کسی بھی نیٹو رکن نے ترکی جتنے دہشت گردی کے حملوں کا سامنا نہیں کیا: اسٹالٹن برگ

کسی بھی نیٹو رکن نے ترکی جتنے دہشت گردی کے حملوں کا سامنا نہیں کیا: اسٹالٹن ...

  



برسلز(آئی این پی) نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ کسی بھی نیٹو رکن ملک نے ترکی جتنے دہشت گردی کے حملوں کا سامنا نہیں کیا۔اسٹالٹن برگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے شمال میں تشدد  میں کمی کا آغاز ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں بحران کے سیاسی حل کی کوششیں  شروع ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا ہے کہ اس بات کو قبول کرنا ضروری ہے کہ نیٹو ترکی کا ایک اہم اتحادی ہے۔ ترکی نے داعش کے خلاف جدوجہد اور نام نہاد خلافت کے خاتمے میں ایک مصمم کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی نیٹو کے رکن ملک نے ترکی جتنے شامی مہاجرین کو پناہ نہیں دی۔ ترکی نے 3.6 ملین شامی مہاجرین کو پناہ دی اور یہی نہیں کسی اور نیٹو رکن کو اتنے دہشت گردی کے حملوں کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا ترکی کو کرنا پڑا ہے۔جرمنی کے وزیر دفاع  اینگریٹ کرامپ کارنباور کی طرف سے  شام کے شمال میں بین الاقوامی سیف زون کی تجویز کی یاد دہانی  کروائے جانے پر جینز اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ ہم اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم اس معاملے میں شام میں تشدد کے خاتمے کے لئے تمام عالمی ممالک  پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا  ہے کہ شام میں فوجی بھیجنے کا فیصلہ  کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا اور مذکورہ تجویز کے اطلاق کے بارے میں بھی  کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔جینز اسٹالٹن برگ نے مزید کہا ہے کہ نیٹو ایک ایسا پلیٹ فورم ہے کہ جہاں  رکن ممالک  اپنے افکار کو  کھلے عام اور سنجیدہ شکل میں پیش کر سکتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر