وزیراعظم کا دورہ چین

وزیراعظم کا دورہ چین

  

وزیراعظم محمد شہباز شریف چین کے دو روزہ سرکاری دورے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ دورے کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق چین نے پاکستان کو معاشی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے مدد کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے 50 کروڑ(یوان) کے اضافی امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کے وفد میں شامل آٹھ وفاقی وزرا، چار مشیرانِ خصوصی اوروزیراعلیٰ سندھ نے اِس دوران اِی کامرس، ڈیجیٹل معیشت، زرعی مصنوعات کی برآمد، مالیاتی تعاون، ثقافتی املاک کے تحفظ، انفراسٹرکچر، سیلاب سے نجات اور آفات کے بعد تعمیر نو کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کا احاطہ کرتے ہوئے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ دورے کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی قیادت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور پاک چین دوستی کے خلاف ہر طرح کے خطرات اور عزائم کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ زراعت،کان کنی، آئی ٹی، سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون، صحت، صنعت، ڈیجیٹل و گرین کوریڈورز قائم کرنے سمیت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے ملک میں کام کرنے والے چینی عملے،منصوبوں اور اداروں کی حفاظت اور تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دورہئ چین کے دوران وزیراعظم کوعظیم عوامی ہال میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے شہباز شریف نے عظیم عوامی ہال میں ملاقات کی جس میں دونوں ممالک نے سی پیک منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور سی پیک کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں اُنہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں مرکزی کمیٹی کا دوبارہ جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ ملاقات میں دونوں راہنماؤں نے معاشی استحکام کے لیے پاکستان کی مدد کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ سی پیک سمیت کثیر جہتی تعاون بڑھانے اور سٹریٹجک پارٹنرشپ مزید مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ 

دونوں رہنماؤں نے دفاع، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، صحت، تعلیم، گرین انرجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری سمیت متعدد امور پر تعاون پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ وزیراعظم اور چینی صدر نے اتفاق کیا کہ سٹرٹیجک اہمیت کے منصوبے کے طور پر دونوں فریق ایم ایل ون کو ابتدائی ہارویسٹ منصوبے کے طور پر شروع کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے کی ضرورت اجاگر کرنے اور کراچی سرکلر ریلوے کے جلد آغاز کے لیے تمام رسمی کارروائیوں کو حتمی شکل دے جانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں راہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سی پیک کی افغانستان تک توسیع سے علاقائی رابطوں کے اقدامات کو تقویت ملے گی۔عالمی امن اور خوشحالی کے لیے پاکستان اور چین کی کاوشوں پر دونوں رہنماؤں نے اپنے مشترکہ یقین کی توثیق بھی کی۔ اُنہوں نے اِس بات پر اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی،صحت کی وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے عصری چیلنجوں کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق ریاستوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورت حال سمیت خطے سے متعلق اہم امور پر بھی تبادلہ ئ خیال  کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ پُرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی سلامتی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔ صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کے معاشی استحکام کی کوششوں میں اس کی کی مدد جاری رکھے گا۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ چین پائیدار اقتصادی ترقی اور جیو اکنامک مرکز کے طور پر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے سی پیک اور گوادر بندرگاہ کے منصوبوں کی تکمیل میں تیزی کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ شہباز شریف نے ملک میں ہولناک سیلاب سے ہونے والی تباہی کے تناظر میں پاکستان کی امداد، بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں چین کی گراں قدر مدد پر اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چینی صدر کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی پرتپاک دعوت بھی دی جسے اُنہوں نے قبول کرلیا۔

اِس دورے کے دوران دونوں ممالک میں جہاں اور بہت سے معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر اتفاق ہوا وہاں سب سے اہم پیش رفت یہ رہی کہ پاکستان چین سے ٹرین ٹیکنالوجی لینے میں کامیاب ہو گیا ہے، چین نے اِس سے پہلے یہ ٹیکنالوجی کبھی کسی دوسرے ملک کو نہیں دی، اسی لیے چینی میڈیا اسے تاریخی اقدام قرار دے رہا ہے۔ اِس پیش رفت کے بعد پاکستانی ریل کے نظام میں بہتری آنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین تیز رفتار ٹرین ٹیکنالوجی کے تحت چلائی جانے والی ٹرینیں 160کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک اور انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق کاروباری اورمالیاتی اداروں کے سرحد پار لین دین کے لیے چینی کرنسی کی کلیئرنگ آسان بنائی جائے گی، چین کے مرکزی بینک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان اس سلسلے میں تعاون کی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مالی لین دین میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔ 

وزیراعظم کے دورے کے بعد سامنے آنے والے اعلامیے اور خبروں کا احاطہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک چین معاملات پر تفصیلی بات چیت کے بعد تعطل کے شکار معاملات میں نہ صرف بہتری آئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے کچھ نئے دروازے بھی کھلتے نظر آ رہے ہیں جو پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ چند سالوں سے پاک چین اقتصادی راہداری پر کام کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی جس پر چین کو تحفظات تھے لیکن بدقسمتی سے اس کا تدارک نہیں کیا جا سکا۔ شہباز شریف نے اپنے  دورے سے قبل ہوم ورک مکمل کرتے ہوئے یقینی بنایا کہ وہ چین کے تحفظات دور کرنے کے ساتھ ساتھ سی پیک کے تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ تعلقات میں دوبارہ بہتری آ سکے۔ وزیراعظم نے دورے سے قبل کئی اہم اجلاس کیے جن میں میں سی پیک سے جڑے 12ارب ڈالر مالیت کے تین اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔خبروں کے مطابق متعلقہ تین منصوبوں کی منظوری کی سمری ایک ہی روز جاری کی گئی اور پھر کابینہ کی قومی رابطہ کمیٹی اور قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے منظوری دی، یہی وجہ ہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ لگ بھگ زندگی کے تمام اہم شعبوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔اُمید ہے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کوششوں کے بعد رواں سال پاکستان کے ذمے واجب الادا قرض کی اقساط کی ری شیڈولنگ جیسے معاملات میں بھی مثبت پیش رفت ہو گی۔ خوش قسمتی سے پاک چین تعلقات پر پاکستان میں ہر (سیاسی اورغیر سیاسی) سطح  پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے،تمام سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے، دونوں ممالک کی دوستی بین الملکی تعلقات کا مثالی نمونہ ہے۔پاک چین تعلقات صرف جغرافیائی ہمسائیگی تک محدود نہیں ہیں،یہ اقتصادی اور دفاعی پہلوؤں کا احاطہ بھی کرتے ہیں، تیزی سے بدلتے عالمی حالات  کے تناظر میں پاک چین دوستی کا یہ تسلسل نہ صرف خطے میں بھارت کی بڑھتی طاقت کے خلاف توازن رکھنے کی ڈھال ہے بلکہ علاقائی امن واستحکام کی ضامن بھی ہے۔ ہمیں نئے سرے سے جوش و جذبے کے ساتھ اقتصادی راہداری خصوصاً سی پیک سے جڑے تمام منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کے لیے دن رات ایک کرنا ہو گا کیونکہ  پاک چین اقتصادی پارٹنر شپ کی بڑھوتری ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ اور درخشاں بنایا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -