خواتین کی معاشی خود مختاری

خواتین کی معاشی خود مختاری
خواتین کی معاشی خود مختاری

  

بنگلہ دیش کا گرامین بنک غربت کے خاتمے اور خواتین کو خود مختاری دینے کی ایک بہترین بین الاقوامی مثال ہے۔ گرامین بنک کے حوالے سے کلائنٹس کی کل تعداد کا97فیصد خواتین پر مشتمل ہے، جبکہ بینک کی ایکویٹی کا95فیصد حصہ خواتین کے پاس ہے، مزید یہ کہ گرامین بینک کے13ارکان کے بورڈ آف گورنرز میں سے9 فیصد خواتین ہیں۔کیا دُنیا میں کوئی ایسا مالیاتی ادارہ یا بنک موجود ہے، جس کی95فیصد بینک ملکیت خواتین کے پاس ہو اور بورڈ ممبران میں70فیصد نمائندگی خواتین پر مشتمل ہو؟ مجھے یاد ہے کہ امریکہ کے چار بڑے بنکوں میں سے ایک بینک جے پی مورگن چیس کے صدر جیمی ڈیمن کے ساتھ میری اس حوالے سے گفت و شنید ہوئی کہ اگر دُنیا کے مالیاتی اداروں کے بورڈ آف گورنرز میں عورتوںکی نمائندگی زیادہ ہو گی تو دُنیا معاشی طور پر زیادہ محفوظ اور مستحکم ہو گی، جس سے ہم معاشی بحرانوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔ گرامین بنک اِس بات کی زندہ مثال ہے کہ خواتین کو ہر سطح پر نمائندگی دیرپا معاشی استحکام کی ضامن ہے۔ گرامین بنک کے دائرہ کار کا بغور جائزہ لیں تو ہمیںمعلوم ہو گا کہ بنگلہ دیشی ریاست چٹاگانگ کے نواح میںایک چھوٹے سے گاﺅں”باجوڑ“ سے شروع ہونے والا چھوٹے کاروباری قرضوں کا تجربہ، اب بنگلہ دیش کے80ہزار گاﺅں اور 83لاکھ خواتین تک پھیل چکا ہے،جو مجموعی طور پر4کروڑ سے زائد افراد کو 10ارب امریکی ڈالرز کے سرمائے کی سہولتیں فراہم کر چکا ہے۔گرامین بنک کی کرامات یہیںختم نہیں ہوتیں۔ اس سرمائے کی بدولت خواتین کلائنٹس نے اپنی گھریلوآمدنی میں معجزاتی طور پر اضافہ کرتے ہوئے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالرز کا اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بنک کا کرنٹ لون، ڈیپازٹ کا145فیصد رہا ہے۔

 دوسرے الفاظ میںگرامین بنک کی لیکویڈٹی اس کی کلائنٹس کی جمع شدہ بچت سے پوری کی جا رہی ہے، جو اس ادارے کی مستحکم و دیرپا مالیاتی حیثیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ گرامین بنک کا ہی معجزہ ہے کہ خواتین نہ صرف انٹر پرنیورز بنی ہیں، بلکہ باقاعدگی سے جمع کی گئی اپنی بچت، سرمائے کے طور پر استعمال کرنے میں بھی کامیاب رہی ہیں۔ یہ سب کامیابیاں ایسی نام نہاد روایات اور مفروضوں کو رد کرتی ہیں، جن کے بقول غریب خاندان نہ تو بچت کر سکتے ہیں اور نہ ہی سرمائے کا ذمہ دارانہ استعمال کر سکتے ہیں۔

گرامین بنک کا ایک اور بڑا سنگ میل یہ ہے کہ اس نے خواتین کو اِس قدر خود مختاری دی ہے کہ وہ اس ادارے کی شیئر ہولڈر ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی اعلیٰ سطحی فیصلہ سازی میں بھی شامل ہیں۔ مَیں خود گرامین بنک کی کئی بورڈ ممبران سے مل چکی ہوں۔ انہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف گاﺅں کی سادہ خواتین ہیں، جو کاروبار کے متعلق کچھ نہیں جانتیں، لیکن جیسے ہی آپ ان سے بات چیت شروع کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور گاﺅں کی یہ سادہ لوح خواتین کاروبار کو بخوبی سمجھتی اور جانتی ہیں کہ گرامین بنک کو کیسے چلانا ہے؟ کلائنٹس کی ادارے کے بورڈ میں شمولیت نے گرامین بنک کو پائیدار مالیاتی ادارے کی پہچان دی ہے، جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ عرصے میں ادارے نے اپنے قرضوں پر سروس چارج کی شرح میں بتدریج کمی کی ہے۔ گرامین بنک کے کلائنٹس اور اعلیٰ انتظامی حکام نے اِس امر کو یقینی بنایا ہے کہ بنک کا سماجی مشن قائم رکھتے ہوئے اپنا کاروبار مزید بڑھایا جائے۔ ایسا ادارہ دیکھنا چاہوں گی، جس نے اپنے سماجی و معاشی مشن کو یکساں طور پر حاصل کیا ہو!

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ گرامین بنک کی آزادی اور اس سے منسلک شیئر ہولڈر بنک کے بانی پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کو اُن کی جگہ سے ہٹانے کے لئے مصروف ِ عمل ہیں۔ حال ہی میں حکومت نے ایک آرڈیننس منظور کیا ہے، جس کے تحت حکومت کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی بنک کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرنے اور بنک کے امور میں دخل اندازی کرنے کی مجاز ہو گی۔ یہ بات میرے لئے حیران کن ہے کہ یہ اقدامات ایک خاتون وزیراعظم نے ایک ایسے مرد کے خلاف کئے ہیں، جس نے نہ صرف اپنی تمام زندگی خواتین کے حقوق کی بالادستی کے لئے وقف کی، بلکہ اِس معجزے کو ثابت کیا کہ خواتین بھی معاشی انقلاب لا سکتی ہیں۔ مجھے یہ سب دیکھ کر ایک طرف تو سخت مایوسی ہوئی ہے کہ عورت کی سب سے بڑی دشمن ایک عورت ہے، جبکہ دوسری جانب مَیں پُرامید ہوں کہ صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے مردوں کی کاوشیں ایک مثبت عمل ہیں اور اس کی سب سے بڑی مثال گرامین بنک کے بانی پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس ہیں۔

 جب مَیں پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس سے اُن کی گرامین بنک کے عہدے سے جبری برخاستگی کے بعد ملی تو اُن سے پوچھا کہ آپ نے اپنی جبری برخاستگی کے بعد ان 83لاکھ خواتین کو اپنے حق میں سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لئے کیوں نہیں کہا؟ تو پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے اپنے خاص انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ سب کرنا میرے لئے مشکل نہیں تھا، مگر مَیں کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ گرامین بنک کی ساکھ اور اس کی کلائنٹس کی خود مختاری کو کسی قسم کا نقصان پہنچے۔ یقینا مَیں ان کی آنکھوں میں وہ درد دیکھ سکتی تھی، جس کا سامنا وہ کر رہے تھے۔ مَیں پروفیسر محمد یونس کے اِس جملے سے بے حد متاثر ہوئی، جو انہوں نے اپنی جنگ جاری رکھنے کے بارے میں کہا:”ہم تب تک لڑتے رہیں گے، جب تک گرامین بنک اپنے حقیقی مالکان، یعنی گرامین کلائنٹس کو نہ مل جائے“۔ اگرچہ اس وقت ہم دو قدم پیچھے کی جانب لینے پر مجبور ہوئے ہیں،مگر مجھے یقین ہے کہ کوئی رکاوٹ بھی خواتین کی معاشی خود مختاری کے سیلاب کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم سب اس ناانصافی کے خلاف آواز اُٹھائیں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ گرامین بنک کے حقیقی مالکان، یعنی گرامین کلائنٹس ایک بار پھر اِس کا انتظام سنبھال لیں۔     ٭

مزید :

کالم -