وزارتِ اطلاعات کھیل نہیں 

وزارتِ اطلاعات کھیل نہیں 
وزارتِ اطلاعات کھیل نہیں 

  

وزارت اطلاعات کو کم از کم موجودہ دورِ حکومت میں تو ایک کھیل سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ یہ کھیل نہیں،بلکہ حکومت کا سب سے حساس شعبہ ہوتا ہے۔ یہی حکومت کا چہرہ بناتا اور بگاڑتا ہے۔ وزیر اطلاعات ایک زمانے میں بہت سوچ سمجھ کر اور کبھی کبھار بوقت ضرورت سامنے آتا تھا۔ اس کی حد درجہ اہمیت ہوتی تھی اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ گویا حکومت کی حقیقی پالیسی کے آئینہ دار ہوتے تھے، لیکن پھر یہ معاملہ بگڑتا چلا گیا۔ پچھلے دور میں سینیٹر پرویز رشید نے اس کا آغاز کیا اور عمران خان پر تنقید کرنے کے لئے بعض اوقات تمام حدیں پار کیں، تاہم صورت حال اتنی خراب نہیں تھی، جتنی تحریک انصاف کی حکومت میں ہوئی۔ وزارت اطلاعات کو اپوزیشن پر تنقید اور بے جا القابات کی مشینری سمجھ لیا گیا،جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اپوزیشن کے ترجمانوں کو جواب دینے میں آسانی ہو گئی۔ جب حکومت کا وزیر اطلاعات اپنی ہر صبح کا آغاز نوازشریف یا آصف علی زرداری پر تنقید سے کرے گا تو جواب میں عمران خان کو ہدف بنانے سے کیسے روکا جا سکے گا؟ مجھے تو دو سوا دو سال میں ایک بار بھی نہیں لگا کر حکومت کے ترجمان یا وزیر و مشیر اطلاعات اس کا مثبت چہرہ اجاگر کرنے کی کوئی پالیسی رکھتے ہیں۔ ہر کوئی اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرنے کو اپنا منصب سمجھتا ہے، جس سے سوائے خرابی کے حکومتِ وقت کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔

مرکز ہو یا صوبہ پنجاب وزارتِ اطلاعات کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی۔ کپتان کے لئے مشکل یہ ہے کہ وہ شیخ رشید جیسے گھاگ قسم کے وزیر اطلاعات نہیں چاہتے، جو وزیر اطلاعات نہ ہونے کے باوجود ہر وقت اپنی پروجیکشن میں مشغول رہتے ہیں۔ انہوں نے اب تک جتنے تجربے کئے ہیں، کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ وفاقی سطح پر شبلی فراز کو یہ منصب دے کر گویا کپتان نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے پاس اس اہم وزارت کے لئے کوئی دانا و بینا موجود نہیں۔ پنجاب میں اطلاعات کی وزارت بھی فٹ بال بنی ہوئی ہے۔ فیاض الحسن چوہان کو جب وزیر اطلاعات بنایا گیا تھا تو تھوڑی تربیت بھی ضروری تھی، مگر وہ سیدھے وزیر بن گئے اور انہوں نے بس تنقید کا لٹھ اٹھا لیا۔ چلیں یہ بھی چل جاتا، مگر وہ تو آپے سے باہر ہو گئے اور ہر شعبہ زندگی کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے لگے۔اس پر تنقید بڑھی تو کپتان نے انہیں وزارت سے ہٹا دیا۔ صمصام بخاری آئے تو ان کا ماٹھا پن انہیں لے ڈوبا۔ اسلم اقبال کے نام قرعہ نکلا تو پتہ چلا وہ صحافیوں سے گفتگو کا مزاج نہیں رکھتے۔ گھوم پھر کر کپتان کی نظر پھر فیاض الحسن چوہان پر آ ٹکی اور انہیں وزارت اطلاعات کا اضافی قلمدان دے دیا گیا…… مگر جس وزیر اطلاعات کو یہ خبط لاحق ہو جائے کہ اس نے ہر وقت اخبارات کی شہ سرخیوں اور ٹی وی کی سکرین پر رہنا ہے، وہ نہ صرف اپنی اوقات بھول جاتا ہے،بلکہ اصل کام بھی اسے یاد نہیں رہتا۔ اب لاہور کا ڈی جی پی آر فیاض الحسن چوہان کی گھڑی گھڑائی ایک خبر لازماً اخبارات کو بھیجتا تھا، جس میں کوئی خبریت تو نہیں ہوتی تھی، البتہ نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کے خلاف زہریلے الفاظ ضرور ہوتے تھے۔ جس شخص کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ روزانہ ایک ہی قسم کے بیانات فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتے ہیں، اسے وزیر اطلاعات کیونکر کہا جا سکتا ہے؟

مجھے یوں لگتا ہے کہ جتنے بھی وزیر اطلاعات بنتے ہیں، انہیں یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ جتنا اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بولیں گے،اتنا ہی کپتان کی نظر میں ان کی نوکری پکی ہو جائے گی، جبکہ عمران خان شاید اس بات کو پسند نہیں کرتے۔ اس کا ثبوت پہلے مرکز سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی مشیر اطلاعات سے چھٹی اور اب فیاض الحسن چوہان کو پنجاب کی وزارتِ اطلاعات سے ہٹانا ہے۔ اگر اپوزیشن پر تنقید کو معیار بنا لیا جائے تو یہ دونوں ہر روز اس ضمن میں پورا زور لگا دیتے تھے، بلکہ بعض اوقات تو تمام حدیں پار کر جاتے تھے، مگر اس کے باوجود کپتان کی گڈبکس میں نہ رہے اور ہٹا دیئے گئے۔اس کا مطلب ہے وزیراعظم عمران خان کے ذہن میں وزیر اطلاعات کا جو خاکہ ہے، یہ دونوں اس پر پورا نہیں اترے۔ البتہ یہ بات حیران کن ہے کہ کپتان بار بار مواقع کیوں دیتے ہیں؟ پہلے فیاض الحسن چوہان کو پنجاب کی وزارتِ اطلاعات کا دوبارہ موقع دیا گیا، اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ان کی جگہ لے آئے ہیں۔پولیس میں یہ بات عام ہے کہ جس کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی، اس کی تنزلی کر دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی بھی ایک لحاظ سے تنزلی ہوئی ہے،وہ وفاقی مشیر اطلاعات سے صوبائی مشیر اطلاعات بن گئی ہیں، تاہم پنجاب کی وزارتِ اطلاعات معمولی نہیں۔سب سے بڑے صوبے کی وزارتِ اطلاعات اپنے مالی مسائل اور حکومتی امیج کو بہتر بنانے کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اس پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا تقرر عمران خان کی اس عادت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بھولتے نہیں اور بار بار مواقع دیتے ہیں۔

اب دیکھتے ہیں وہ اس منصب پر کیا گل کھلاتی ہیں؟ کیا سلسلہ وہیں سے شروع کرتی ہیں، جہاں انہوں نے مرکز میں ختم کیا تھا؟ کیا وہ فیاض الحسن چوہان کی ڈگر پر چلتی ہیں اور حکومتی اوصاف کو بیان کرنے کی بجائے اپنی پروجیکشن کے خبط میں مبتلا ہو جاتی ہیں؟ وزیر یا مشیر اطلاعات کا کام جلتی پر تیل ڈالنا نہیں، بلکہ پانی چھڑکنا ہوتا ہے۔ ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھے تو نقصان حکومت کا ہوتا ہے،اپوزیشن کا نہیں۔ اسی طرح اگر وزیر اطلاعات ہر روز چار پریس کانفرنسیں کرے اور چاروں میں اپوزیشن پر تنقید کے نشتر چلائے تو گویا وہ اپوزیشن کے ترجمانوں کو جوابی تیر چلانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میڈیا دو دھاری تلوار ہے، اسے آنکھیں بند کر کے چلانا اپنا دامن زخمی کرنے کے مترادف ہے۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لئے کسی بڑی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، مگر کیا کیا جائے کہ اتنی سی بات بھی حکومتی وزراء کے پلے نہیں پڑتی۔

مزید :

رائے -کالم -