اکتالیسویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس 

اکتالیسویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس 

  

مولانا عبدالنعیم، مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور 

 ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں  سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس و قت تک ہر مسلمان اس   پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم  النبیین ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے      آ پ ؐ کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اسلام کی باقی تمام جنگوں میں کفار کی عورتوں، بچوں، باغات اور فصلوں وغیرہ کو نقصان نہیں پہنچایا گیا لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس جنگ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ ان مرتدین کی عورتوں، بچوں، باغات اور فصلوں کو بھی ختم کردیا جائے۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                 تحفظ ختم نبوت کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب کے سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میدان عمل میں ہے۔یوں تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سال بھر ختم نبوت کورسز، تربیتی نشستیں اور بڑی بڑی کانفرنسز منعقد کی جاتی ہیں لیکن ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جسکا سال بھر تمام مسلمانوں کو بڑا شدت سے انتظار رہتا ہے وہ کانفرنس مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ میں منعقد ہوتی ہے اس کانفرنس میں لاکھوں کی تعداد میں عاشقان مصطفی ؐ شریک ہوکر آپ ؐ سے محبت کا والہانہ ثبوت دیتے ہیں اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب کے لئے تجدید عہد کرتے ہیں۔ اس سال بھی یہ کانفرنس بڑے آب وتاب کے ساتھ منعقد ہوئی جس کی تفصیلی رپورت پیش خدمت ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سالانہ دورزہ اکتالیسویں ختم نبوت کانفرنس مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز خانقاہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین مولانا خواجہ خلیل احمد پرسوز دعا سے ہوا۔کا نفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت امیر مرکزیہ حافظ ناصرالدین خاکوانی نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد و، خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد، مولانا محب اللہ لورالائی، مولانا شہاب الدین موسیٰ زئی شریف، مولانا مفتی محمدحسن، سائیں عبدالمجیب قریشی، پیر رضوان نفیس نے کی۔ جبکہ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیراور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، جے یوآئی کے مرکزی رہنما مولانا محمد امجد خان، خواجہ مدثرمحمود تونسہ شریف،خواجہ نظام الدین سیالوی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، ممتاز اہلحدیث رہنما مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیزالرحمن ثانی، مولانا محمد اعجاز مصطفی،مولانا یحییٰ لدھیانوی،خواجہ عبد الماجدصدیقی، مولانا منیر احمد منور کہروڑپکا، مولانا اشرف علی راولپنڈی، مولانا محمد جاوید قصوری،مولانا قاضی مشتاق الرحمن راولپنڈی، مولاناقاری اکرام الحق مردان، مولانا محمد رضوان عزیز، مفتی محمد عاطف حنفی،جناب محمد متین خالد،مولانا نورمحمد ہزاروی،مولانا عزیزالرحمن رحیمی اور مولاناعبیداللہ چکوال،مولانا قاضی ہارون الرشید راولپنڈی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولاانا علیم الدین شاکر، مولانا محمد اویس، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانامحمد اسحاق ساقی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا راشد مدنی سندھ، مولانا محمد طارق معاویہ، مولانا مختار احمد، مولانا فقیر اللہ اختر،مفتی محمد ذکاء اللہ ساہیوال،قاری جمیل الرحمن اختر، مولاناحافظ محمد انس،مولانا محمد حسین ناصر، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا محمد خالد عابد،مولانا ابرار شریف،مولانامحمد سلمان، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا عبدالنعیم، مولانا محمد وسیم اسلم،مولانا عبدالرشید غازی،مولانامحمد حنیف سیال،مولاناتجمل حسین، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد عارف شامی، مولانا تجمل حسین، مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد،مولانامحمدعرفان بزیزی،مولانامحبوب الحسن طاہر، مولانا محمد عادل خورشید، مولانامحمد اقبال ساقی، مولانا فضل الرحمن منگلا، مولانامحمد نعیم لاثانی، مولانا حنیف سیال، مولانا توصیف احمد،مولانا عابدکمال، مولانا عبدالعزیز لاہور، مولانا محمد ابراہیم ادہمی سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں اور مقتدر شخصیات نے خطاب کیا، اور معروف نعت خواں جناب طاہر بلال چشتی،امین برادران،مولانا قاسم گجر،اور دیگر شعراء کرام کی طرف سے ہدیہ نعت پیش کیا جاتا رہا ۔ مقررین نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت اور فتنہ قادیانیت کے متعلق تازہ ترین صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر کمپرومائز کرنے والے اور قادیانیوں کوپرموٹ کرنے والے اسلام اور ملک کے غدار ہیں۔ ہم دنیا کے آخری کونے تک غداران ختم نبوت کا تعاقب جاری رکھے گے اور شہدائے ختم نبوت اور مبلغین ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کرتے رہے گے۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیراور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کا دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں کہ انہوں نے اس مبارک مجلس میں مجھے شرکت سے نوازا،قادیان سے اٹھنے والا فتنہ مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کا شاخسانہ ہے قصر ختم نبوت میں ہر زمانے میں نقب لگانے کی کوشش کی گئی  حضرت ابوبکر صدیق ؓسے لے کر آج تک مسلمانوں نے منکرین ختم نبوت کے خلاف جنگ وجہاد جاری رکھا ہوا ہے منصب خاتمیت اور نبوت ورسالت کا تاج آپؐ کے سر پرہی سجتا ہے قرآن مجید نے آپؐ  کو خاتم النبیین جیسے منفرد وصف سے نوازا،ختم نبوت کے صدقے میں اللہ نے ہمیں دین کامل اور مکمل نظام حیات قیامت تک کے لیے عطا فرمایا ہے خاتم النبیین کے مفہوم کو تبدیل کرکے اسلام کی بنیاد پر ڈاکہ زنی کی کوشش ہو رہی ہے،ختم نبوت کے سب سے بڑے علمبردار خلفائے راشدین اور صحابہ کرام تھے آج اکابرین مجلس تحفظ ختم نبوت نے صحابہ کرام کی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے فتنہ قادیانیت کے خلاف بر سر پیکار ہے آج مغربی دنیا نے قادیانیت کو ہمارے دینی اور مذہبی معاملات میں دخیل کیا ہوا ہے مغربی دنیا قادیانیت کو اس لئے پرموٹ کرتی ہے کہ اسلا م کی تعبیرات وتشریحات وہ کرے جو سامراجی طاقتوں کو قبول ہوملک میں قادیانی اور یہودی ایجنڈے کے خلاف بھر پور مزحمت کی جائے گئی۔ امیر مرکزیہ مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی نے کہا کہ علماء کرام اور اسلامیان پاکستان تحفظ ختم نبوت اور دفاع ناموس رسالت کے مقدس مشن کی آبیاری کودنیا و آخرت کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں جو بھی نبوت کے سایہ میں آئے گا، نبوت کا نور پائے گا،تمام انبیاء کرام نے بھی آخری نبی کی نبوت کی گواہی دی۔ تمام اقوام عالم کے نبی حضرت محمدؐ ہی ہیں۔ دنیا کا امن شریعت پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔ نظام شریعت کے نفاذ سے دنیا میں امن قائم ہوگا۔ اس امت کے علماء قرآن و سنت کے وارث ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی آمد ثانی کے بعد بھی شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے،۔ ہم تو قادیانیوں کے ماسک اور ایس او پیز کو بھی جانتے ہیں۔ قادیانیوں کی تکنیک یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں کو مرزا قادیانی کی دعوی نبوت سے پہلے کی تحریریں دیکھاتے ہیں قادیانی مربیوں کا اپنے منسوخ شدہ عقائد کو پیش کرنا یہ بتلاتا ہے کہ تمہارا ماضی کے عقائد کی طرف آنے کو جی چاہتا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ختم نبوت کے پروگراموں میں شرکت کرنے والوں کو اللہ تعالی اپنے نور سے منور فرماتا ہے،قادیانی شیطان کے ایجنٹ اور استعماری قوتوں کے گماشتے ہیں ہم قادیانیوں سے کہتے ہیں دوسرے غیر مسلم اقلیتوں کی طرح پاکستان کے آئین کو تسلیم کرکے خود کو اقلیت سمجھ کررہیں آج خلفائے راشدین کی خلافت وحکومت ہوتی تو کب سے منکرین ختم نبوت کے فتنے کا وجو

د بھی ختم ہو جاتا تمام سیاسی پارٹیاں اقتدار کے حصول کے لیے باہمی دست وگریباں ضرور ہوتی ہیں لیکن مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سب سیاسی پارٹیاں ایک ہیں،مولانا زاہدالراشدی نے کہا آج ملک کی عمومی صورتحال ہم سب کے سامنے ہے، ادارے،طبقات اور شخصیات ایک دوسرے کے متصادم چل رہے ہیں قومی سطح پر جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے وہ ہماری غلطیاں ہیں اورہماری خود مختاری پر سوالیہ نشان ہے ہم استفسار کرتے ہیں کہ قانون تو ہیں رسالت کی منسوخی اور تحفظ ختم نبوت کے قوانین میں ترمیم کی باتیں امریکہ اور یورپی یونین  سے کیوں آتی ہیں۔  مولاناعزیزالرحمن جالندھری نے کہا کہ ختم نبوت کے تبلیغی پروگراموں کا مقصد دفاع ختم نبوت اور دفاع ناموس رسالت کو مقدس فریضہ کو فروغ دینا اور اس کی جدوجہد کو جلا بخشنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح منکرین ختم نبوت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ ہماری نوجوان نسل ملٹی میڈیا، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا جیسے مورچوں کو تحفظ ختم نبوت اور اسلامی اقدار و روایات کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرے۔  مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ بیوروکریسی اور استیبلشمنٹ میں غیر محسوس اندازمیں گستاخان رسول اور اسلام و ملک دشمن سہولت کار موجود ہیں جو کہ علماء کرام کی کردار کشی کر کے حکومتی حساس اداروں کو مساجد و مدارس کے خلاف اکساتے رہتے ہیں۔ ممتاز اہلحدیث رہنما  سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ مسلمانوں کا یقین محکم ہے کہ حضرت محمدؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا اللہ تعالیٰ نے ذوالفقار علی بھٹو سے تحفظ ختم نبوت اور تردید قادیانیت کا کام لیا۔ میں اکابرین ختم نبوت کی عظمتوں کو سلام کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کی کارروائی پر کتاب شائع کردی۔ آدھا پاکستان قادیانی کیا ہونا تھا قومی اسمبلی کی کارروائی کو پڑھ کر سینکڑوں قادیانیوں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والوں سے بڑھ کر اور کوئی صلحاء کی جماعت نہیں ہے۔ افریقی ویورپی ممالک میں تحفظ ختم نبوت کی مقدس آواز پاکستان کے علماء کی کاوشوں کی وجہ سے پہنچی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اسٹیج اتحاد امت کی وجہ سے بہت بڑی نعمت ہے۔ پورے ملک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا گلدستہ سجاکر اتحاد و یگانگت کا درس دیتی ہے۔ مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سطح پر علماء کرام کی جدو جہد پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ قادیانی گروہ نے آج تک پارلیمنٹ کے فیصلے اور اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرکے بغاوت پر مبنی موقف اپنایا ہوا ہے۔ مفتی محمد حسن نے کہا کہ تمام بدنی، زبانی و مالی عبادات اور اسلامی احکامات ہمیں ختم نبوت کی بدولت میسر آئے ہیں۔ حضرت محمدؐ کے بعد نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی دور میں بھی مسلمانوں نے مخبر صادقؐ کے بعد نبوت کے جھوٹے دعویداروں کو برداشت نہیں کیا۔  مولاناجاوید قصوری نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے بغیر اسلام کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی ہم امت وحدت بن کر ان اسلام دشمن فتنوں کا مقابلہ کرے گے اورہمیں اسلام کے غلبہ اور ختم نبوت کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنا ہوگا جناب متین خالد نے کہا کہ قادیانی اپنی تعداد بڑھا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں قادیانی گروہ خود مرزاقادیانی کی تحریرات اور کذبات سے بھاگ رہا ہے اس لئے وہ مرزا قادیانی کی کتب میں ردوبدل کررہے ہیں مولانا اعجاز مصطفی نے کہا کہ نبوت کے جھوٹے دعویدار اور توہین رسالت کرنے والوں کوخدا کی ز زمین پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ قادیانیت کا زہریلہ سانپ عالمی قوتوں کی پشت پناہی اور پرورش کی وجہ سے زہریلہ اژدہا بن گیا ہے۔ افریقی ممالک میں مسلمان قادیانی اتدادی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ خواجہ مدثر محمود تونسوی نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ پندرہ سالوں سے دینی مدارس کے علماء کرام کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ان سیاسی گماشتوں سے خیر کی توقع رکھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔ علماء کرام پر اعتماد کرنے سے مغربی کلچر و ثقافت اور مغربی سیاست کو شکست دی جاسکتی ہے۔خواجہ نظام الدین سیالوی نے کہا کہ 1974ء میں تمام مکاتب فکر کے اتحاد و یگانگت کی برکت سے قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے۔ تحفظ ناموس رسالت اور قوانین ختم نبوت بھی اتحاد کی وجہ سے موجود ہیں۔ پاکستان میں مدارس و مساجد کی سالمیت پر حرف نہیں آنے دیں گے اور ملک کو سیکولر نہیں بننے دیں گے۔ مولانانور محمد ہزاروی  نے کہا کہ ختم نبوت کا پلیٹ فارم تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا پلیٹ فارم ہے۔ سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں پر قادیانیوں کو اور اسلام دشمن قوتوں کو مسلط کیا جارہا ہے۔ مفتی محمد راشد مدنی رحیم یارخان نے کہا کہ قادیانی اگر تعصب کی عینک اتار کر مرزا قادیانی کی کتب پڑھیں تو ان پر اسلام کی حقیقت واضح ہوجائے گی اور انہٰں معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی کی کتب تضادات کا مجموعہ اور الحاد و ارتداد کی چربہ ہیں۔ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ کم از کم اپنی فیملیوں تمام افراد کو ختم نبوت پر ایک آیت اور ایک حدیث زبانی یاد ہونی چاہئے۔ مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی نے کہا کہ ہمیں اس ملک کی وحدت سلامتی اور خود مختاری عزیز ہے۔ میں قادیانیوں سے کہنا چاہتا ہوں تم جس رنگ میں بھی آؤ گے ہم تمہیں نور ایمانی سے پہچان لیتے ہیں ۔ مولاناقاضی احسان احمد نے کہا کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک تحفظ ختم نبوت کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔ اس پرآشوب دور میں فتنوں سے بچنے کے لئے اکابرین کی مجالس، مساجد و مدارس اور صلحاء امت سے تعلق قائم رکھنا ہوگا۔ ہمارے نوجوان آج بھی اپنے اکابرین کی طرح حرمت رسولؐ اور دفاع ختم نبوت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ مولانا عبدالقیوم حقانی نوشہرہ نے کہا کہ صحابہ کرامؓ سب سے پہلے محافظین ختم نبوت اور قدوسیوں کی جماعت ہے۔ دفاع ختم نبوت اور دفاع صحابہ لازم و ملزوم ہے۔ کہ قادیانیت کا کفر دیگر غیر مسلموں کی طرح نہیں بلکہ ان کے کفریہ عقائد ارتداد و زندقہ کے زمرہ میں آتے ہیں۔ اس لئے تمام مسلمان قادیانیوں کی مصنوعات کا ہر سطح پر بائیکاٹ کریں۔مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ اسلامیان پاکستان قادیانیوں کی اسلام و ملک دشمن گھناؤنی سازشوں کا ادراک کر کے اتفاق و یگانگت سے ناکام بنانے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرے۔ اسلام کے نام سے معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان میں قادیانی اور یہودی ایجنڈا نہیں چلنے دیا جائے گا۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی نے کہا کہ سکہ بند قادیانی عناصر خود کو آئین کا پابند اور اقلیت تسلیم کرنے کی بجائے اب بھی چناب نگر پریس سے گستاخانہ لٹریچر اور فولڈر پرنٹ کر رہے ہیں۔ قادیانی جرائد اور رسائل میں غیر قانونی طور پر اسلامی شعائر اور مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحات استعمال کر کے آئین پاکستان کی واضح خلاف روزی کر رہے ہیں، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ مولانا عبدالنعیم نے کہا کہ گستاخان رسول کو سپورٹ کرنے والے دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ مقررین نے کہا کہ کلیدی عہدوں پر فائز سکہ بند قادیانی ملکی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹائے بغیر ہمارے ایٹمی اثاثہ جات محفوظ ہاتھوں میں نہیں رہ سکتے۔ٹرانس جینڈر بل کے ذریعے ملک میں مغرب کے شہوت پرست معاشرے کو پروان چڑھانا خاندانی نظام کی تباہی اور قرآن وسنت کی تعلیمات سے روگردانی اور انحراف ہے چناب نگر میں قادیانی جماعت کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر انسانی حقوق کے تنظیموں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ قادیانی اور یہودی ایجنٹ بیرونی فنڈنگ اور امپورٹڈپالیسیوں کے ذریعے فوج، دینی قوتوں اور جمہوری اداروں میں تصادم کی صورت پیدا کر کے ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں ہمیں ملک میں قادیانیت نوازی سے آزادخارجہ پالیسیوں کو اپنانا ہو گا۔قادیانی پاکستان کے آئین کے مطابق خود کو غیر مسلم تسلیم کرکے بغاوت پر مبنی جارحانہ پالیسیوں کو ترک کردیں قادیانی گروہ کا بیرونی دنیا میں اپنی فرضی و بوگس مظلومیت کاواویلا جھوٹ کا پلندہ ہے مقررین نے مطالبہ کیا کہ امتناع قادیانیت ایکٹ کی روشنی میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر، کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے استعمال کرنے سے منع کیا جائے۔ سول اور فوج کی بنیادی آسامیوں سے قادیانیوں کو برطرف کیا جائے، سودی نظام کو ختم کیا جائے،جمعۃ المبارک کی چھٹی بحال کی جائے،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی قید سے رہا کرایاجائے کا۔  

مزید :

ایڈیشن 1 -