ہائیکورٹ نے مونس الٰہی اور فیملی کو ہراساں کرنے سے روک دیا

    ہائیکورٹ نے مونس الٰہی اور فیملی کو ہراساں کرنے سے روک دیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی کے صاحبزادے مونس الہٰی کی 24ارب کی منی لانڈرنگ کے معاملہ پرطلبی کے نیب نوٹس کے خلاف دائردرخواست پرنیب کو مونس الہی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے سے روک دیا مسٹرجسٹس علی باقر نجفی پرمشتمل ڈویژن بنچ نے نیب اور دیگر مدعاعلیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا فاضل جج نے بنچ نے استفسار کیا کہ نیب ختم ہونے والی انکوائری پرکمپنی کیسیکرٹری کوکیوں نوٹس جاری کئے؟کمپنی کیشئیرہولڈرز اور درخواست گزارسمیت فیملی کو کیوں نوٹس دئیے گئے،جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کوبتایا کہ یہ معاملہ کمپنی کانہیں بلکہ آمدنی سے زائد اثاثہ جات کاہے،فاضل بنچ نے کہا جوبھی معاملہ ہے نیب اپنا جواب عدالت میں داخل کرائے،درخواست گزار مونس الہٰی کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیارکیا کہ نیب نے 20سال قبل کمپنی میں منی لانڈرنگ کے معاملے کی چھان بین کرکے کلیئرکردیا،نیب قانون کیتحت انکوائری ختم ہونے کے بعد عدالت کی اجازت کیبغیردوبارہ چھان بین نہیں کرسکتا،اسی معاملے پر عدالت عالیہ نیایف آئی اے کامقدمہ خارج کردیا ہے،نیب نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر طلبی کا نوٹس جاری کردیا،نیب لاہور نے مونس الہی اور انکی فیملی کی جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کررکھا ہے،نیب نے سیاسی بنیادوں پر جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرنے کے نوٹس جاری کئے،نیب نے کردار کشی کے لیے نوٹس جاری کئے،عدالت سے استدعاہے کہ نیب کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کوکالعدم قرار دیاجائے۔

مونس الٰہی

مزید :

علاقائی -