اسرائیلی وزارت خارجہ اور خزانہ میں اختلافات، 100سفارت خانے بد ستور بند

    اسرائیلی وزارت خارجہ اور خزانہ میں اختلافات، 100سفارت خانے بد ستور بند

  



تل ابیب(این این آئی)اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک انوکھا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر میں سو سے زائد سفارت خانوں اور سفارتی مشنوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا،دنیا کے درجنوں ممالک میں سو سے زائد اسرائیلی سفارت خانوں اور سفارتی مشنوں کا عملہ غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کیے ہوئے ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ ہڑتال دراصل اسرائیل کی وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کے مابین تنازعے کا نتیجہ ہے۔ وزارت خارجہ نے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا، اسرائیلی وزارت خزانہ کی طرف سے وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے مابین طویل مدت سے طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کر کے ہمیں دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتی مشن بند کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ قونصلر خدمات پیش نہیں کی جائیں گی اور سفارتی مشنوں کی حدود میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔اس اعلان کے بعد امریکا اور جرمنی سمیت دنیا بھر میں اسرائیلی سفارت خانوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا اور کئی عمارتوں کے باہر ہڑتال کے نوٹس کے آویزاں کر دیے گئے۔اسرائیلی وزارت خزانہ نے دفتر خارجہ کے اہلکاروں پر ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہاکہ وزارت خارجہ کے اہلکاروں کو بھی عام اسرائیلی شہریوں کی طرح ٹیکس ادا کرنا چاہیے ہمیں افسوس ہے کہ اپنی ذاتی حیثیت بہتر بنانے کی کوشش میں وزارت خارجہ کے ملازموں نے ٹیکس ادا نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ غیر ممالک میں تعینات اسرائیلی اہلکار قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔

مزید : عالمی منظر