پٹرولیم کی قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کیا جائے

پٹرولیم کی قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کیا جائے

  

اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق پٹرول اور سی این جی کے نرخوں میں 5 فیصد کے حساب سے کمی کی۔ ڈیزل اور مٹی کے تیل کے نرخ نہ ہونے کے برابر گھٹائے گئے۔ یہ بھی ہفتہ وار پروگرام کے تحت کی گئی ہے پٹرول کے نرخوں میں قریباً 5روپے فی لیٹر کمی عوام کے لئے سہولت کی بجائے پریشانی کا باعث بن گئی ہے،کیونکہ اکثر شہروں میں پٹرول پمپ والوں نے صارفین کو نئی قیمت پر پٹرول دینے سے انکار کر دیا اور پرانے نرخوں پر فروخت کیا۔ اِس وجہ سے کئی پٹرول پمپوں پر جھگڑے بھی ہوئے۔ پٹرول پمپ والوں کا موقف ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے کے نرخوں کے مطابق مہنگا پٹرول خریدا کہ اِس ہفتے اتنا ہی اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ پٹرول تاحال فروخت نہیں ہو پایا اور اُن کے پاس مہنگا والا سٹاک ہے اِس لئے یہ اُن کی مجبوری ہے کہ وہ پہلا سٹاک پرانے نرخوں پر بیچیں، کیونکہ اگر نئے نرخوں کے حساب سے مہیا کریں گے تو اُن کو5روپے فی لیٹر نقصان اُٹھانا پڑے گا، صارفین کا اصرار ہے کہ جب نرخ بڑھتے ہیں تو اس وقت فوری طور پر پمپوں پر بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے اور سٹاک کا خیال نہیںکیا جاتاکیونکہ اس میں انہیں منافع حاصل ہو تا ہے۔

صارفین اور پٹرول پمپ مالکان کا یہ تنازعہ پرانے طریقے کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل کے وقت بھی ہوتا تھا وہ چونکہ ماہانہ تھا اِس لئے عام طور پر محسوس نہیںکیا جاتا تھا۔ اب یہ سلسلہ ہر ہفتے کا ہے اور اسی وجہ سے جھگڑے ہو رہے ہیں۔ پٹرول پمپ مالکان کا موقف ہے کہ پٹرول کمپنیاں ان سے سٹاک کی خریداری کے حساب سے قیمت وصول کرتی ہیں ہر ہفتے،جو آرڈر دیا جاتا ہے وہ نئے نرخوں کے مطابق ہوتا ہے۔ بچے ہوئے سٹاک کا کوئی حساب نہیں، اب اگر مہنگا خرید کر سستا بیچا جائے تو فائدے کی بجائے نقصان ہو گا اور یہ کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے۔ پہلے قیمتیں ایک ماہ کے بعد تبدیل ہوتی تھیں تو پٹرول پمپ والے کھپت کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات منگواتے تھے۔ تھوڑا فرق ہوتا تھا تو گزارہ ہو جاتا تھا،اب مشکل ہو گئی، یہ مالکان بھی ماہانہ تبدیلی کے حق میں ہیں۔ ایوان ہائے صنعت و تجارت والے بھی مطالبہ کر رہے ہیں صارفین کی بھی یہی خواہش ہے جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کمیٹیوں نے بھی یہی تجویز دی ہے۔ حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور یہ ہفتہ واری سلسلہ ختم کر کے ایک ماہ کے بعد ہی ردوبدل کرنا چاہئے۔  ٭

مزید :

اداریہ -