مغرب میں توہینِ رسالت:اسباب و اثرات (2)

مغرب میں توہینِ رسالت:اسباب و اثرات (2)
مغرب میں توہینِ رسالت:اسباب و اثرات (2)

  

فلاحی تنظیموں کا کردار:عرب ممالک اور یورپ میں اسلامی فلاحی تنظیموں کی سرگرمیوں کے بھی کافی مثبت اثرات دیکھے جا رہے ہیں ،گو کہ اقوام متحدہ دہشت گردوں کی اعانت کے نام پر کئی اسلامی فلاحی تنظمیوں پر پابندی لگا چکی ہے، تاہم اس کے باوجود عرب ممالک اور یورپ سے تعلق رکھنے والی بعض تنظیمیں فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف ہیں۔ مغربی ممالک میں اسلامی تنظیموں کی مثبت کارکردگی اسلام مخالف پروپیگنڈا کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ پاکستانی مدارس کو دنیا کی سب سے بڑی این جی او کہا جاتا ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں طلبہ بغیر کچھ خرچ کئےتعلیم اور رہائش کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔ مدارس کا نظام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی کامیابی سے چل رہا ہے اور حال ہی میں بعض اسلامی مدارس نے طلبہ کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دینے کا بھی آغاز کیا ہے اور ایسے نصاب ہائے تعلیم بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے عصری اور دینی علوم کا امتزاج پیش کیا جائے۔ انہی مدارس کے ذریعے تبلیغ اور مساجد کا نظام چلانے کے لیے علماءکی بڑی تعداد تیار ہوتی ہے جو نہ صرف مسلم ممالک بلکہ مغرب اور دوسرے غیر اسلامی ممالک میں بھی خدمات سرانجام دیتی ہے۔

 اسی طرح فلسطین میں حماس، مصر میں حکمران الاخوان المسلمون اور النور پارٹی ، ترکی کی حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی عوام میں فلاحی سرگرمیوں کے لئے مشہور ہیں جبکہ سعودی عرب اور کویت کی تنظیموں کی جانب سے بھی افریقہ،یورپ اور ایشیا میں بہت سے فلاحی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں ۔ اسلامی فلاحی تنظیموں کی کارکردگی سے دنیا بھر میں اسلام کے بارے میں ایک مثبت تاثر پیدا کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ عرب ممالک میں حالیہ تبدیلی کی لہر کے بعد ہر جگہ اسلام پسند قوتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔

اسلامی بنکاری:معیشت کے میدان میں اسلامی بنکاری کے کامیاب تجربے نے بھی مسلمانوں کو عالمی معیشت میں اصلاحات کا حوصلہ دیا ہے۔ اسلامی اصولوں کے تحت چلنے والے بنکاری نظام نے دنیا میں رائج سرمایہ دارانہ نظام کو کھوکھلا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مالیاتی بحران کے باعث دنیا بھر کے ممالک شرح سود میں کمی کر رہے ہیں جس کے باعث بلا سود بنکاری کے اسلامی تصور کو تقویت ملی ہے۔ امریکی بنکوں کے دیوالیہ ہونے اور ڈالر کے غیر مستحکم ہونے کے باعث عرب ممالک میں سرمایہ اسلامی بنکوں میں رکھنے کے رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 1963ئمیں مصر کے ایک قصبے مت غمر سے شروع ہونے والی اسلامی بنکاری آج عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔ دنیا کے 27مسلمان جبکہ 15غیر مسلم ممالک میں شرعی اصولوں پر بنکاری کا نظام موجود ہے۔ عالمی سطح پر اسلامی مالیاتی اداروں کے پاس 14سو ارب ڈالر کے اثاثہ جات موجود ہیں جن میں 20فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تیل کی دولت اور مغربی بنکوں میں سرمایہ محفوظ کرنے کے رحجان میں کمی نے اسلامی بنکاری کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اسلامی سکالرز عالمی سطح پر برپا ہونے والے مالیاتی بحران کی بڑی وجہ سود کے سہارے قائم عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیتے ہیں۔ اسلامی معاشی ماہرین مغربی ممالک میں شرح سود میں کمی کو بنیاد بنا کر بلاسود بنکاری کے قابل عمل ہونے کی دلیل دیتے ہیں۔ ۔ نفع و نقصان کی بنیاد پر کام کرنے والا اسلامی نظام معیشت دن بدن مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشی ماہرین اسلامی طرز معیشت کے فروغ سے پریشان دکھائی دیتے ہیں ۔ اسلام کے خلاف اقدامات اور توہین آمیز واقعات کی بڑی وجہ بھی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ اور اسلامی طرز معاشرت و معیشت کا فروغ ہے۔

 توہین آمیز واقعات کی وجوہات کو سمجھنے کے بعد اب ہم مغربی ممالک میں پیش آنیوالے ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح بعض شرپسند عناصر ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلام ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن پاک کی توہین کرکے دنیا بھر میں اسلام کے فروغ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ان واقعات کے ذکر کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمان ان مذموم حرکتوں سے آگاہ رہیں اور ان شرپسند حلقوں کی پہچان ہو سکے جو اسلام مخالف سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں ۔ جب ہم ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مغربی ممالک کے حکمرانوں سے لے کر مذہبی پیشواو¿ں تک ، عسکری حلقوں سے لے کر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں تک ، فنکاروں سے لے کر تدریس و ادب سے منسلک مصنفوں اور شعرا تک ہر ہر شعبے کے افراد میں اسلام کے خلاف بغض و عناد پایا جاتا ہے ۔ اسلام کی توہین کرنے والوں کو بھرپور تحفظ اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے ۔ نام نہاد آزادی¿ اظہار کے نام پر ان کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ کچھ ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ جسے شہرت کی خواہش ہوتی ہے یا بہت ساری دولت اکٹھی کرنے کا سودا سر میں سماتا ہے تو وہ اسلام ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن پاک کی توہین کرکے یہ مقاصد حاصل کر سکتا ہے حتیٰ کہ مغربی دنیا تو مسلم ممالک میں اس قسم کی حرکتیں کرنے والوں کو پناہ دینے میں بھی انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کرتی ہے ۔ ان گستاخوں کی حفاظت کی خاطر کروڑوں ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں ۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین سمیت بے شمار گستاخانِ رسول مغربی ممالک میں میزبانی اور سرکاری پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔

۱۱/۹ کے بعد توہینِ رسالت و قرآن

اسلام ، قرآن پاک اور نبی اکرم ﷺ کی گستاخیوں کے واقعات تو ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں لیکن نائن الیون کے بعد ان میں نہ صرف تیزی آئی ہے بلکہ یہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت رونما ہو رہے ہیں۔ اس لئے ہم سب سے پہلے نائن الیون کے بعد پیش آنے والے واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ امریکی چینل فاکس نیوز پر 18ستمبر 2002ءکو ایک انتہا پسند مذہبی رہنما جیری فال ویل نے اسلام کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کی ۔ اس نے نبی اکرمﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں بھی ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے ۔جیری فال ویل کے الفاظ اس قدر شرمناک اور گھٹیا تھے کہ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا ان کوتوہین آمیز قرار دینے پر مجبور ہو گئے ۔

2002ءجون میں ایران کے ایک استاد نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا جس کو گرفتار کر لیا گیا اور نومبر میں اسے سزائے موت دے دی گئی ۔

14 دسمبر 2002ءکو روزنامہ امت نے اپنی رپورٹ میں ایک پاکستانی تاجر کے حوالے سے بتایا کہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو اور دیگر شہروں میں ایسی شرٹس اور کپڑے فروخت کئے جا رہے ہیں جن پر قرآنی آیات ، رسول اکرمﷺاور صحابہ کرام کے نام واضح طور پر پرنٹ تھے ۔ دسمبر ۲۰۰۲ءمیں نائیجیریا کے ایک اخبار ’دس ڈے ‘نے مقابلہ¿ حسن کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ اس مضمون کی اشاعت پر نائیجیریا میں فسادات پھوٹ پڑے اور پرتشدد مظاہروں میں دو سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے ۔

2004میں ہالینڈ کے فلمساز تھیون وان گو نے دس منٹ کی دستاویز فلم تیار کی۔ اس میں بھی نبی اکرمﷺ کی ذات اقدس، اسلام کے نظام عفت و عصمت کو تضحیک و توہین کا نشانہ بنایا گیا۔ اس فلم ساز کو نومبر 2000میں محمد بیوری نامی ایک مسلم نوجوان نے ایمسٹرڈم میں جہنم واصل کر دیا ۔

2005ئمیں سویڈن کے شہر گوٹنبرگ کے میوزیم آف ورلڈ کلچر میں ایڈز کے حوالے سے منعقدہ نمائش میں قرآنی آیات پر مشتمل برہنہ پینٹنگ پیش کی گئی جس کو مسلمانوں کے شدید احتجاج کے بعد ہٹا دیاگیا۔2005ءمیں ایک امریکی ٹی وی شو ” تھرٹی ڈیز “میں دو مرتبہ نبی اکرمﷺ کے خاکے پیش کیے گئے اپریل 2005ئمیں سویڈن کے ایک فنکار رونر سوگارڈ نے ایک عوامی اجتماع میں نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز لطیفے سنائے ۔

ستمبر 2005ئمیں ڈنمارک کے اخبار جیلنڈر پوسٹن نے نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں بارہ کارٹون شائع کیے ۔ اس پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ یہ خاکے ڈینیل پائپس نامی متعصب امریکی یہودی کے شرپسند ذہن کی اختراع تھے۔ اس کے بعد اب تک دو سالوں میں گاہے بگاہے یہ خاکے شائع ہوتے رہے۔دوسری بار فروری 2006ئمیں اور تیسری بار اگست 2007ئمیں شائع ہوئے۔ اس گھناو¿نی سازش میں صرف ڈنمارک کے چند اَخبارات شریک نہیں بلکہ فرانس، جرمنی، ناروے، ہالینڈ اور اٹلی سمیت تمام امریکی ریاستوں کے ذرائع ابلاغ بھی برابر کے شریک تھے۔اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کے خلاف اس بھیانک سازش میں گستاخانہ خاکوں کے علاوہ خانہ کعبہ اور دیگر اسلامی اَحکام و شعائر کی توہین بھی کی گئی۔ ان خاکوں کی اشاعت کے دو بنیادی کردار ہیں:پہلا ڈینیل پائپس نامی امریکی یہودی جو سابق صدر بش کے ساتھ گہرے سیاسی و تجارتی مراسم رکھتا تھا۔ دوسرا اہم کردار جیلانڈپوسٹن (یہودی کلچر)نامی اخبارکا ایڈیٹرفلیمنگ روز تھا۔ مسلمانوں کے خلاف یہ منظم سازش عیسائیوں اور یہودیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ مجموعی طور پر 21بدبخت کارٹونسٹ اس مذموم حرکت کے لئے آمادہ ہوئے اور ان میں سے ویسٹرگارڈ نامی ملعون کارٹونسٹ نے توہین آمیز خاکے تیار کئے۔ (جاری ہے)     

مزید :

کالم -