دنیامودی حکومت سے پوچھ رہی ہے شہریوں کومحصورکرنا کیسے جمہوریت ہوسکتی ہے،خلیجی اخبار میں شائع مضمون میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

دنیامودی حکومت سے پوچھ رہی ہے شہریوں کومحصورکرنا کیسے جمہوریت ہوسکتی ...
دنیامودی حکومت سے پوچھ رہی ہے شہریوں کومحصورکرنا کیسے جمہوریت ہوسکتی ہے،خلیجی اخبار میں شائع مضمون میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

  



دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن)دفعہ 370کے خاتمے کے بھارتی فیصلے سے تنازعہ کشمیربین الاقوامی توجہ کامرکزبن گیا،دنیامودی حکومت سے پوچھ رہی ہے شہریوں کومحصورکرنا کیسے جمہوریت ہوسکتی ہے،مودی حکومت کے پاس مسلم اکثریتی علاقے جموں وکشمیر کیلئے کوئی حتمی حل نہیں۔

خلیجی اخبار میں شائع مضمون میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیا گیاہے،خلیجی اخبار میں لکھا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن مسلسل جاری اور لوگوں کو انٹرنیٹ تک کوئی رسائی نہیں ہے،دنیامودی حکومت سے پوچھ رہی ہے شہریوں کومحصورکرنا کیسے جمہوریت ہوسکتی ہے،مودی حکومت کے پاس مسلم اکثریتی علاقے جموں وکشمیر کیلئے کوئی حتمی حل نہیں،خلیجی اخبارمیں لکھا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بھارتی فیصلے سے تنازعہ کشمیربین الاقوامی توجہ کامرکزبن گیا، انتہائی دائیں بازوکے ارکان یورپی پارلیمنٹ کادورہ کشمیرخارجہ پالیسی کےلئے تباہ کن ہے،جرمن چانسلرنے کہاکشمیرکی صورتحال غیرمستحکم ہے اورلاک ڈاؤن اچھا اقدام نہیں۔

مزید : بین الاقوامی