مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کا سیاسی عمل؟

مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کا سیاسی عمل؟
مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کا سیاسی عمل؟

  

سیاست کی سرگرمیوں میں یہ بھی کوئی پہلی بار نہیں کہ برسر اقتدار جماعت کو بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے اور ایسی ہی کیفیت ان دِنوں وفاق میں برسر اتحاد کی ہے،تین بڑی جماعتوں میں سے دو مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی سیاسی سرگرمیاں بیانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں،جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین اپنی جارحانہ پالیسی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ عمران خان تو خود اپنا ”حقیقی آزادی مارچ“ لئے جی ٹی روڈ پر ہیں اور اسے طوالت دیئے چلے جا رہے ہیں،جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت، بلتستان میں اس جماعت کی حکومتیں بھی ان کی پیروی میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں،خصوصاً پنجاب میں تو مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی بالکل ہی گم ہو کر رہ گئی ہیں حتیٰ کہ پنجاب اسمبلی میں ان جماعتوں کے اراکین کارروائی میں بھی دلچسپی نہیں لے رہے،اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران چھ  مسودات قانون یکطرفہ طور پر منظور کر لیے گئے،ان میں وہ مسودات بھی ہیں جو گورنر نے اعتراض لگا کر واپس بھیج دیئے تھے اور اب انہی کو دوبارہ منظور کر لیا گیا،اب گورنر کو منظوری دینا ہو گی کہ قواعد ہی یہی ہیں میں یہ بات ہوا میں نہیں کر رہا، اگر کسی دوست کو یہ علم ہو کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی والے سیاسی طور پر سرگرم عمل ہیں تو وہ میری معلومات میں اضافہ کر دیں،تیرہ جماعتی اتحاد کو غور کرنا چاہیے کہ تحریک انصاف اور خود عمران خان کبھی نچلا نہیں بیٹھے، برسر اقتدار تھے تو اس وقت کی اپوزیشن کو عدالتوں کے چکر لگانا پڑتے تھے جبکہ وہ خود جارح ہی تھے اور جب اقتدار سے الگ ہوئے تو خطرناک ہو گئے اور پھر خود کو اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت کرتے چلے جا رہے ہیں۔

اگر مسلم لیگ(ن) ہی کے عمل کے مطابق دیکھا جائے تو پھر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کو سانس لینا چاہئے لیکن یہاں تو اپوزیشن کی بجائے حزبِ اقتدار ہی سرگرم عمل ہے۔پنجاب میں تو ایک ایسا دلچسپ عمل جاری ہے جس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا جا رہا، حالانکہ یہ بہت ہی قابل اعتراض ہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اپنے تجربہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں پنجاب اسمبلی کا اجلاس ”پرو روگ“(غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی) نہیں کیا جاتا کہ اگر ایسا ہو تو یہ بھی گورنر کے دستخطوں سے ہوتا ہے اور پھر اگلا اجلاس بھی گورنر بلاتے ہیں اور اگر سپیکر جاری اجلاس کو ملتوی کریں تو آئندہ اجلاس بلانے کا اختیار انہی کے پاس ہوتا ہے۔پنجاب اسمبلی میں یہی کچھ ہو رہا ہے اور سپیکر ہی اجلاس ملتوی کرتے اور وہی پھر سے بلا لیتے ہیں تاہم اس میں ایک ابہام ضرور ہے وہ یہ کہ سپیکر جب اجلاس ملتوی کرتے تو آئندہ کے لیے کوئی تاریخ نہیں دیتے اور جب بلاتے ہیں تو اسے اگلا اجلاس قرار دیا جاتا ہے تاکہ اجلاسوں کی مقررہ تعداد بھی پوری بلکہ زیادہ ہو جائے اگرچہ اب یہ ایک قابل اعتراض تحقیقی معاملہ بن گیا ہے کہ کیا سپیکر کا ملتوی کردہ اجلاس دوبارہ بلایا جائے تو وہ جاری اجلاس ہو گا  یا نیا شمار ہو گا اگر حزبِ اختلاف ذرا توجہ دے تو اس قانونی نقطے پر ہی حزبِ اقتدار کو بحث پر مجبور کر سکتی ہے تاہم اس کے لیے اپنی تیاری بھی تو لازم ہے۔

میں نے یہ بات سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے کہی تھی لیکن چلی اس طرف گئی کہ یہ یہاں کیا ہو رہا ہے، کیونکہ گورنر پنجاب کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں، مسلم لیگ(ن)  سے ہے یہ بات اپنی جگہ سوال تو پھر یہی ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی سیاسی سرگرمیاں کہاں گئیں۔پنجاب مسلم لیگ(ن) کا ہے تو اسے ثابت بھی کرنا  ہو گا۔اگر پنجاب میں حزبِ اختلاف کی یہ جماعتیں اپنی جماعتی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتیں تو پھر برسر اقتدار حضرات کے لئے یہ سب مشکل ہوتا جو ان کی طرف سے کیا جا رہا ہے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی تیزی سے ترقیاتی منصوبوں کے اعلان کر رہے ہیں اگرچہ یہ سب پہلے سے پائپ لائن میں تھے تاہم ان کی طرف سے ریسکیو1122کی توسیع اور بعض دوسرے اہم کام ایسے ہیں جو ان کے سابقہ دور میں شروع ہوئے تھے ان میں نیشنل ہائی ویز پر پولیس چوکیوں کا قیام اور ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولتیں ہیں،انہوں نے اپنے پہلے دور میں تمام ہسپتالوں کی ایمرجنسی  وارڈز کو باقاعدہ ہسپتال بنا کر علاج مفت کر دیا تھا،تاہم اس بار ان میں جو تبدیلی آئی وہ تحریک انصاف کا اثر ہے کہ ان کی گفتگو قدرے ”بہترین“ ہو گئی اور اب انہی کی قیادت میں قائم حکومت کے دور میں مخالفین کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں،پہلے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرائے گئے جو عدالت عالیہ کی مداخلت کے باعث اثر پذیر نہ ہو سکے،تاہم ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اینٹی کرپشن کی حراست میں چلے گئے۔عدالت نے بھی ان کا دوسری بار دو روز کے لئے جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

بات چلی تھی مسلم لیگ(ن) کی سرگرمیوں سے جو ختم ہو گئی ہیں، مسلم لیگ(ن) کے18اراکین اسمبلی معطل کر کے ان کا پنجاب اسمبلی میں داخلہ بھی ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے اور ان کی طرف سے صرف ایک روز اسمبلی کی عمارت والی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا گیا،پھر اللہ اللہ اور خیر سّلا،یوں مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے کوئی اچھا تاثر نہیں گیا،بعض حلقوں کے مطابق یہ بے عملی مسیحا کے انتظار میں ہے اور اب توقعات قائد مسلم لیگ(ن) محمد نواز شریف کی آمد سے لگا لی گئی ہیں،ان کی واپسی کا اعلان کر دیا گیا تاہم ”کب“ یہ کسی کو علم نہیں وہی جانتے ہیں کہ کب واپسی ہو گی،البتہ یہ طے ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی بے عملی سے تحریک انصاف مستفید ہو رہی ہے۔ قارئین! میں نے صرف دو جماعتوں کا ذکر کیا تو اس کی وجہ ہے کہ یہ دو بڑی جماعتیں ہو کر بے عمل ہیں۔البتہ جمعیت علماء اسلام اور اے این پی اپنے اپنے حلقہ میں سرگرم ہیں اور ان کی عوام میں موجودگی کا احساس بھی ہو رہا ہے۔اب یہ تو مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے  سوچنے کی بات ہے کہ اس میں کیا مصلحت ہے کہ وہ صرف انتظامی صلاحیت پر بھی انحصار کر رہے ہیں،حالانکہ سیاسی جماعتوں کے لئے اپنے کارکنوں کا لہو گرم رکھنا لازم ہوتا ہے چاہے ورکرز کنونشن اور چھوٹے جلسوں کی صورت میں ہو!

مزید :

رائے -کالم -