اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایاہے کہ جے یو آئی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، مولانا فضل الرحمان

اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایاہے کہ جے یو آئی کو تنہا نہیں چھوڑیں ...
اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایاہے کہ جے یو آئی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، مولانا فضل الرحمان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ ہم اپنے مقصد کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، پاکستان کے تمام ادارے اس وقت اضطراب میں ہیں، پاکستان بحران کا شکارہے ، عمران خان سلیکٹڈ سے ریجکٹڈ ہوگئے ہیں،مذہبی بنیاد پر قوم کوتقسیم کرنا مغرب کی سازش ہے ، جتنا وقت حکومت کوملے گا ، اس کا ایک ایک دن زوال کی طرف جائے گا ، نااہل حکومت کے ہوتے کچھ بھی نہیں ہوسکتا ، اپوزیشن نے کہاہے کہ اجتماع اٹھنے کا فیصلہ ہم کریں گے ۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ہم جومقصد لیکر آئے ہیں ، اس مقصد کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، آج حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا ، تمام سیاسی جماعتوں نے آپ کو خراج تحسین پیش کیاہے اور جس انداز میں آپ کو پذیرائی بخشی ہے ،شائد میں نے تاریخ میں اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے ایسی تعریف نہیں سنی ۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مجھے یقین دلایاہے کہ ہم جے یوآئی کوتنہا نہیں چھوڑیں گے اور آپ کے شابہ بشانہ چلتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، آج یہ بات بھی دم توڑ گئی ہے کہ دیگر سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ حزب اختلاف کے تمام قائدین نے متفقہ طور پر کہاہے کہ اس اجتماع کے اٹھنے کا فیصلہ ہم نے کرناہے ، آپ نے نہیں کرنا ۔ آپ جو کل تھوڑا مایوسی شکار ہورہے تھے ، وہ صورتحال اب نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میرے دوستوعجیب صورتحال ہے 2014میں ایک دھرنا دیا گیا، اس وقت تمام سیاسی جماعتیں حکومت میں ایک طرف تھیں اور وہ کم بخت ایک طرف تھا اور آج بھی جب تمام سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ایک طرف ہیں ، وہ کم بخت حکومت میں اکیلا ہے ، اس سے لگتاہے کہ یہ عوام کانمائندہ نہیں تھا، یہ کس کا نمائندہ ہے پتہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب معاملہ سلیکٹڈ سے آگے نکل گیاہے ، اب یہ ریجکٹڈہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچتاتھا کہ شائد مودی میرے لئے رحمت کا ذریعہ بنے گا اور سوچتا تھا کہ جب مودی کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہوجائیگا اور آج جوحل ہواہے یہ اسی سودا بازی کانتیجہ ہے ۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج جب کشمیری عوام خود کوتنہا محسوس کررہے ہیں ، میں اس پلیٹ فارم سے کہہ رہاہوں کہ پاکستان کے عوام کبھی بھی آپ کوتنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ آزادی کی جدوجہد میں آپ کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع مزدور ، کسان ، بیروزگار نوجوان اور چھوٹے دکاندار کوامید دلا رہاہے ، اللہ کرے کے ہم ان کی امیدوں پر پورا اتر سکیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومت کے ہر گزرتے دن کے ساتھ زوال کی طرف جارہے ہیں، پچھلی حکومتوں نے ستر سال میں جتنے قرضے لئے تھے ، اس حکومت نے ایک سال میں اس ملک کو اتنے قرضے میں جکڑ دیاہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کو جتنا وقت دیا جائے گا ، اس کا ایک ایک دن پاکستان کے زوال کادن ہوگا، ہم اس کو مزید وقت نہیں دیناچاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی ناکام ہے اورداخلی سطح پر بھی یہ ناکام ہوئے ہیں، ہم پاکستان کوعالمی تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے تمام ادارے اضطراب میں ہیں اور ہم بھی اضطراب میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک مذاکراتی کمیٹی بناکر بھیج دی ہے جس نے کہا کہ ہم ایک شرط لگا کر مذاکرات کرناچاہتے ہیں لیکن ہم نے کہا کہ مدعی ہم اور مطالبے ہم نے کرنے ہیں نہ کہ تم نے شرط لگاکر مذاکرات کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتاہے کہ یہ مذہبی لوگ ہیں ، یہا ں خواتین کو نہیںآنا دیا جاتا ، میڈیا میں کام کرنے والی خواتین سے پوچھو ، ان کوکتنا احترام دیا جارہاہے جس کا ان کی جانب سے اعتراف کیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ خواتین کو شریعت کے مطابق اس کاحق دیا جائے تو وہ کبھی بھی محرومی کا شکار نہیں ہوتیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوجانا ہوگا ، جائے بغیر بات نہیں بنے گی ، ناجائزحکومت کے ہوتے ہوئے معاملات بہتر نہیں ہوسکتے ، بہت سی چیزیں ہمارے علم میں آرہی ہیں لیکن ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، ہمیں اسی رویے اور تحمل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ،پور ی قوم کوایک صف میں لاناہوگا ۔یہ ناجائزحکمران جتنی جلدی جائے گا ، اتنی جلدی ہی اضطراب کاخاتمہ ہوگا ، ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور فیصلہ اپوزیشن نے کرناہے کہ ہم نے کب تک یہاں بیٹھناہے اور کب اٹھنا ہے ؟ انہوں نے مجمع سے کہا کہ کھسکنا شروع نہیں کرنا بلکہ جس استقامت اور غیرت کے ساتھ آپ یہاں آئے ہیں ، اسی استقامت اورغیرت کے ساتھ یہاں بیٹھنا ہے اوراپوزیشن کی قیادت کے فیصلے کا انتظار کرناہے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی