سیاسی مداخلت سے پاک پولیس حکمرانوں کیلئے کڑا امتحان

سیاسی مداخلت سے پاک پولیس حکمرانوں کیلئے کڑا امتحان
سیاسی مداخلت سے پاک پولیس حکمرانوں کیلئے کڑا امتحان

  



مولانا فضل الرحمان کی آزادی مارچ کے قافلے کی لاہور میں آمداور ایک دن قیام کے اعلان پر شہر میں امن و امان کے حوالے سے لاہور پولیس پر بھاری ذمہ داری عائد تھی تاہم سی سی پی او لاہور بی اے ناصر اور ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان نے دھرنے کے شرکاء کے مزاج اور فوری طور پر تبدیل ہوتی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل تیاری کر رکھی تھی لاہور پولیس کی بہترین حکمت عملی کے پیش نظر یہ دشوار مرحلہ بھی آسانی سے گزر گیا ہے۔ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر آئی جی پولیس کے ہمراہ سی سی پی او لاہور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے آزادی مارچ کے جلوس کی نگرانی کرتے رہے جبکہ قافلے کی لاہور میں موجودگی کے دوران شہریوں کی املاک کے تحفظ اور ٹریفک کے ہموار کو یقینی بنانے کے لیے لیے ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان خودفورس کے درمیان چل کر اٹھارہ گھنٹے سے زائد وقت تک ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیتے دکھائی دیے۔ پرہجوم حالات پر قابو پا نے کے لیے شہر میں کئی ایک سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند بھی کر نا پڑا جو کہ شہر یوں کے لیے یہ اوقات کسی بڑی تکلیف اور پو لیس کے لیے یہ کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہو تے تاہم ماضی کے برعکس اس بار لاہور پولیس کی سیکورٹی نہایت بہتر اور منظم نظر آئی۔ ہر سال اجتماع میں لاکھوں افراد کی شرکت کے باعث مشکوک افراد کی شمولیت کو روکنے کے لیے پولیس کو نہایت اعلی سطح کے فول پروف انتظامات کرناپڑے۔ اجتماع میں شریک ہونے والے افراد کو بائیومیٹرک مشینوں کی مدد سے چیکنگ کے بعد اجتماع میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی اور اس کے لیے ٹریفک پولیس سمیت پولیس کی بھاری بھر فورس کو وہاں تعینات کیا گیا۔

الحمد للہ اجتماع کا پہلا مرحلہ بھی خیرو عافیت سے گز ر گیا ہے اور اب پو لیس کو 12 ربیع الاول کی سکیورٹی کے لیے خود کو میدان میں اتارنے کی ابھی سے تیاری کر نا ہو گی۔ سی سی پی او لا ہور بی اے ناصر اورڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کی دیانتداری کے بارے میں تو سبھی لوگ شاید نہ جانتے ہوں اْن کی انسان دوستی کے قصے مگر زبان زد عام ہیں۔ کاش ایسی ہی تقرری پنجاب پولیس کے ہر اضلاع میں کردی جائے۔ تو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق پنجاب پو لیس میں سو فیصد تبدیلی لا ئی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی، اداروں کو سیاسی مداخلت و بدعنوانی سے پاک اور اَمن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنا بڑے چیلنچز ہیں جن کو قبول کر کے سو فیصد عملدرآمد کرانا اس سے بڑا چیلنج ہے۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب کسی ادارے کاسربراہ ایماندار، محنتی اور نیت کا صاف ہو۔ اگرمحکمہ پولیس کی بات کی جائے تو دورِحاضر میں پولیس نظام میں اصلاحات کی اَشد ضرورت ہے۔ اصلاحات کے ذریعے نظام کی تبدیلی کا تعلق محض بیانات نہیں بلکہ عمل سے ہے۔اگر کوئی کام ٹھیک ہو جائے تو اس کا کبھی ذکر نہیں ہوتا حالانکہ اس میں کتنی ہی محنت کیوں نہ کرنی پڑی ہو۔لیکن اس سب کے باوجود اس پولیس فورس میں بہت جرات مند اور بہادر پولیس والے ہیں۔ لا ہور پولیس مختلف خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے تھریٹس کے باوجود خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لا ہورکے باسیوں کی جان و مال کا تحفظ کررہی ہے۔

کئی اہم مواقعوں اورمقدمات میں خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی بارے اطلاعات اورلا ہور پولیس کی جانب سے ثابت قدمی سے ان تمام چیلنجز کو قبول کر کے کامیابی حاصل کرنے پراشفاق احمد خان سیلوٹ کی حقدار ہیں۔ اگرلا ہور میں پولیس اصلاحات کی بات کی جائے تو تمام افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی شہری کو انصاف دیتے ہوئے کسی قسم کا سیاسی، ذاتی یا محکمانہ دباؤلینے کی بالکل ضرورت نہیں بلکہ ٹرانسپیرنسی اور سو فیصد میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ضلع کی پولیس کی قیادت سے لے کر اہلکاروں تک اپنی جان پر کھیل کر دن رات شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مصروف ہے تو عوام پر پولیس کے حوالہ سے کیا حقوق فائز ہوتے ہیں؟

تب تک ایک معاشرہ ترقی نہیں پا سکتا جب تک وہاں قانون کی حکمرانی اور عام آدمی تک انصاف کی فراہمی نہ ہو۔ ایسے ہی ہمیں محکمہ پولیس کو اپنا سمجھنا چاہئے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپاہ کے بہادر سپاہیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔سی سی پی او لا ہور بی اے ناصر اور ڈی آئی جی آپریشن کی شخصیت ایک دوست، پولیس آفیسر، ادیب، دانشور ور محب الوطن کی حثیت سے ہمارے دل میں ہے۔انکی بہادری، جرات، سچائی، راستگوئی، دردمندی اورحب الوطنی سے سب واقف ہیں۔ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کا خمیر مارکیٹ میں نہیں پایا جاتا،لا ہور پولیس نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے جس کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم