”تبدیلی“(ن)لیگ پنجاب میں (ق)لیگ کی حمایت کیلئے مشروط رضامند

”تبدیلی“(ن)لیگ پنجاب میں (ق)لیگ کی حمایت کیلئے مشروط رضامند

  

تجزیہ؛۔جاوید اقبال 

 کیا پنجاب میں بڑی تبدیلی کیلئے پرانے فارمولے پر کام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے؟ کیا سابق صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان رخصتی اور معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی پنجاب آمد پوزیشن سے معاملات ٹھنڈے ٹھار کرنے کی طرف پہلا قدم ہے؟ یا پھر پنجاب میں وزیر اعلی کی تبدیلی کی طرف پہلا قدم وہ سوالات ہیں جو سیاست سے دلچسپی رکھنے والے اہم سیانے بابو اور بابے کر رہے ہیں،خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں چودھری برادران کو امام ماننے کیلئے بڑی حد تک رضامندی ظاہر کر چکی ہے تاہم مذاکرات مزید معاملات طے کرنے کیلئے جاری ہیں بیک ڈور ڈپلومیسی کا سہارا لیا جا رہا ہے کیا یہ ڈپلومیسی کامیاب ہوگی،؟مسلم لیگ (ن)کے بیانیہ میں یہ بات بھی سامنے آئی تھیں کہ نون لیگ کی قیادت نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ وہ حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ ان لوگوں سے کریں گے جن کے پاس اختیارات ہیں اور فیصلہ کرنے کی قوت موجود ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور اس کیلئے پیپلز پارٹی کی جو ”بی“ ٹیم میں (ن)لیگ کی بڑی اتحادی ہے اس نے اہم کردار ادا کیا ہے یہ بھی کہناہے کہ پیپلزپارٹی کے بڑے کھلاڑیوں نے مذاکرات کی طرف آنے والے کو کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم لیگ نون کہ متحدہ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت ہے انہیں سب سے پہلے رام کیا جائے مسلم لیگ نون کے اور پیپلزپارٹی کے مشترکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ سال کا آغاز بہت ہی اہمیت کا حامل ہے دسمبر میں بھی سیاست میں نئے نئے بونجھال ا سکتے ہیں یا تبدیلیاں رونما ہونے کا امکان ہے  ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب سے تبدیلیوں کا آغاز ہو سکتا ہے جس کے لئے وزیر اعلی عثمان بزدار کی جگہ وزارت داخلہ کا محکمہ چوہدری پرویز الہی کے سر پر بیٹھ سکتا ہے اگرچہ یہ پرانا فارمولا ہے مگر اس میں نئے طریقے سے روح ڈالنے کا کام شروع ہو چکا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھائی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کچن کیبنٹ میں بھی زلزلہ آنے کے لیے تیار ہے اور اس زلزلے میں چار سے پانچ اہم ترین نام زد  میں آ رہے ہیں ان کے کیسز پہلے سے نیب میں  دفن ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی فائلوں پر جمی گرد اتارنے کا کام بھی شروع ہو چکا ہے  اس اقدام سے عمران خان کی حکومت کو بڑا جھٹکا لگے گا اور  بات آگے بڑھیں تو وہ اس کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہو سکتے ہیں اور اسمبلیاں بھی توڑ سکتے ہیں ذرائع کا کہنا ہے پنجاب میں تبدیلی آگئی تو طوفان کا رخ مرکز کی طرف ہوگا پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد آئے گی جس کے لیے مسلم لیگ قاف بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کھڑی ہوگی گائے کا کہنا ہے کہ پرانے فارمولے پر عمل کام شروع ہو گیا ہے آئندہ دنوں میں اس میں تیزی لائی جائے گی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون بلکہ پی ڈی ایم کا لاہور میں ہونے والا جلسہ کی کامیابی سے بہت کچھ واضح ہو جائے گا یہ بھی کہنا ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی ہونے والے مذاکرات میں زیادہ لو کم دو کی پالیسی پوزیشن اختیار کرے گی،یہ بات طے ہوچکی ہے کہ قاف لیگ اور نون لیگ پنجاب کی حد تک ایک دوسرے کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکی ہیں ذرائع کا تو یہاں تک کہا ہے کہ نون لیگ بڑے دشمن سے چھوٹا دشمن کو قبول کر لینا بہتر سمجھ رہے ہیں اور اس کے لیے وہ آئندہ دنوں میں وزارت اعلی پنجاب کے لیے چودھری پرویز الہٰی کی حمایت کر سکتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -