پاکستان نے جموں و کشمیر کا نیا بھارتی نقشہ مسترد کر دیا، مقبوضہ وادی میں 91ویں روز میں بھی کرفیو برقرار سفی پابندیوں کیلئے 450افراد کی نئی فہرست تیار

پاکستان نے جموں و کشمیر کا نیا بھارتی نقشہ مسترد کر دیا، مقبوضہ وادی میں 91ویں ...

  



ں وکشمیر کی نئی یونین ٹیریٹوری اورگلگت، گلگت وزارت،چلاس اورقبائلی علاقے کو لداخ کی یونین ٹیریٹوری کا حصہ ظاہر کیاگیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہاکہ 1947ء میں جموں وکشمیر کے 14اضلاع تھے جن میں کٹھوعہ، جموں، ادھمپور، ریاسی، اسلام آباد، بارہمولہ، پونچھ، میر پور، مظفر آباد، لہہ، لداخ، گلگت، گلگت وزارت، چلاس اور قبائلی علاقہ شامل تھے۔ سروے جنرل آف انڈیا کی طرف سے تیار کئے گئے نئے نقشے میں آزاد کشمیر کے تین اضلاع مظفر آباد، پونچھ اور میر پورکویونین ٹیریٹوری جموں وکشمیر اورگلگت، گلگت وزارت، چلاس اورقبائلی علاقے کو یونین ٹیریٹوری لداخ کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھارت کی جانب سے جاری جموں و کشمیر کے سیاسی نقشے کو مسترد کر دیا۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ بھارتی وزارت داخلہ نے سیاسی نقشوں میں گلگت بلتستان اور کشمیر کو اپنا علاقہ ظاہر کیا ہے، ہم بھارت کے اس سیاسی نقشے کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاسی نقشے غلط، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں لہٰذا پاکستان اقوام متحدہ کے نقشوں سے مطابقت نہ رکھنے والے بھارتی نقشوں کو مسترد کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے ایسے اقدامات کشمیریوں سے ان کا حق خودارادیت چھین نہیں سکتے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔

متنازعہ نقشہ

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جارحیت بدستور جاری ہے اور وادی میں لاک ڈاؤن کو 91 روز ہو چکے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں 91 ویں روز سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، وادی بھر میں تمام مواصلاتی رابطے، انٹرنیٹ سروس اور دیگر طبی سہولیات معطل ہیں۔ کے ایم سی کے مطابق بیمار افراد کو دوا اور ڈاکٹر میسر نہیں جس سے اسپتالوں میں زیر علاج بعض مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 اگست کو لگائی گئی پابندیوں کے باعث انٹرنیٹ کی بندش سے اب تک 22 سے 25 ہزار کشمیری بے روزگار ہو چکے ہیں جب کہ کشمیر چیمبر آف کامرس کو بھی 10کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔کے ایم ایس کے مطابق قابض بھارتی انتظامیہ نے سفری پابندی کے لیے 450 کشمیریوں کی فہرست تیار کر لی ہے اور لسٹ میں شامل افراد کو مخصوص وقت تک بیرون ملک جانے تک روکا جائے گا۔اس فہرست میں تاجر، صحافی، وکلا اور سیاسی رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔دوسری جانب بھارتی مظالم کے خلاف 3 ماہ سے سری نگر سمیت کئی علاقوں میں کشمیریوں کا احتجاج بھی جاری ہے۔بھارتی فوجیوں نے ضلع بارہمولہ کی علاقے سوپور سے ایک کشمیر نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول