مائل بہ تصادم چین اور امریکہ کا تقابلی جائزہ 

مائل بہ تصادم چین اور امریکہ کا تقابلی جائزہ 
مائل بہ تصادم چین اور امریکہ کا تقابلی جائزہ 

  

جیسے جیسے 2020ء اختتام کو پہنچ رہا ہے، دنیا بھر کی امیر اور غریب اقوام مختلف چیلنجوں اور مسائل کا شکار ہیں۔ معاشی بدحالی، وبائی مرض کورونا، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل ہر جگہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے موجودہ سال کو '' لاک ڈاؤن کا سال'' قرار دیا ہے۔ اس افراتفری میں، ایک اور بات بھی انتہائی قابلِ ذکر ہے جو اتنی ہی اہم ہے اور وہ ہے دنیا کی دو سپر پاورز چین اور امریکہ کے مابین جیو سٹریٹجک مقابلے کی فضا۔ ان دونوں اقوام کے مابین طاقت کی جدوجہد کا پوری دنیا پر اثر پڑتا ہے۔ ان دونوں ممالک کے لئے براہ ِراست محاذ آرائی سے گریز بہت ضروری ہے جو دنیا کے بہت سے حصوں میں تباہی مچا دے گی۔ تحمل، سفارتکاری، مشاورت اور تاریخ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ عظیم فلسفی ہیگل کے مطابق:  ”جو لوگ اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھتے، وہ اسے دہراتے ہیں“…… اگر چین اور امریکہ کے مابین کشمکش بے لگام ہو گئی تو دنیا کا کیا حشر ہوگا؟ باقی دنیا پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ یہ وہ کلیدی سوالات ہیں جو دنیا کے تمام سوچنے والے ذہنوں کے لئے ٹاپ ایجنڈا ہونے چاہئیں۔

تاریخی حوالے سے ہم واضح طور پر چین کو امریکہ سے آگے نکلتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین، محققین اور تجزیہ کار متفق ہیں کہ موجودہ شرح سے چین 10 سے 15 سال کی مدت میں جی ڈی پی، جی این پی اور فوجی طاقت میں امریکہ کو بہت پیچھے چھوڑ دے گا۔ مشہور مصنف کشور محبوبانی کے مطابق چین پہلے ہی جیت رہا ہے اور اس میں ہم سب کے لئے سبق موجود ہے۔ بہت سارے محققین جو کچھ دیکھنے میں ناکام ہیں، وہ اس مقابلے سے معاشرتی، جذباتی اور انسانی حوالوں سے نتائج اخذ نہیں کر پا رہے۔ جب بھی ایک سپر پاور دوسرے سے آگے بڑھتی ہے، اس کے بعد دشمنی اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ ذرا تصور میں ماضی میں جائیں اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں مغل سلطنت کی تباہی کا مشاہدہ کریں جو جدوجہدِ برصغیر کا سب سے خوفناک باب ہے۔ مغل سلطنت ختم ہونے کی وجہ سے جنگیں، بغاوت، قحط، نقل مکانی، انحطاط، لاقانونیت اور اجتماعی قتل عام ہو ئے۔ اس سے پہلے، پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر جرمنی اور ترک عثمانی سلطنت کے تحلیل ہونے سے بہت ساری اقوام کے کے لئے خوفناک حالات پیدا ہوئے۔ نئی ابھرتی ہوئی طاقتوں نے بے رحمانہ سلوک کا مظاہرہ کیا جو اب تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ تاریخ سے اس طرح کی ان گنت مثالوں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ جب بھی ایک سپر پاور دوسرے کو شکست دیتی ہے، تکلیفیں اور مشکلات جنم لیتی ہیں۔ دنیا کو یہ سمجھنا اور اکٹھا ہونا چاہئے کہ چین اور امریکہ کے معاملے میں ہر قیمت پر اس قسم کی مصیبت سے بچنا ہے۔

چین امریکہ جیو پولیٹیکل مقابلے کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا عالمی اثر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ چین کو زیر کرنے کے لئے بہت آگے تک چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کورونا کو ''چینی وائرس'' کہا۔ امریکی حکومت نے بار بار چین پر الزام لگایا کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ متوقع نتائج نہ ملنے پر، امریکی انتظامیہ نے ڈبلیو ایچ او کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل امریکی حکومت نے چینی برآمدات پر پابندیاں لگائیں اور ہانگ کانگ اور تائیوان میں چین مخالف گروپوں کی کھل کر حمایت کی۔ بحیرہ جنوبی چین کے تنازعہ میں امریکہ چین پر مؤقف کو تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کے لئے فوجی موجودگی پر غور کر رہا ہے، جس کا امکان بہت کم  ہے۔ دوسری طرف چین اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے۔ چین نے کئی سفارتی محاذوں پر امریکہ کو ''بدمعاش'' کہا ہے۔ چینی حکام بین الاقوامی منڈی سے ڈالر کو ختم کرنے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ورلڈ بینک نے 2020ء کے وسط میں ایک رپورٹ جاری کی تھی کہ 2025ء تک چینی کرنسی ڈالر کی بجائے ریزرو کرنسی بن جائے گی۔ بہت ساری قومیں فریقین کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں یا انہیں مستقبل میں ایسا کرنا پڑے گا۔ چین کے نئی معاشی طاقت کے طور پر ابھرتے ہی بہت سارے یورپی، وسط ایشیائی اور افریقی ممالک کی سرمایہ کاری اور معاشی امکانات خطرات سے دو چار ہو ں گے۔ چین دنیا کے ہر حصے میں اتحاد کررہا ہے۔ برکس، او بو ر اور سی پیک اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی واضح مثال پیش کر رہے ہیں۔ بیجنگ ورلڈ نیشن ایکسپو 2019ء نے کئی دہائیوں سے امریکہ میں ہونے والے کسی بھی دوسرے پروگرام کے مقابلے میں زیادہ ممالک کو اپنی طرف راغب کیا۔ دوسری طرف امریکہ فوجی اتحاد پرتوجہ مرکوزرکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے فوجی مشقیں کرنے اور چین کے خلاف طاقت کے اتحادی ظاہر کرنے کے لئے ہندوستان، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ ان تمام سرگرمیوں میں،وہ یہ بھول گیا ہے کہ ہم سب ایک ہی سیارے پر رہتے ہیں۔

آگے بڑھنے کے لیے آگ سے آگ کے ساتھ لڑا جا رہا ہے، جبکہ عام طور پر پانی سے آگ بجھانے کا کام لیا جاتا ہے۔ امریکہ چین طاقت کی کشمکش خطرناک راستے پر ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی طویل المیعاد حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ تصادم کا ماحول بن چکا ہے جو دنیا بھر کو متاثر کر رہا ہے۔ نیشنلزم اور انفرادیت پسندی عروج پر ہے، بالکل اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے جنونی قوم پرست سوویت یونین اور امریکہ کے مابین سرد جنگ کی طرح، اس کا نتیجہ بھی بے سود ہوگا۔ چین ابھی تک طاقت حاصل کرنے والا نیا ملک ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ محاذ آرائی کی طرف راغب ہونے کی بجائے تاریخی مثالوں سے سبق سیکھے۔ تبدیلی ناگزیر ہے، پیشرفت اختیاری ہے۔ امریکہ کو چینی حکومت کے ''مشاورتی انداز'' کی صلاحیت کا احساس کرنا چاہئے۔ چونکہ پاکستان اور ایران اب او بو ر میں کلیدی شراکت دار ہیں، لہٰذا سلک روٹ کے تجارتی راستے میں یورپ کے مزید ممالک دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ ایسے مواقع ہیں جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔

(مصنف جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

مزید :

رائے -کالم -