حکومتی کوشش اور کامیابی 

حکومتی کوشش اور کامیابی 
حکومتی کوشش اور کامیابی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر شدید بحران سے دو چار چلا آ رہا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں موجودہ حکومت کے سربراہ عمران خان نے برسر اقتدار آتے ہی ملک میں بہت بڑے فیصلے کئے اور ان پر عمل درآمد شروع کروایا گیا پہلے تو فیصلہ ہوا کہ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں جو بڑے بڑے منصوبوں میں کرپشن کی گئی ہے ان کے خلاف ایکشن لیا جائے اور لوٹا ہوا سرمایہ واپس قومی خزانے میں جمع کروایا جائے اور جو بھی معزز حضرات اس لوٹ مار کے ذمہ دار ہیں ان کو سزائیں دی جائیں یہ عمران خان وزیر اعظم کا بہت بڑا ایکشن تھا ورنہ اس سے پہلے تو بڑے بڑے لوگوں کے چپڑاسی، چوکیدار،  ڈرائیوروں کو پکڑنا مشکل تھا بہر حال حکومت نے نیب ایف آئی اے، انٹی کرپشن کے ذمہ مختلف کیس لگوائے عدالتوں میں زیر سماعت ہوئے بڑے بڑے لوگ جیلوں میں گئے اور ان میں اکثریت ماشا اللہ ضمانتوں پر رہا ہو چکے ہیں اور کچھ معززین لوٹ مار کا کچھ حصہ دیکر بری ہو چکے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں (پلی بارگینگ) جو پہلے لٹ مار کی اس کا کچھ حصہ دے دو باقی بعد میں اور کما لیں گے ایک سیکرٹری صاحب کو پکڑا گھر سے کروڑوں روپے، ڈالر پونڈ، سونا پکڑا گیا وہ ضمانت پر رہا اب تک کسی بھی بڑے کیس کا فیصلہ نہیں ہوا کہ اربوں کھربوں روپے واپس قومی خزانے میں جمع ہوں یا کوئی جیل گیا ہو، سپاہی، پٹواری، تحصیلدار، میٹر ریڈر وغیرہ جیل جاتے ہیں معذرت کے ساتھ اس قدر کیسوں کا فیصلہ نہیں ہوتا جس قدر ان عدالتوں محکموں کا خرچہ ہے نیب، انٹی کرپشن، ایف آئی اے کا عوام، ملک کو کوئی فائدہ نہیں ان کیسوں کی انکوائریاں متعلقہ محکموں میں کی جائیں تاکہ فیصلے بھی جلد ہوں ان تینوں اداروں میں دس سال بعد بیس سال بعد لوگ بری ہو جاتے ہیں چونکہ جنہوں نے کیس رجسٹرڈ کئے ہوتے ہیں وہ مر جاتے ہیں یا ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں اور ملزم تمام بقایا جات بھی وصول کر لیتے ہیں ملک میں کون سا قانون چل رہا ہے اس سے ہمارے حکمران بے خبر ہیں انگریز کا قانون 74 سال گزرنے کے باوجود قائم ہے اس کے علاوہ شاید جنرل ضیاء الحق کے دور میں آنے والا اسلامی نظام بھی موجود ہے ایک اسلامی ملک میں انگریز کا قانون محض انگریز کی خوشنودی کے لئے چلایا جا رہا ہے ہر حکومت نے جب چاہا آئین میں ترمیم کر دی۔  اپنی مرضی کا قانون بنا لیا پاکستان میں اب کوئی شعبہ کرپشن سے محفوظ نظر نہیں آتا۔ بلکہ کرپشن اس ملک میں اہم خبر بن چکی ہے جو رشوت نہیں لیتا وہ بھی اس معاشرے میں عذاب کی چکی میں پس رہا ہے جو رشوت لیتا ہے وہ لیتا جا رہا ہے وہ کس چکی میں پستا ہوا نظر نہیں آتا۔ بدعنوانیوں کے خاتمے کے لئے بتائے گئے اداروں کا کردار ہر ایک کے سامنے ہے ہمارے ملک میں یہ روایت رہی ہے کہ حکومت میں رہتے ہوئے جو مرضی کر لو کوئی پوچھنے والا نہیں اب اگر پوچھنے والا آیا ہے تو اس کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔ حکمران کی مجبوری بن گئی ہے کہ حکومتی سطح پر بھی کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی بڑا اقدام نہیں ہو رہا۔ بد عنوانیوں کے خاتمے کے لئے بتائے گئے بعض اداروں میں برسوں سے میگا سکینڈلز الماریوں سے نکالے گئے ہیں ان پر ہاتھ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہیں جس ملک میں بجلی، گیس، ٹیکس چوری کرنے والوں میں با اثر افراد ملوث ہوں اس ملک کی معاشی حالت کیا ہو سکتی ہے اس کا اندازہ ہر با شعور شخص لگا سکتا ہے ایک وفاقی وزیر نے اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میں تقریر کی کہ بجلی چوری کرنے میں با اثر افراد ملوث ہیں لیکن اس کی تقریر کا نوٹس نہیں لیا گیا۔

حکومتی سطح پر ہونے والی کرپشن سے حکومت کے متعلقہ اداروں کے آفیسروں کو ہر بات کا علم ہے ان پر کون ہاتھ ڈالے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے نام پر متعدد ممالک اگرچہ اکثر و بیشتر امداد دیتے ہیں اکثر اوقات مختلف حکومتیں اپنے طور پر بھی ان دونوں شعبوں کے لئے امداد لیتی ہیں اور اس وقت بھی یہ سلسلہ جاری ہے مگر تعلیم اور صحت کے شعبوں کا جو حال ہے وہ سب لوگ جانتے ہیں، ہزاروں سکولوں میں بچوں کے لئے پینے کا پانی نہیں، سرکاری ہسپتالوں میں مریض بیڈ نہ ہونے کے باعث ہسپتالوں کے برآمدوں میں دم توڑ دیتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ضرورت کے مطابق ڈاکٹر نہیں۔ اگر ڈاکٹر ہیں تو ان کی مشکلات ہیں وہ ہڑتال پر ہڑتال کرتے رہتے ہیں تقریباً ہسپتال اہم آلات (ضروری اشیاء) سے محروم ہیں یہ ٹھیک ہے کہ موجودہ حکومت بہت کوشش کر رہی ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو تمام ضروری سہولتیں دی جائیں لیکن سرمایہ نہیں ہے یہ تمام اشیاء بیرونی ملکوں سے منگوانی پڑتی ہیں حکومتی وزیروں کے دعوؤں کے مطابق عوام کو کچھ میسر نہیں سرکاری لوگوں، محکموں میں غیر سرکاری لوگوں کو مسلط کرنے سے بھی ملازمین آفیسر پریشانیوں میں مبتلا ہیں یہ طریقہ دوستوں کو نوازنے کا ہے اسی وجہ سے پھر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جو فائدے حاصل کرتے ہیں وہ پوشیدہ نہیں رہتے یہ پاکستانی معاشرہ ہے یہاں اپنے گریبان یا کرتوت کو کوئی نہیں دیکھتا لیکن دوسروں کے پیچھے لگے ہوتے ہیں اگر سب لوگ اپنا اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کریں تو ملک اور معاشرہ ٹھیک ہو جائے جس انداز میں ملک کا نظام چلایا جا رہا ہے اس پر کوئی شک نہیں لیکن 74 سال سے قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک  اربوں کھربوں ڈالر صرف سود کی ادائیگیکر رہا ہے کس طرح اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا دن بدن ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے جس پر حکومت کے کسی ادارے کا کنٹرول نہیں پورے صوبہ پنجاب میں ہر شہر چھوٹا ہو یا بڑا بازاروں میں فٹ پاتھوں پر، سڑکوں پر متعلقہ اداروں نے تجاوزات قائم کروائی ہوئی ہیں۔ تجاوزات قائم کرنے والے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اہل کاروں کو بھتہ دیتے ہیں اور مہنگائی کر کے عوام کی کھال اُتارتے ہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام عوام کو مہنگائی سے پریشان کرنے میں سرکاری ادارے شامل ہیں اور خود لوگ لٹ مار کرتے ہیں بدنام حکومت کو کرتے ہیں، اگر شہروں سے تجاوزات ختم کر دی جائیں تو کچھ ن کچھ مہنگائی کم ہو سکتی ہے کمیشن سسٹم بھی مہنگائی میں شامل ہے جو بھی پاکستانی معیشت کی حالت بہت خراب ہے اس کو چلانے کے لئے قرضے لینے ضروری ہیں، قرضوں کا سود ادا کرنا بھی ضروری ہے سابقہ حکومتوں کے بجلی کے منصوبوں کے معاہدے عوام کے لئے پریشان کن ہیں بجلی مہنگی ترین مل رہی ہے گیس مہنگی ہونے والی ہے۔ پٹرول اور ڈالر ریکارڈ سطح پر ہے اگر حکومت کے کرتا دھرتا ملک اور قوم کی خاطر اپنے اخراجات کم کریں۔

مزید :

رائے -کالم -