مولانا فضل الرحمان کی آزادی تحریک کے دھرنے سے خطاب کے دوران آنکھیں بھر آئیں

مولانا فضل الرحمان کی آزادی تحریک کے دھرنے سے خطاب کے دوران آنکھیں بھر آئیں
مولانا فضل الرحمان کی آزادی تحریک کے دھرنے سے خطاب کے دوران آنکھیں بھر آئیں

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے دھرنے سے تقریر کے دوران جہاں اپنی خطابت کے جوہر دکھائے اپنے مخالفین پر علامتی جملوں اور فقروں سے ان کا نام لئے بغیر ان کی تنقید اور الزامات کے جواب دیئے ہیں وہیں انہوں نے شرکا کی بہت بڑی تعدادسے اس بات کا عہد بھی لیا کہ وہ اپنے امیر کے حکم کی اطاعت کریں گے۔ جس کا جواب شرکا نے انتہائی گرمجوشی سے ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے نعروں کی گونج میں دیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے شرکا کا بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں آپ سے یہاں 6 ماہ رکنے کیلئے کہوں گا تو آپ ایک سال یہاں بیٹھیں گے۔ جتنا آپ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ مجھے آپ پر اعتماد ہے۔ آپ کھلے آسمان تلے جس طرح یہاں موجود ہیں میں آپ کی یہ محبت اور مقصد سے وابستگی کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔

شرکا کے لیے ستائش اور شکرگزاری کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی آواز روند گئی گو کہ پوری جلسہ گاہ کارکنوں کے دیوانہ وار نعروں سے گونج رہی تھی لیکن اسٹیج پر سکوت طاری ہوگیا محمود خان اچکزئی جو ان کے ساتھ کھڑے تھے انہوں نے مولانا کا ہاتھ تھام لیا۔

دوسری طرف انس نورانی بھی مولانا کو حوصلہ دینے کیلئے ان کے قریب آگئے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد مولانا نے خود پر قابو پایا اور سلسلہ کلام کا آغاز کیا۔ مولانا کے قریبی رفقا جن میں مولانا امجد جو وہیں پر موجود تھے انہوں نے بتایا کہ مولانا بہت مضبوط اعصاب کی شخصیت ہیں ہم نے پوری زندگی میں انہیں اس کیفیت میں نہیں دیکھا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد