دھرنا جاری ، APCآج طلب، چودھری برادران کا مولانا فضل الرحمن کو تیلی فون ، کور کمیٹی نے فیصلہ کیا تو دھرنے میں شرکت کرینگے ، بلاول ، حکومتی کمیتی کا اکرام درانی سے رابطہ ، مذاکرات کرنے کا فیصلہ

      دھرنا جاری ، APCآج طلب، چودھری برادران کا مولانا فضل الرحمن کو تیلی فون ، ...

  



اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) جمعیت علمائے اسلام( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان سن لو یہ تحریک اور سیلاب آگے بڑھتا جائے گا اور تمھیں اٹھا کر باہر پھینک دیں گے ، ہم نے اپنی جان ہتھیلیوں پر رکھی ہوئی ہے، یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کے ساتھ جائیں ے،پیچھے ہٹنے کو گناہ کبیرا سمجھتے ہیں،اگر اس سیلاب نے وزیر اعظم ہاﺅس کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کر لیا تو کسی کا باپ بھی ہمیں نہیں روک سکتا لیکن ہم پر امن لوگ ہیں، اپنے مقصد کے حصول تک جنگ جاری رکھیں گے،یہ توپلان اے ہے ہمارے پاس بی اور سی باقی ہے ،جمعہ جمعہ آٹھ دن سے سیاست کرنے والے ہمیں سیاست سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، ،مسئلہ ایک شخص کے استعفی کا نہیں قوم کی امانت کا ہے، آج ایک اسلام آباد بند ہے کل پورا پاکستان بھی بند ہو سکتا ہے، اس اجتماع سے اسرائیل اور قادیانی پریشان ہیں کیونکہ ان کے 40 سالہ سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا ہے، آئندہ کسی کی جرات نہیں ہو سکے گی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرے،ہم فوج کا احترام کرتے ہیں ہر ادارے کو اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہو گا، یہاں ہر ادارہ ہی مداخلت کر رہا ہے، ملک میں جمہوری ادارے بے معنی اور جمہوریت بس نام کی رہ گئی ہے، اب فیصلہ عوام کا ووٹ کرے گا، عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں ہو گی،ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ تنگ پڑ گئی ہے،اسلام آباد کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہے اور آج سے قبل نہ تو اتنا بڑا اجتماع ہوا اور نہ ہو گا۔اتوار کو مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے رابطے میں ہوں اور کوشش ہے کہ پیر کو ان کے ساتھ ایک اجلاس ہو سکے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ کارکنوں کوبیٹھے چار روز ہو گئے ہیں لیکن ان کا جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے ، ہم آخری بازی لگانے کو تیار ہیں ، یہ اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہے ، ہم ایک مقصد لے کر آئے ہیں مسئلہ صرف شخص کے استعفے کا نہیں مسئلہ صرف ایک شخص کے استعفے کا نہیں مسئلہ قوم کی امانت ووٹ ہے ، آج عوام یہاں خود اپنی امانت حاصل کرنے کی جنگ لڑ رہا ہے ، اپوزیشن کے ووٹوں کو اکٹھا کیا جائے تو دھاندلی کے باوجود حکومت کے ووٹوں سے زیادہ ہیں ، ہمیں الیکشن کمیشن میں شکایت جمع کرانے کا کہا جا رہا ہے لیکن الیکشن کمیشن تو ہم سے زیادہ بے بس ہے ۔اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو لوگوں کو اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی ٹربیونل میں نہیں جانا ، دھاندلی کی تحقیق پارلیمانی کمیٹی کرے گی لیکن آج تک اس اےک اجلاس نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف فارن فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں ہی زیر سماعت ہے پانچ سال ہو گئے کوئی فیصلہ نہیں آیا تو دھاندلی کا کیا فیصلہ کرے گا ۔ تم عدالت میں پیش نہیں ہوتے تمہیں دوسری پارٹیوں کے افراد پر اعتراض ہے کہ یہ کرپٹ ہیں آپ کی ساری پارٹی اور سارا ٹبر ہی کرپٹ ہے ۔قابل احتساب پارٹی پاکستان پر حکومت کر رہی ہے، ان حکمرانوں کو جانا ہوگا ۔ عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا اس کے علاوہ تمہارے پاس کوئی اور چارہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع ایک تحریک ہے اس کا معنی یہ نہیں کہ ہماری تحریک یہاں رک گئی ۔ ہم اگر یہاں سے جائیں گے تو آگے پیش رفت کی صورت میں جائیں گے ۔ آج اسلام آباد بند ہے کل پورا پاکستان بند کرکے دکھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ آگے بڑھے گا اور اپنے مقصد کے حصول تک جنگ جاری رکھے گا۔ اگر حزب اختلاف کے قائدین ہمارے ساتھ ایک پیج پر ہیں تو ہم اگلے اقدامات پر بھی باہمی مشاورت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی تین دہائیوں تک کسی کو جرات نہیں ہو گی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر سکے کوئی شخص قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی شق کو آئین سے نہیں نکال سکتا۔ کوئی شخص اسلام میں موجود آئینی دفعات کو نہیں چھیڑ سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس پاکستان کی تہذیب کا ایک مضبوط عنوان ہیں جسے ہذف نہیں کیا جا سکتا اگر ایسی کوشش کی گئی توانہیں لوگوں کا خاتمہ ہو گا ۔ آئین تمام اداروں کا دائرہ کار ہے اگر وہ اپنے دائرے میں رہیں گے تو کوئی فساد نہیں ہو گا ۔ جمہوری ادارے بے معنی ہو گئے ہیں ہر شخص الیکشن عوام کو دیکھنے کی بجائے کسی اور طرف دیکھتا ہے ۔ اب عوام اور ووٹ کو عزت دینا ہو گی۔ عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے ۔ اس کی بہتری کی بات کرو اگر نہیں کر سکتے تو تمہیں پاکستانی قوم پر مسلط ہونے کا اختیار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس اجتماع میں ہر طبقہ فکر کے لوگ ہیں ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے ۔ ہم تم سے بہتر سیاست دان ہیں تم سے بہتر حکومت کرنا جانتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کی سیاست کرنے والے ہمیں سیاست بتائیں گے ۔ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے ہمیں غریب کی سیاست بتائیں گے ۔ ہم صلاحیت رکھتے ہیں ہمیں راستہ نہ دکھاﺅ ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سن لو یہ تحریک یہ سیلاب آگے بڑھتا جائے گا تمہیں اقتدار سے باہر کردے گا ۔ ہم نے اپنی جان اپنی ہتھیلیوںپر رکھی ہوئے ہیں ،ہم آپ کی حیثیت جانتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کا ایوان میں بیٹھنا ایوان کی توہین ہے یہ تو گالم گلوچ بریگیڈ ہے ہم سنجیدہ بات کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حکومت کے مقابلے میں آگے بڑھنا ہے جو فیصلہ قیادت کرے گی اس کے ساتھ چلنا ہے ۔ ہمارے پاس پلان اے بھی ہے بی اور سی بھی ہے ، ہم پیچھے ہٹنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔اس سے قبل مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پارٹی کا طویل مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے دی گئی 2 روزہ مہلت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوران اجلاس مولانا فضل الرحمان نے سینیٹر طلحہ محمود اور کامران مرتضی کو بھی طلب کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور شروع کردیا جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاون شامل ہے جب کہ مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا ۔ اجلاس میں ڈی چوک جانے اور چند روز بعد واپسی کا آپشن بھی زیر غورآیا۔ وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے حوالے سے ڈیڈلائن میں آج تک کی توسیع کا امکان ہے اور مزید مشاورت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے اکرم خان درانی کو تمام قائدین سے رابطوں کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اجلاس میں کشمیر ہائی وے پر دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جے یو آئی اراکین کی جانب سے کسی بھی نوعیت کے حتمی فیصلے کا اختیار مولانا فضل الرحمان کو دیدیا ہے۔سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں، تاجروں اور سماجی تنطیموں سے رابطوں پر بریفنگ دی گئی جب کہ کامران مرتضی نے قانونی و آئینی نکات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں کارکنوں میں پائے جانے والے جذبات سے متعلق بھی امور پر غور کیا گیا، گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر پارٹی رہنماوں نے دھرنے کے شرکاءمیں وقت گزرا تھا اور دھرنے میں پائے جانے والے کارکنوں کے جذبات پر صوبائی امرائ کو تفصیل سے آگاہ کیا تھا۔دوسری طر ف چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جے یو آئی ف کے دھرنے میں شرکت کا اشارہ دیدیا۔بہاولپور میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے شروع دن سے آزادی مارچ کی حمایت کی اور پہلے دن سے پیپلز پارٹی کا مو¿قف رہا ہے کہ ہم دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے لیکن اگر پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے فیصلے پر نظر ثانی کی تو ہم دھرنے میں شرکت کر سکتے ہیں۔رحیم یار خان ٹرین حادثے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ٹرین حادثے شیخ رشید کے دور میں ہوئے ہیں، شیخ رشید کو واقعے کی تحقیقات تک فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سانحے کی تحقیقات کرائیں اور سانحے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے۔حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت معیشت اور سیاست سمیت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر تنقید یہ ہو رہی ہے کہ یہ ناجائز اور سلیکٹڈ حکومت ہے، سلیکٹڈ حکومت عوام کا خیال نہیں رکھتی بلکہ منتخب حکومت ہی عوام کا خیال رکھ سکتی ہے، حکومت عوام کا خیال رکھنے کے بجائے اور کاموں میں لگی ہوئی ہے۔وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھاعمران خان کشمیر کا سفیر بنتے ہیں اور کرتاپور راہداری کھول رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ فضل الرحمان نے نہیں کہا کہ وہ خود وزیراعظم ہاو¿س جا کر وزیراعظم کو گھسیٹیں گے، مولانا صاحب نے کہا تھا کہ لاکھوں لوگ وزیراعظم کو نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہ،اگر موجودہ حکومت اپنی سمت درست نہیں کرتی تو جمہوری قوتیں بھی غیر جمہوری اقدام اٹھانے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام نہیں کسی اور کی خواہش پر بنی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت شہریوں کے سماجی اور آئینی حقوق پامال کررہی ہے، ہم ناصرف حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں بلکہ اس کی آئینی حیثیت پر بھی اعتراض اٹھاتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کی طرح صوبہ سندھ میں بھی کمی اور کوتاہیاں ہیں لیکن بہت ضروری ہیں کہ حکومتیں آئینی ہوں۔انہوں نے حکومت وقت کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کا مشورہ دیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عوام سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا سودا کرلیا گیا تاہم وزیراعظم عمران کو عوام کے خدشات دور کرنے چاہیے۔ قبل ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی نے تیز گام ٹرین سانحے میں ہونے والے زخمیوں کی عیادت کی۔جے یو آئی (ف) کے سینیٹرحافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ آئین کی پاسداری کرنا بغاوت ہے، عوام کی حق حکمرانی کی بات کرنا بغاوت ہے تو ہم باغی ہیں۔ اتوار کو مولانا عبد الغفور حیدری نے آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بعض لوگ پراپیگنڈا کرتا ہیں کہ مولانا فضل الرحمن مذہب کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں کہتا ہوں تم علامہ اقبال کو مانتے ہو،قائداعظم نے مذہب کے نام پر اسلامی مملکت وجود میں لائی ۔ انہوںنے کہاکہ قائداعظم نے خود مذہب کارڈ کا استعمال کیا،1973 کے آئین میں قادیانی کو غیر مسلم قرار دیا گیا،قادیانی کسی بھی عہدے پر آئین کے مطابق نہیں رہ سکتے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری ریاست اسلام کے بغیر نامکمل ہے،عمران خان نے آئین پاکستان کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سینیٹ میں ناموس رسالت کے قانون کے لئے ترمیم پیش کی،ایک سول سوسائٹی کے وکیل نے عدالت میں درخواست دی جس میں اس نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف بغاوت کی درخواست دائر کی،اس حکومت کو ہم نہیں مانتے، یہ غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت ہے۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے سابقہ حکومت کے وزیراعظم کے خلاف دھرنا کیا اور استعفیٰ کا مطالبہ کیا اس وقت تو عمران کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا تھا، گالم گلوچ کی سیاست کی،عمران نے پارلیمنٹ کے دروازے توڑے، پی ٹی وی پر قبضہ کیا،

مولانا فضل الرحمن

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرکے انھیں معاملہ افہام وتفہیم سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے اسلام آباد میں دھرنے کے معاملات پر مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے مثبت پیغام کا اشارہ دیا۔ ۔ مارچ کے معاملے پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مولانا فضل الرحمان کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ممکنہ صورتحال پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں اپوزیشن سے دوبارہ مذاکرات اور لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی گئی۔۔کمیٹی ارکان کو امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے کوئی غیر جمہوری اقدام نہیں اٹھائیں گے۔میڈیا کے مطابق مولانا فضل الرحمن اور چودھری شجاعت حسین کے درمیان بھی ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جس میں آزادی مارچ اور ملکی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق چودھری شجاعت نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے میلہ لوٹ لیا۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے آپ کو اپنا لیڈر تسلیم کر لیا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ کی بات سے فوج کے خلاف جو تاثر گیا، وہ غلط ہے، اسے مٹانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا دھرنے میں کوئی کردار نہیں، وہ تو حادثاتی اور واقعاتی طور پر اپوزیشن لیڈر بن گئے، اب اصل اپوزیشن لیڈر تو مولانا فضل الرحمن ہیں۔انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ آپ نے دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے، اب آپ مفاہمت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ آپ اس کی اہلیت رکھتے۔ہیں۔ آپ ایسے باپ کے بیٹے ہیں جو سیاسی شعور رکھتے تھے اور ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے افہام و تفہیم سے معاملات کے حل پر یقین رکھتے تھے۔ سیاسی منظر نامے میں تازہ ترین پیشرفت کے مطابق چودھری برادران نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہی پیر کی صبح اسلام آباد جائیں گے۔ دوپہر میں مولانا فضل الرحمان اور چودھری برادران کے درمیان اہم ملاقات ہوگی۔ ملاقات میں آزاد ی مارچ کے معاملات اور ان کے سیاسی حل پربات کی جائے گیدوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن و اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما و اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی سے رابطہ کیا اور ان سے ملاقات کیلئے وقت مانگا۔ذرائع کے مطابق اکرم درانی نے اسد قیصر کو جواب دیا کہ ہم اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ بعدازاں اکرم درانی نے رہبر کمیٹی میں شامل دیگر اپوزیشن ارکان کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا جس پروفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو ا?ئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔گزشتہ روز حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اعلان کیا تھا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے وزیراعظم سے متعلق بیان کے خلاف عدالت جائیں گے تاہم اب حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے جے یو آئی سے مذاکرات کرنے کا مو¿قف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس میں مشورہ دیا کہ ہمیں سنجیدگی سے مولانا کے ساتھ مذاکرات کرکے حل نکالنا چاہیے اور بات چیت کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان ابھی تک اپنے معاہدہ پر قائم ہیں تو ہمیں بات کرنی چاہیے، ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اس دوران حکومتی کمیٹی کے سربراہ و وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

شجاعت فون

مزید : صفحہ اول