں افسروں اور جوانوں کی قربانیاں فراموش نہیں کرتی۔مولانا اگر مین سٹریم سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا انجام نہیں دیکھ رہے تو بے شک نہ دیکھیں فوج سمجھے گی:اک گناہ اور سہی!

مولانا کو دیا جانے والا ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ آپ دو دن کی مہلت کو روز و شب کی قید سے آزاد کر دیں اور ”یو ٹرن“ لے کر یہ اعلان کر دیں کہ: ”ہماری یہ احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔“ اگر مولانا نے ایسا نہ کیا تو پھر کسی کلین شیو ہم عمر دوست سے پو پچھ لیں کہ 1951ء میں ایک ہندوستانی فلم ”بادل“ پاکستان میں بھی آئی تھی اور نہایت مقبول ہوئی تھی۔ پریم ناتھ اور مدھو بالا اس کے لیڈنگ کردار تھے۔اس کا ایک گیت یہ بھی تھا:

دو دن کے لئے مہمان یہاں

معلوم نہیں منزل ہے کہاں

لتا کی آواز میں گایا گیا یہ گیت نغمہ ئ کوچہ و بازار (Street Song) بن گیا تھا۔ اگر مولانا دو دن کی مہلت کو احتجاجی تحریک کا نام دے کر کنٹینر سے اتر آئیں تو اس میں سب کا بھلا ہو گا۔…… ان کا اپنا بھی…… ان کی ہم خیال سیاسی پارٹیوں کا بھی…… ملک کا بھی…… اور قوم کا بھی!

مزید : رائے /کالم