حضرت حکیم محمدمہرالدین کا عرس

حضرت حکیم محمدمہرالدین کا عرس
حضرت حکیم محمدمہرالدین کا عرس

  



خاندان اولیائے کرام میں ایک معتبر نام جناب حضرت حکیم محمدمہرالدینؒ اظہر المہر شکوری قادری چشتی جہانگیری اور سہروردی کا ہے آپ محلہ شریف پورہ امرتسر کے ایک ممتاز زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی، مڈل کلاس رائے ونڈ سے پاس کی اور میٹرک کا امتحان دہلی سے پاس کیا، بعدازاں حکمت کا شوق پیدا ہوا تو براعظم ایشیا کے مشہور نامور حکیم محمد اجمل خاں کی شاگردی میں چلے گئے، وہاں سے فارغ ہوکر امرتسر میں مطب کھولا، میاں چنوں شریف کے دین محمد منہاس عرف بابا دینا امرتسر دوائیوں اور علاج معالجے کے سلسلے میں جاتے رہتے تھے۔ بابا دینا منہاس کی برادری اب بھی میاں چنوں شریف میں آباد ہے۔ بابا دینا اپنے اثرو رسوخ سے انہیں امرتسر سے میاں چنوں لے آئے تو حکیم محمد مہرالدینؒ نے متھرداس ہندو سے دوکان کرایہ پر لیکر مطب قائم کیا اور حکمت شروع کی اور زندگی کے آخری وقت تک آپ حکمت کرکے بیماروں کو شفاء دلواتے رہے، چونکہ آپ کا بنیادی طور پر ایک دینی گھرانے سے بھی تعلق تھا اور والد محترم بھی ولی اللہ تھے۔ دادا بھی متقی پرہیزگار بندے تھے اس لئے آپ کو بھی کسی مرد کامل کی تلاش تھی ادھر سرکار تاج الاولیاء حضرت قبلہ عبدالشکورؒ قادری چشتی جہانگیری سہروردی چک نمبر14/8R گل آباد نزد کچا کھوہ آتے رہتے تھے۔ جب آپ کو ان کے آنے کا علم ہوا تو آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پہلی ملاقات میں ولی کامل کے گرویدہ ہوگئے۔ بعد میں آستانہ عالیہ پر حاضری کے لئے سکندر آباد راجستھان (انڈیا) جاتے رہے اور پھر عبادت و ریاضت اور درود و وظائف میں اس قد مگن ہوئے کہ باقی دنیا کے امور پیچھے رہ گئے اور جلد ہی پیرمرشد نے خرقہ خلافت سے نوازہ اور علاقے میں تبلیغی امور کے لئے مقرر ہوئے۔ اس طرح سلسلہ خلافت عطا ہوا اور سلسلہ مہرویہ شکوری وجود میں آیا پھر آپ نے ملک کے دور دراز علاقوں میں تبلیغ شروع کی جس میں میاں چنوں شریف شہر سے وہاڑی 20WB میں حضرت محمد عبداللہ شاہؒ کو اپنے مریدوں میں شامل کیا۔

آپ نے اپنے 6 خلیفے مقرر کئے تھے ان کو خلافت عطا کی۔ جس میں سب سے پہلے حضرت مولوی محمد عبداللہ شاہؒ 20WB وہاڑی، حضرت پیر محمد اسحاق شاہ کو پتوکی حسین خاں والا میں ان کے والد محترم کے حصے کا انعام فرمایا۔ ان کے والد محترم خلافت حاصل کرنے سے پہلے ہی رحلت فرما گئے تھے۔ حضرت بابا کرم علی شاہؒ آف کوٹلہ نزد چیچہ وطنی میں ان کی رہائش تھی، آپ بابا جی محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔ حضرت پیر محمد عثمان شاہؒ کا تعلق ساکن کریال موجودہ تحصیل ظفروال سے تھا جو اب محلہ مسلم ٹاؤن شکر گڑھ نور کوٹ روڈ پر رہائش پذیر ہیں۔ حضرت جلال دینؒ ننکانہ صاحب کے رہائشی تھے۔ حضرت چراغ دین شاہؒ فیصل آباد میں رہائش پذیر تھے۔ ان تمام خلیفہ حضرات کے پاس حضرت پیرومرشد تشریف لے جاتے تھے چونکہ تمام حضرات اپنے اپنے عرس مبارک مقررہ تاریخ پر مناتے تھے جو مقررہ مہینہ کی 6,5,4تاریخ ہوتی تھی۔ یہ روایت اب تک قائم ہے۔ مقررہ تاریخوں پر عرس مبارک منائے جاتے ہیں۔ اسی لحاظ سے ملک کے بیشمار علاقوں میں آپ کے مریدین حضرات موجود ہیں۔ جو اپنے اپنے پیرومرشد کی ہدایت پر عرس مناتے ہیں اور آخری نبی حضرت محمدﷺ کے احکامات کو مسلمانوں میں پھیلانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔

پیرومرشد حکیم محمد مہر الدینؒ کی پیدائش 1863ء بتائی گئی ہے۔ آپ نے 22 ستمبر 1981ء کو رحلت فرمائی، اور اس دنیائے فانی سے حکم خداوندی کے تحت پردہ فرمایا۔ آپ حضرت حکیم صاحب 1925ء کو میاں چنوں شریف تشریف لائے تھے جبکہ شنید ہے کہ میاں چنوں شریف کا ریلوے اسٹیشن بھی غالباً 1925ء میں بنا تھا۔ یہ ریلوے اسٹیشن انگریز دور میں اللہ کے ایک پاک ولی حضرت میاں چنوں ؒ کے نام پر قائم ہوا تھا اس وقت کی سٹوری ہے کہ یہاں ریلوے کی گاڑیاں رکتی نہیں تھیں توعوام کے پر زور اصرار پر بابا جی نے اللہ کے حکم پر گاڑیوں کو رکنے کا کہا، یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ بہرحال اس طرح آپ کی عمر مبارک 118سال بنتی تھی، یہ عمر کا حساب کتاب ان کے بھائی مرحوم وزیر علی نے بتایا تھا۔ بذریعہ محمد سلیم ولد کمال دین جو آپ کے رشتے دار تھے آپ کے ساتھ ہی رہتے تھے آج بھی اللہ کے فضل و کرم سے ملک کے کونے کونے میں سلسلہ پاک کے مریدین حضرات موجود ہیں۔ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سرکار کا عرس مناتے ہیں۔

حضرت حکیم محمد مہرالدین شاہؒ شکوری قادری چشتی کے عرس مبارک خصوصاً وہاڑی، شکر گڑھ، قصور، ملتان، مظفر گڑھ، راجن پور، پتوکی، فیصل آباد، قلعہ دیدار سنگھ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، قائدآباد، راولپنڈی اور ملک کے دوسرے حصوں میں منائے جاتے ہیں۔ جن میں محفل سماع کی محفلیں ہوتی ہیں۔ حضرت حکیم محمد مہرالدینؒ اظہر مہر جہاں شکوری چشتی قادری کی اولاد میں حضرت حکیم محمد سعیدؒ مرحوم کے بیٹے حضرت غلام نبیؒ مرحوم،حضرت محمد ریاضؒ مرحوم، محمد سرفراز اور محمد اعجاز احمدؒ مرحوم اور محمد جاویدؒ مرحوم بیٹے تھے۔ اب آپ کے پوتے سجادہ نشین حضرت محمد وقاص اعجازمہروی شکوری ہیں ان کی قیادت میں جو کہ حضرت اعجازاحمدؒ کے صاحبزادے ہیں 39عرس مبارک حضرت حکیم صاحب (آپ کا) اور 4عرس مبارک حضرت محمد اعجاز احمدؒ نقیب مہروی کا بمقام کاشنہ شکوری نشتر روڈ میاں چنوں (ضلع خانیوال) پر مورخہ 6,5,4نومبر کو منعقد ہوگا۔ جس میں محفل سماع اور علمائے کرام کا وعظ بھی شامل ہوگا۔ اس عرس مبارک پر افسوسناک خبر یہ ہے کہ آپ کے خلیفہ حضرت پیر محمد عثمان شاہؒ کی اہلیہ ڈاکٹر محمد احمد کی والدہ محترمہ اور حاجی محمد انور صوفی کی چچی جان رحلت فرما گئی ہیں جو کہ بہت ہی نیک شعار اور دین دار خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ سب سلسلہ پاک کی مشترکہ افسوسناک خبر ہے اس لئے عرس پاک کی خبر میں شامل کی ہے۔

مزید : رائے /کالم