جس جج کیخلاف ریفرنس ہووہ سوالات کیسے اٹھا سکتا ہے ؟،جسٹس منیب اختر کا جسٹس فائز عیسیٰ کی درخواست پر استفسار

جس جج کیخلاف ریفرنس ہووہ سوالات کیسے اٹھا سکتا ہے ؟،جسٹس منیب اختر کا جسٹس ...
جس جج کیخلاف ریفرنس ہووہ سوالات کیسے اٹھا سکتا ہے ؟،جسٹس منیب اختر کا جسٹس فائز عیسیٰ کی درخواست پر استفسار

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس جج کیخلاف ریفرنس ہووہ سوالات کیسے اٹھا سکتا ہے ؟۔

نجی ٹی وی جی این این نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی توجہ افتخار چودھری کیس کے فیصلے کے پیراگراف 64 اور 70 کی طرف دلاﺅنگا ،پیرا64 میں ریفرنس دائر ہونے سے پہلے 5 اقدامات واضح کئے گئے ہیں،ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 209سپریم کورٹ کے جائزہ لینے اختیار کو ختم نہیں کرتا ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ افتخار چودھری کیس میں کہاں لکھا ہے کونسل ریفرنس سے پہلے مراحل کا جائزہ نہیں لے سکتی ،وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ کونسل ریفرنس بھیجنے میں بدنیتی کے پہلو کا جائزہ نہیں لے سکتی ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر کونسل سمجھے ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے تو کیا کونسل اس پر اپنی رائے نہیں دے گی ؟آپ جوڈیشل کونسل کے اختیار کو محدود کررہے ہیں ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کونسل کے سامنے بھی اس کیس کے نکات اٹھائے گئے ،فیکٹ فائنڈنگ کے فورم کے پاس یقینی طور پر اختیارت کم ہوتے ہیں ۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا کونسل بدنیتی پرمس کنڈکٹ پردائر ریفرنس خارج کردے؟ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پرکونسل نے اپنی رائے دینا ہوتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کونسل یہ کہہ سکتی ہے کہ ریفرنس غلط بھیجا گیا،آرٹیکل 209 کے تحت مناسب شواہد کی تسلی ہونے پر صدر ریفرنس کونسل کو بھیجے گا ،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ جس جج کیخلاف ریفرنس ہووہ سوالات کیسے اٹھا سکتا ہے ؟۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد