300ارب ٹیکس دینے والا شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے، میئر کراچی 

300ارب ٹیکس دینے والا شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے، میئر کراچی 

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایف بی آر کے سروے کے مطابق کراچی ساڑھے تین سو ارب روپے ٹیکس دینے کے باوجود یہاں کے شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی جبکہ بلدیاتی اداروں کو اتنا مفلوج کر دیا گیا ہے کہ ان کے اختیارات ہی نہیں ہیں کہ وہ بنیادی مسائل حل کرنے کی پوزیشن میں ہوں لہٰذا وفاقی و صوبائی حکومت کو کراچی پر توجہ دینا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ایکسپو سینٹر میں کراچی یونیورسٹی کے محکمہ کامرس کے زیر اہتمام کراچی بزنس اینڈ مینجمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہا کہ 148-Aکے تحت صوبوں نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کرنے ہیں مگر یہاں صوبوں نے تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جبکہ صوبہ بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دے سکتا لہٰذا اٹھارویں ترمیم کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر بہت زیادہ ٹیکس دیتے ہیں مگر ان کے تجارتی علاقوں کی حالت بھی بہتر نہیں۔ این ایف سی ایوارڈ پر تو بہت زور دیا جاتا ہے مگر پی ایف سی نہیں ہو رہی تو کراچی کا حق کیسے ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج سمندر میں ڈال کر ہم ایک بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ اگر حکومت توجہ نہیں دے رہی تو کراچی کے تاجر اور صنعت کار بھی اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔ یہ افسوس کن امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی تاجربرداری ملک میں سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہری ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسائل کے لئے آواز اٹھائیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے مسائل سے غفلت کر کے ہم ملک کے مسائل سے غفلت کر رہے ہیں کیونکہ کراچی کو ترقی دینا ملک کو ترقی دینے کے مترادف ہے۔ کراچی میں ملک کے ہر حصے سے لوگ آباد ہیں۔ دو پورٹ اور بزنس حب ہے اس کو ترقی دے کر ملک کو معاشی مسائل سے نکال سکتے ہیں۔ 

مزید : صفحہ اول