ایشین ہاکی میچ میں پاکستان کی ”شکستِ فاش“!

ایشین ہاکی میچ میں پاکستان کی ”شکستِ فاش“!
ایشین ہاکی میچ میں پاکستان کی ”شکستِ فاش“!

  

آج کا کالم لکھتے ہوئے ویسے تو میرے ذہن پر دو تین موضوعات منڈ لا رہے تھے۔لیکن سب سے پہلا موضوع وہ ہاکی میچ تھا جو جنوبی کوریا کے شہر انچن میں جمعرات 2اکتوبر 2014کو کھیلا گیا اورجس میں پاکستان نے بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے دو کے مقابلے میں چار گولوں سے شکست کھائی اور ایشین چیمپئن شپ کا دفاع نہ کر سکا۔

ویسے تو جس طرح پاکستان کی مجموعی سیاسی اور سماجی صورت حال کا حالِ زار گزشتہ ڈیڑھ دو عشروں سے جاری ہے اسی طرح پاکستان میں سپورٹس کی صورت حال بھی دگرگوں ہے۔مجھے کچھ خبر نہیں کہ جب کوئی قوم سیاسی اعتبار سے زبوں حال ہوتی ہے تو سارے شعبہ ہائے زندگی زوال پذیر کیوں ہو جاتے ہیں لیکن ان دونوں میں کوئی نہ کوئی باہمی تعلق ضرور ہے۔

میرا ایک دوست کہا کرتا تھا کہ اگر کوئی قوم، معاشی لحاظ سے طاقتور ہو تو افرادِ قوم جس سازگار ماحول میں پروان چڑھتے ہیں وہ ہر فیلڈ میں نمایاں ہونے لگتے ہیں۔اس قوم کے افراد کی صحتِ عامہ بھی اس ماحول میں نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہو جاتی ہے۔اس کے مقابلے میں مفلوک الحال اور مفلس قوم کے سوکھے سڑے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جب کھیل کے میدانوں میں نکلتے ہیں تو ایک تو ان کی نفسیاتی صحت دگرگوں ہوتی ہے اور دوسرے اس کے زیر اثر جسمانی صحت بھی استوارنہیں رہتی.... میرا خیال ہے کہ پاکستان کی مثال اس مقولے پر عین مین پوری اترتی ہے۔

ہمارا بچپن چونکہ پاکستان کے بچپن کا ہم عصر ہے اس لئے ہم نے خود اپنی آنکھوں سے وہ سماں دیکھا ہے کہ جب پاکستان کا حوالہ بہت سے حوالوں سے معتبر گردانا جاتا تھا اور جب ہمیں اپنے مستقبل کے سہانے خواب سونے نہیں دیتے تھے۔پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن (PIA) کا ماٹو ہوا کرتا تھا ”باکمال لوگ ، لاجواب پرواز“ انگریزی میں اس کا ترجمہ ہوتا تھا ۔”گریٹ پیپل ٹُو فلائی وِد“ (Great People to Fly With)

صد حیف کہ آج نہ وہ باکمال لوگ باقی رہے اور نہ وہ لاجواب پروازیں!.... یہی حال زندگی کے باقی شعبوں کا بھی تھا....دیسی گندم ہم خود مارکیٹ سے 8روپے فی من خرید کر لاتے تھے اور گھی (میری مراد گائے بھینس کے دیسی گھی سے ہے) سوا روپے کا سیر ملا کرتا تھا۔ لکس صابن کا کیک صرف 10آنے (62پیسے) کا ہوتا تھا اور جواں سال بکرے کا گوشت ایک روپے کا سیر ملا کرتا تھا۔یہ بات درست ہو گی کہ روپے کی قیمت کم ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔موٹرسائیکلوں ،موٹر گاڑیوں، کوٹھیوں، بنگلوں اور بینکوں وغیرہ کی تعداد کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے ۔لیکن کیا اس کا کوئی فائدہ مفلوک الحال طبقے کو بھی ہوا ہے؟ آج پاکستان کا یہی طبقہ روبہ عروج ہے اور جب غربت روبہ عروج ہو تو معاشرے کی دوسری تمام چیزیں روبہ زوال ہو جاتی ہیں۔یہ مصنوعی سماجی چکاچوند جو ہم کو بڑے بڑے شہروں میں نظر آتی ہے، یہ نظر کا دھوکا ہے، ایک طلسمِ سیمیائی ہے کہ جب کبھی کوئی ناظر اس طلسم سے آزاد ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے:

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

ہم سپورٹس کی بات کررہے تھے.... میرے سامنے اپنے زمانہ ءطالب علمی کا گورنمنٹ ہائی سکول پاک پتن کا ہاکی کا وسیع و عریض گراﺅنڈ (Play Ground) پھیل رہا ہے جہاں شائد کوئی ریجنل ہاکی میچ ہو رہا تھا۔ہم شامیانے تلے بیٹھے تھے اور ہمارے آگے صوفوں پر کیپٹن حمیدی تشریف فرما تھے۔کیا سمارٹ نوجوان تھا!! ساتھ ہی ان کی سفید فام جرمن اہلیہ بھی بیٹھی تھیں۔پاکستان اس میچ میں ہندوستان سے جیتا تھا(ان ایام میں بھارت کا نام ہندوستان مشہور تھا، بھارت بعد میں مستعمل ہوا) میچ کے بعد کیپٹن حمیدی جب تقریر کے لئے اٹھے تو تقسیم انعامات کے بعد لوگوں نے فرمائش کی کہ وہ بھی پانچ دس منٹ فیلڈ میں اتریں۔مجھے یاد ہے وہ بال کو جب بجلی کی تیزی کے ساتھ کیری کرتے ہوئے ہٹ لگاتے تھے تو پورا پنڈال نعروں سے گونج اٹھتا تھا۔انہیں دیکھ کر ہمیں بھی ہاکی کا شوق چرایا۔دسویں کلاس تک ہاکی اور والی بال کھیلتے رہے اور بے سدھ ہوکرکھیلتے رہے۔ سکول کی ہاکی الیون اور والی بال الیون میں شمولیت ان ایام میں بڑ ااعزاز ہوتا تھا!

میں ٹھیک طرح سے اس کا تعین تو نہیں کر سکتا۔لیکن شائد 1971ءکی بھارت کے ہاتھوں ہماری شکست نے پاکستان کے ہر شعبہ ءزندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔بیچ میں اگرچہ کہیں کہیں کامیابی کے جگنو ضرور چمکے لیکن مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو تب سے لے کر آج تک ایک مسلسل اندھیری رات ہے اور ہماری یہ کھیلیں (Sports) ہیں۔

گزشتہ دس پندرہ برسوں سے کہ جب سے الیکٹرانک میڈیا کا ”ست رنگ اچار“ عام بکنے لگا ہے، سپورٹس کے زوال کی ایک بڑی وجہ وہ نفسیاتی دباﺅ ہے جو نہ صرف کھلاڑیوں کو بلکہ ساری قوم کو مبتلائے عذاب رکھ رہا ہے.... کرکٹ ہو کہ ہاکی، جب بھی کوئی ریجنل یابین الاقوامی میچ / ٹورنامنٹ شروع ہوتا ہے، ہفتوں پہلے اس پر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ریٹائر شدہ کھلاڑیوں اور مبصروں کی بن آتی ہے۔وہ بغیر پیسے لئے بھی ٹی وی سکرین پر جلوہ گر ہونے کو باعثِ شہرت گردانتے ہیں جبکہ ٹی وی چینلوں نے تو اپنا وقت پورا کرنا ہوتا ہے۔آخر 24گھنٹے کی نشریات میں اگر بارہ گھنٹے اشتہارات (Ads)کے ہوں تو باقی بارہ گھنٹے تو کسی نہ کسی طرح پورے کرنے ہی ہوتے ہیں۔ہمارے ٹی وی ناظرین ابھی اتنے بالغ الذہن نہیں ہوئے کہ وقت کی قدر پہچان سکیں۔اس لئے وہ کرکٹ یا ہاکی کی الف بے بھی نہ جانتے ہوئے مبصروں اور کمنٹری کرنے والوں کو سننا، چھٹا رکنِ اسلام سمجھتے ہیں۔

اسی میڈیا نے ایک اور غلط تصور بھی ناظرین میں عام کر رکھا ہے کہ میچ جب انڈیا اور پاکستان کا ہو تو تب تو اس کا ”لطف“ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔یہ تصور (Perception) جان بوجھ کر میڈیا کے آئی کونوں نے وضع کیا ہوا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس طرف آئیں اور زیادہ سے زیادہ اشتہارات چلا کر زیادہ سے زیادہ اپنی جیبیں بھری اور عوام کی خالی کی جائیں۔

سالہا سال سے پاکستان نہ تو کرکٹ میں اور نہ ہاکی میں کوئی بین الاقوامی حیثیت/ مقام بنا سکا ہے۔ جو مقام تھا وہ ماضی بعید میں تھا، ماضی ءقریب اور دورِ حاضر میں تو بس اللہ ہی اللہ ہے!

ازراہِ اتفاق کہیں اگر بھارت اور پاکستان کا فائنل میں ٹاکرا ہو جائے تو پھر تو ٹی وی اینکرز اور نیوز کاسٹرز کی چاندی نہیں پلاٹینم ہو جاتی ہے۔ایسے معلوم ہوگا کہ رستم زماں گاماں پہلوان اور رستمِ یورپ زبسکو کا دنگل ہونے جا رہا ہے۔پھر کمنٹری میں ایسی ایسی اصطلاحیں استعمال کی جائیں گی کہ جن کو سن کر ہم جیسے ریٹائرڈ فوجی بھی شرما شرما جائیں یا ہنس ہنس کر رو دیں ۔مثلاً یہ تراکیب و اصطلاحات ملاحظہ کریں جو خالصتاً فوجی پس منظر کی حامل ہیں۔(1) دھاوا بولنا (2) اٹیک کرنا (3) بازوکش کرنا (4) ٹارگٹ Achieve کرنا (5) خم ٹھونک کر میدان میں اترنا (6) تاریخی حریفوں کا آمنا سامنا (7) چاروں شانے چت کر دینا (8) دفاعی سٹرٹیجی اور جارحانہ سٹرٹیجی (9) جوابی حملہ کرنا (10) دشمن کا دفاع توڑ کے رکھ دینا.... وغیرہ وغیرہ۔ یوں معلوم ہوگا کہ PMA سے سٹاف کالج تک کی بلکہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی تک کی بیشتر پروفیشنل اصطلاحیں ان دونوں کھیلوں کے کھلاڑیوں نے اپنا کر، فوجیوں کو فارغ کر دیا ہے۔

کرکٹ کی ایک ایک بال پر وہ وہ طومار باندھے جاتے ہیں اور ہاکی کے ایک ایک شاٹ پر ایسی ایسی کمنٹریاں کی جاتی ہیں کہ باید و شاید.... ساتھ ساتھ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیایہ بھی بڑے تواتر اور تسلسل سے کہا جاتا ہے کہ بھارت اور پاکستان دو ایسے روائتی حریف ہیں کہ جب یہ مقابل آ جائیں تو کھیل کا لطف ہی اور ہوتا ہے۔ اور پھر اگر کبھی پاکستان ہاکی میں پہلے ایک گول کرلے یا کرکٹ میں کوئی چھکا چوکا لگا کر اپنی پوزیشن مستحکم بنا لے تو مبصر کی چیخ و پکار شنیدنی اور تماشائیوں کے بھنگڑے ،لڈیاں اور خٹک ڈانس دیدنی ہوتے ہیں جنہیں ٹی وی کے کیمرے یوں Capture کرتے ہیں جیسے عقاب، کسی خرگوش کو اچاک کر سلوموشن میں فراٹے بھرتا فضا کی وسعتوں میں غائب ہو جاتا ہے۔

2اکتوبر کو انچن میں جو ہاکی میچ ہوا اس میں پہلا گول پاکستان نے پہلے ہاف کے تیسرے منٹ ہی میں کر دیا تھا۔پھر اچانک ہمارے پورے علاقے کی بجلی چلی گئی۔جب 5بجے شام بجلی آئی تو میرا ایک پرانا Buddy (عارف خان) جو میرے ہاں کام کرتا ہے، بھاگا بھاگا آیا اور کہا : ”سر ٹی وی لگاﺅ۔دیکھو میچ کا کیا بنا ہے؟“.... سچی بات ہے اشتیاق تو مجھے بھی تھا لیکن اتنا نہیں جتنا اس کو تھا۔میں نے ریموٹ کا بٹن دبایا۔میانوالی کے جلسے میں شاہ محمود قریشی سرائیکی میں تقریر کررہے تھے.... دس منٹ تک سکرین پر ہاکی کی کوئی خبر نہ آئی اور بجلی پھر اچانک غائب ہو گئی۔چھ بجنے میں 5منٹ باقی تھے جب دوبارہ اجالا ہوا تو سکرین پر ہاکی کا بلیک آﺅٹ تھا۔میں نے عارف کو کہا: ”پاکستان فائنل ہار گیا ہے اور بھارت 16برس بعد جیت گیا ہے....مبارک ہو!“ وہ کھسیانا ہو گیا۔اگلے ہی لمحے 6بجے کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔سب سے آخر میں ایک ”مختصرسی“ خبر یہ بھی تھی: ”پاکستان بھارت سے 2کے مقابلے میں 4گول سے ہار گیا ہے“۔ میں نے قہرآلود نگاہوں سے عارف کو دیکھا اور کہا: ”میں نے کہا تھا ناں کہ پاکستان ہار گیا ہے؟.... وجہ یہ تھی کہ اگر جیت جاتا تو اکثر چینل بریکنگ نیوز کا اتوار بازار لگا دیتے اور سارے بازار کو کاندھوں پر اٹھا لیتے اور باقی جو بچتے وہ پٹیوں کے توسط سے بھارت جیسے دیرینہ ”دشمن“ کو ”شکستِ فاش“ سے دوچار کرکے بھگانے کی نویدیں دکھا اور سنا رہے ہوتے!“....چلو سستے چھوٹے! ٭

مزید :

کالم -