ملائیشین فرم نے مشترکہ موبائل ٹاورز کا تصور پیش کر دیا

ملائیشین فرم نے مشترکہ موبائل ٹاورز کا تصور پیش کر دیا

  



اسلام آباد(یواین پی) ملائیشیا کے ای ڈاٹ کو گروپ (edotco Group) نے پاکستان کے ٹیلی کام آپریٹرز کو موبائل فون ٹاورز کا مشترکہ نیٹ ورک تشکیل دینے کی پیش کش کی ہے تاکہ صارفین کو بہتر سروس مہیا کی جاسکے۔ملائیشین فرم موبائل فون ٹاورز کی تعمیر میں 20 کروڑ ڈالر سرمایہ لگا چکی ہے اور مزید 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ای ڈاٹ کو کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اپنے صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے موبائل آپریٹرز کے مشترکہ نیٹ ورک کا ماڈل اپنا رہے ہیں۔ اس ماڈل کی وجہ سے ان اربوں ڈالر کی بھی بچت ممکن ہوسکے گی جو مختلف کمپنیاں اپنے الگ الگ ٹاورز کی تنصیب پر خرچ کرتی ہیں۔پاکستان میں 4 موبائل آپریٹر (سیل فون سروس پرووائیڈر) کام کر رہے ہیں جن کے ملک بھر میں 34 ہزار سے زائد ٹیلی کوم ٹاور ہیں۔

4G اور 5G ٹیکنالوجی کی ایجاد کے بعد موبائل فون کے ٹاورز کی تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ 2022ء تک 4G ڈیٹا صارفین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مزید 17 ہزار ٹاور تعمیر کرنے ہوں گے۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ 40 فیصد موبائل ٹاورز ایک دوسرے سے محض 300 میٹر کی دوری پر ہیں جس کی وجہ سے ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس وقت پاکستان موبائل فون کی نفوذ پذیری 74 فیصد ہے جو آبادی کے نصف سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان میں 47.5 ملین انٹرنیٹ اور 35 ملین سے زائد سوشل میڈیا کے صارفین ہیں۔ای ڈاٹ کو گروپ میں ڈائریکٹر گروپ اسٹریٹجیGayan Koralage نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2018 سے 2022 کے درمیان ڈیٹا کی مقدار 7 گنا تک بڑھ جانے کے تخمینے لگائے گئے ہیں، چناں چہ ٹیلی کوم ٹاورز کی طلب بھی اسی مناسبت سے بڑھ جائے گی۔ لہٰذا یہ وقت کی ضرورت ہے کہ 5G ٹیکنالوجی کے دور میں کامیابی کے لیے ٹیلی کوم کمپنیاں ایک مشترکہ اپروچ اپنائیں۔

مزید : کامرس