سینئر صحافی حامد میر دراصل کس خاتون کا ٹیلیفون آنے کے بعد آزادی مارچ کے دھرنے میں گئے ؟ خود ہی بڑا انکشاف کر دیا

سینئر صحافی حامد میر دراصل کس خاتون کا ٹیلیفون آنے کے بعد آزادی مارچ کے دھرنے ...
سینئر صحافی حامد میر دراصل کس خاتون کا ٹیلیفون آنے کے بعد آزادی مارچ کے دھرنے میں گئے ؟ خود ہی بڑا انکشاف کر دیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے تین روز قبل آزادی مارچ کے اسلام آباد میں جاری دھرنے کادورہ کیا جہاں انہوں نے سٹیج سے مختصر خطاب کرتے ہوئے خواتین کو جلسے کی کوریج کی اجازت دینے پر جے یو آئی ایف کا شکریہ بھی ادا کیا

تاہم اب ان کے دھرنے میں جانے اور مطالبہ کرنے کے پیچھے اصل وجہ انہوں نے اپنے آج کے جنگ نیوز میں شائع ہونے والے کالم میں بیان کر دی ہے ۔

حامد میر نے اپنے کالم میں احوال بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ایک خاتون صحافی نے مجھے فون پر شکایت کی کہ وہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کی کوریج کے لئے پشاور موڑ گئی لیکن وہاں جلسہ گاہ کی انٹرینس پر موجود خاکی وردی میں ملبوس باریش نوجوانوں نے بڑے درشت انداز میں کہا کہ ”زنانی اندر نہیں جا سکتا“۔خاتون صحافی نے کہا کہ میرے ساتھ جانے والے کیمرہ مین نے انہیں بتایا کہ یہ زنانی نہیں صحافی ہے جس پر ایک مولوی نے ڈنڈا لہرا کر کہا کہ بحث مت کرو یہاں سے غائب ہو جاﺅ اور کیمرہ مین کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔

حامد میر کے مطابق میں نے اپنی اس صحافی بہن کی شکایت سن کر کہا کہ آپ نیشنل پریس کلب یا راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے کسی عہدیدار کو بتائیں، میں بھی ان سے رابطہ کرتا ہوں لیکن خاتون نے مزید غصے میں کہا آپ ہمارے استاد بھی ہیں، بڑے بھائی بھی ہیں، آپ آزادی صحافت کے لئے ہمیشہ آواز اٹھاتے ہیں، آپ آزادی مارچ میں خواتین صحافیوں کے داخلے پر پابندی کے خلاف ابھی اسی وقت ٹویٹ کریں۔ میں نے اپنی اس بہن کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے کہا کہ فکر نہ کرو ٹویٹ بھی کروں گا اور آزادی مارچ والوں کے خلاف مظاہرہ بھی کروں گا۔

حامد میر کے مطابق یہ جمعہ کا دن تھا اور میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے کھدر کی شلوار قمیص پہن کر گھر سے روانہ ہو رہا تھا۔ خاتون صحافی کی شکایت س±ن کر میں نے نیشنل پریس کلب کے ایک عہدیدار صغیر چوہدری کو فون کیا۔وہ آزادی مارچ میں موجود تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں آپ کی طرف آ رہا ہوں۔ جیسے ہی میں وہاں پہنچا تو انہوں نے بھی تھوڑی دیر پہلے ایک خاتون اینکر کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔

میں نے جلسہ گاہ میں داخل ہوتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو ایک میسج بھجوایا کہ آپ کے لوگ خواتین صحافیوں کو جلسہ گاہ میں داخل نہیں ہونے دے رہے۔ مولانا نے فوری طور پر جواب میں کہا کہ ابھی یہ مسئلہ حل کرتے ہیں۔چند منٹ کے اندر آزادی مارچ کے اسٹیج سے مولانا عبدالغفور حیدری نے اعلان کر دیا کہ یہاں خواتین کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، خواتین کا احترام کیا جائے۔

پھر خاکی وردی میں ملبوس انصار الاسلام کے سالار آئے انہوں نے کہا کہ ہم معذرت خواہ ہیں آپ اسٹیج سے جا کر خود اعلان کر دیں۔ میں نے اسٹیج پر جا کر اعلان کر دیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہماری شکایت دور کر دی ہے، ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان کے میڈیا پر حکومت نے کئی پابندیاں لگا رکھی، ہیں امید ہے اپوزیشن ہم پر پابندیاں لگانے کے بجائے ہماری آواز بنے گی۔

مزید : قومی