وزیر اعلیٰ اور لاہور؟

 وزیر اعلیٰ اور لاہور؟
 وزیر اعلیٰ اور لاہور؟

  

 اس میں تو شبہ و شک نہیں کہ چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کامیاب ترین حکمران ثابت ہوئے ہیں۔ گزشتہ دور وزارتِ اعلیٰ میں انہوں نے ایسے عوامی کام کئے جو ہمیشہ کے لئے ان کی شخصیت کے ساتھ یاد کئے جائیں گے۔ پنجاب کے عوام خاص طور پر لاہور کے عوام 1122 ہی کی سہولت کو فراموش نہیں کر سکتے۔ یہ ایک ایسی سروس ہے جس نے عوام کو مہنگی ترین ایمبولینس سروس کی جگہ ایک سرکاری سہولت فراہم کی اچانک ہی حادثہ یا بیماری کا شکار ہونے والے شخص کے لئے یہ ایک کارِ مسیحائی سے کم نہیں، پڑھا لکھا پنجاب ان کا ایک اور کارنامہ تھا بچوں کو تعلیم کے ساتھ نصاب بھی مفت مہیا کیا گیا۔

پنجابی زبان و ادب کے لئے پِلاک Pilal جان کی امان پاؤں اور ذات پات کے تعصب کے الزام کو در گزر کرنے کی عرض گزار کے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک جٹ ہی پنجاب کے ادب، روایت،رہتل  اور تاریخ کو تحفظ اور بڑھاوا نہ دے تو پھر اور کون دے گا۔ یار لوگوں نے تو اسمبلی میں پنجابی بولنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس دفعہ بھی چودھری صاحب نے کچھ اقدمات تیزی سے کئے اور خوب کئے لیکن میں انہیں صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ لاہور کے شہری اس وقت عذاب میں مبتلا ہیں خاص طور پر لاہوریوں کے بچے ان کے پیشرو جناب عثمان بزدار نے تو گویا لاہور کے ساتھ ایک خاموش اور پردہ دار منافرت کا آغاز کر دیا تھا سب سے پہلے انہوں نے لاہور کی پبلک ٹرانسپورٹ پر مہربانی فرمائی ایک اچھی بھلی سروس بند کر دی خاص طور پر جلو موڑ سے ٹھوکر نیاز بیگ جانے والی نہر کے کنارے کنارے چلنے والی بسوں کو فی الفور بند کر دیا گیا جو ٹرانسپورٹ اتھارٹی چلاتی تھی۔اس روڈ پر پنجاب یونیورسٹی ہے اور بیشتر تعلیمی ادارے اسی روٹ پر موجود ہیں جلو موڑ سے آتے ہوئے مختلف مقامات پر کالجوں کے بچے اور بچیاں جن کی اکثریت نچلے درمیانے طبقے سے ہے جو اب عالمی اور قومی اداروں کے مطابق خطِ غربت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان بچوں کے لئے اب چنگ چی رکشا ہی واحد سواری ہے جس پر بچیوں کو انتہائی احتیاط سے بیٹھنا پڑتا ہے۔ حکمران چاہے ن لیگ کے ہوں، پیپلزپارٹی کے یا تحریک انصاف کے ان میں کوئی ایک شخص بھی ایم پی اے، ایم این اے یا سینیٹر اس طبقہ سے تعلق نہیں رکھتا۔ اکثریت کا تعلق ڈی ایچ اے سے ہے کچھ ماڈل ٹاؤن، جاتی امرا اور گلبرگ کے رہائشی ہیں انہوں نے شاید سیاست میں آنے سے قبل پبلک ٹرانسپورٹ کا مزہ چکھا ہوگا لیکن یقینا اس دور میں چنگ چی رکشے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں اپنے پوش علاقوں سے باہر گھومنے پھرنے کا اور غربت زدہ لوگوں کے درمیان انتخابی مہم کے سوا موقع ملتا ہوگا۔

گزشتہ چار سال کے دوران لاہور کے کسی ایم این اے، ایم پی اے یا سینٹر نے لاہور کے شہریوں کے لئے اچھی پبلک ٹرانسپورٹ کا مطالبہ نہیں کیا اس لئے کہ یہ موجودہ سیاستدانوں کی کھیپ کا مسئلہ ہی نہیں کہ وہ عوام کے لئے حکومت سے کچھ مانگ سکیں ان بے چاروں کے ذاتی مطالبات ہی اتنے ہوتے ہیں کہ عوام کا ذکر ان میں آتا نہیں۔ انہیں جس قدر سہولتیں چاہئیں ان میں عوام کے لئے سہولت کی گنجائش ہی نہیں ایک بات ضروری یہ کہنی ہے کہ ٹریفک پولیس کا جو نظام آپ نے متعارف کروایا ہے لاہور کے لئے ایک عذاب بن چکا ہے ٹریفک پولیس کا کوئی بڑا افسر آپکو لاہور کی سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔ ٹریفک وارڈن اور سپاہی شہر کی مصروف ترین گزر گاہوں کے کناروں پر نوجوان طالبعلم اور غریب موٹر سائیکل سواروں کے شکار کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ان کے سامنے چوک پر ٹریفک بری طرح پھنسی ہوتی ہے۔ لیکن وہ چوک پر ٹریفک کنٹرول کرنے کی بجائے چالان کرتے نظر آتے ہیں نوجوان طالبعلم جن کے پاس پٹرول کے پیسے بھی کم ہوتے ہیں انہیں دو دو ہزار کا چالان پکڑا دیا جاتا ہے لاہور کی سڑکیں ان ٹریفک وارڈنوں نے غریب لوگوں کے لئے اذیت گاہیں بنا دی ہیں، سنا ہے انہیں چالان پر کمیشن ملتی ہے سرکاری ملازمین کی کمیشن کا یہ انتہائی افسوس ناک اور اخلاق باختہ تصور ہے کیا پوری دنیا میں کسی ایک ملک کی مثال دی جا سکتی ہے۔ البتہ جس ملک میں سرکاری ادارے پراپرٹی ڈیلر بن جائیں وہاں شاید یہ معمول کا واقعہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے کبھی لاہور کی ٹریفک پولیس کے بارے میں کوئی پرفارمنس رپورٹ دیکھی یا بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے افسروں کا حقیقت میں لاہور کی ٹریفک کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ وہ صرف دفتروں میں کافی پیتے ہیں۔ گپ شپ کرتے ہیں اور وقت پر گھروں کو سرکاری گاڑیوں میں بیٹھ کر روانہ ہو جاتے ہیں سی پی او سطح کا افسر صرف پروٹوکول کے موقع پر نظر آتا ہے۔ چودھری صاحب معصوم اور غریب موٹر سائیکل سواروں کو کمیشن مافیا سے نجات دلائیں جو کسی بڑی گاڑی کو نمبر پلیٹ کے بغیر ہی روکنے کی جرأت نہیں کرتے جن کی جیب میں پٹرول کے پیسے بھی کم ہوتے ہیں ان کے شکار پر چوکس کھڑے رہتے ہیں اور براہ کرم لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر توجہ دیں گجرات آپ کا شہر ہے لیکن لاہور کی ایک پوری سڑک آپ کی ملکیت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -