جائزہ :مودی، نوازشریف امریکہ یاترا

جائزہ :مودی، نوازشریف امریکہ یاترا
 جائزہ :مودی، نوازشریف امریکہ یاترا

  

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا دورہ تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب تک محدود تھا۔ جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا یہ سرکاری دورہ¿ امریکہ بھی تھا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب بھی اس میں شامل تھا۔ پاکستان میں دھرنوں کے سبب جو صورت حال بنی ہوئی تھی اس کے پیش نظر وزیراعظم کے دورہ کے بارے میں طرح طرح کے خدشات تھے۔ اس میں ہمارے میڈیا کے اس حصے کا کمال بھی شامل تھا، جو ماشا ءاللہ ہرچیزمیں کوئی منفی پہلو ضرور تلاش کرلیتا ہے۔ بھارتی میڈیا میں اس سلسلے میں عجیب وغریب جوش وخروش تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بھارتی میڈیا کو مودی کا بخار لاحق ہوگیا تھا۔ مودی کی شخصیت سازی کے لئے زمین وآسمان کے قلابے ملائے جارہے تھے۔ حالانکہ بی جے پی حکومت ہنی مون کے خاتمے سے بھی پہلے پہلے حال ہی میں جو ضمنی انتخابات ہوئے ہیں، ان میں بی جے پی کو خاصی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے، لیکن بھارتی میڈیا نریندر مودی کی کامیابیوں کے گن گاتا رہا۔ ہمارے ہاں دانشور قسم کے حلقے اکثر اس بات کا رونا روتے ہیں کہ موٹروے، اوورہیڈ برجز سرکلر ریلوے، میٹروبس سے کیا غریب کو کھانا مل جائے گا؟ بھارت میں جو چالیس لاکھ خاندان چوہے کھا کے گزارا کرتے ہیں اور آدھی آبادی بیت الخلاﺅں سے محروم ہے وہ ہرجگہ سے سرمایہ کاری کے لئے دوڑ دھوپ کررہا ہے۔ انڈین عوام اور میڈیا نریندر مودی سے یہ سوال بالکل نہیں کرتا کہ جناب مریخ پر سیارچہ بھیجنے سے کیا کسانوں کی خودکشیاں رک جائیں گی جن چوہوں کو وہ کھاتے ہیں وہ خرگوش بن جائیں گے یا وہ بیت الخلاءمریخ پر تعمیر کریں گے؟

بھارتی میڈیا اپنے وزیراعظم کی شخصیت سازی کے لئے تن من دھن سے لگاہوا تھا۔ امریکہ میں بھارتی چینل گھنٹوں مودی کے بارے میں پروگرام نشر کررہے تھے اور بار بار اس کی تکرارہورہی تھی کہ ”سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے دورے پر آرہے ہیں “۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان رہنما کا نعرہ ”لواں گے لواں گے کشمیر لواں گے “ ابھی تک بھارتی میڈیا کے دل میں کانٹا بنا ہوا تھا، اب انہیں خدشہ تھا کہ پاکستانی وزیراعظم بھی ضرور کوئی نہ کوئی ایسی بات کرے گا ۔ اس حوالے سے بھی وہ ”نریندر مودی کو اکسارہے تھے کہ پاکستان کو ابھی موقع پر ”کرارا جواب “ دیا جانا چاہئے۔ تاہم نہ اہل پاکستان کو یہ توقع تھی نہ بھارتی میڈیا کو اندازہ تھا کہ نواز شریف کا سارا خطاب ہی ایک طرح سے مسئلہ کشمیر پر ہوگا۔ نواز شریف کے خطاب میں اس کے علاوہ جوکچھ تھا وہ اسی مرکزی نکتہ کی تمہید تھی یا پھر اس کا تتمہ تھا۔ نواز شریف کے خطاب کے بعد بھارتی میڈیا کا ہیجان دیکھنے کے قابل تھا۔پاکستان کو ”کرارا جواب“ دینے کا مطالبہ اب دکھ بھری پرارتھنابن چکی تھی۔ زبانیں زہر اگلنے لگیں خبروں میں شعلے برسنے لگے۔

نریندر مودی نے جنرل اسمبلی سے ہندی میں خطاب کیا۔ بھارتی میڈیا نے اس کو بھی خوب اچھالا ، کہا گیا کہ نریندر مودی گجراتی ہوکر ہندی میں خطاب کرے گا۔ یہ اس کی حب وطنی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ حالانکہ نریندر مودی ماسوائے گجرات ہرجگہ ہندی ہی بولتا ہے اگر وہ گجراتی میں اپنی انتخابی مہم چلاتا تو اسے ووٹ کون دیتا۔ نریندر مودی نے گجرات میں جو ترقی کی ہے وہ انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے صنعتوں کا قیام ہے اور اس کے اب تک کے رویے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سارے بھارت میں اسی طرز پر ترقی کا خواہش مند ہے۔ دنیا کا امیر ترین بھارتی مکیش امبانی نریندرمودی کے بہت قریب ہے، امبانی کا ایک قریبی ساتھی گوتم اوانی نریندر مودی کے ہم رکاب تھا اور اسی ہوٹل میں ٹھہرا جہاں نریندر مودی کا قیام تھا۔ ادانی کا کہنا تھا کہ مکیش امبانی نے بھی ہم رکابی کرنا تھی لیکن بوجوہ وہ قافلے میں شامل نہ ہوسکا۔ بھارت میں مکیش امبانی نریندر مودی کا جہانگیر ترین ہے۔

امریکہ میں بھارتیوں کی ایک بہت بڑی اکثریت پائی جاتی ہے اور ان میں سب سے زیادہ اور سب سے متمول گجراتی ہیں۔ گجراتیوں کا گجراتی بھائی کسی مقام پر پہنچ جائے تو اس کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کے لئے گجراتی ہونا ہردوسرے رشتے سے زیادہ قابل ترجیح ہے۔ ہمارے گجراتیوں کی طرح اصلی گجراتی بھی اس سلسلے میں جماعتی اورسیاسی وابستگیوں کو آڑے نہیں آنے دیتے ۔ گجراتی اپنے گجراتی بھائی کے لئے تن من دھن لٹانے پر آمادہ تھے اس لئے لوٹنے والے بھی پیدا ہوگئے۔ میڈیسن سکوائر گارڈن میں خطاب کے انتظامات کرنے والوں نے ایک روز بتایا کہ انہوں نے اس غرض سے عطیات کی شکل میں ڈیڑھ ملین ڈالر جمع کرلئے ہیں۔ دوسرے دن جب تقریبات کی تفصیلات بیان کررہے تھے تو عطیات کی کل مالیت بتانے سے انکار کردیا۔ پوچھا گیا کہ رقم تو بچ جائے گی اس فاضل رقم کا کیا کرو گے؟ کہنے لگے کسی بھی خیراتی کام پر خرچ کردی جائے گی کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

بھارتی نیتا جو کھدر کا لباس پہنتے دھوتی باندھتے اور بظاہربے حد سادہ نظر آتے ہیں۔ ایسے ہیں نہیں سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں سب سے زیادہ روپیہ بھارتی سیاست دانوں کا پڑاہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے۔ بھارتی وزیراعظم ایک خصوصی طیارے سے آئے ان کے ساتھ ایک بہت بڑا قافلہ بھی آیا۔ انہوں نے لندن میں بھی عالی شان ہوٹلوں میں قیام کیا۔ نیویارک میں ”دی نیویارک پیلس ہوٹل“ میں سویٹ بک کرائے گئے دی نیویارک پیلس ہوٹل کے سنگل کمرے کا کرایہ 427ڈالر ہے۔ بعض سنگل رومز کا کرایہ ایک ہزار ایک سوپچانوے (1,195.00) ڈالرتک ہے اس سے اندازہ لگالیجئے کہ مکمل سویٹ کا کرایہ کتنا ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف کے پرتعیش قیام کے بارے میں چند چینلز نے دون کی لی اس کے بعد دوکالم نگاروں نے اس پر غزل مکمل کرنے کی کوشش کی۔ ایک کالم نگار تو دنیا بھر میں سیاحت کا شوق رکھتے ہیں ، تعجب ہے کہ انہوں نے والڈروف اسٹوریا ہوٹل میں ایک روم ایک شب کے کرائے میں ایسا مبالغہ کیسے کرلیا۔ والڈروف اسٹوریا مین ہٹن کے مرکز میڈیسن ایونیو سے ذراہٹ کر واقع ہوا ہے۔ دی نیویارک پیلس میڈیسن ایونیو پر واقع ہے جبکہ والڈروف اسٹوریا پارک ایونیو پر واقع ہے۔ اس کے سنگل روم کا کرایہ 399ڈالر اور اعلیٰ ترین یعنی One king, one bedroom signature suiteکا کرایہ 499ڈالر ہے۔ گویا والڈروف کی آخری حد نیویارک کے کم سے کم کرائے سے صرف ستر ڈالر زیادہ ہے۔

کالم نگار نے اس ضمن میں وزیراعظم کو سفارت خانے یا سفیر کی رہائش گاہ پر ٹھہرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ دراصل یہ آئیڈیا عمران خان کا ہے جو سب کچھ اپنے وزیراعظم بننے پر موقوف کئے ہوئے ہیں اس وقت ان کا کنٹینر کیا ہے ان کی راتیں بنی گالہ میں کیسے سکون آور بنتی ہیں اس کا کوئی ذکر نہیں کہ ابھی تک وہ وزیراعظم نہیں ہیں۔ محترم کالم نگار کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ سفارت خانوں اور سفیروں کے گھروں میں ایسی گنجائش بہت کم ہوتی ہے دنیا کے کسی غریب ترین ملک کا صدر یا وزیراعظم سفارت خانے یا سفیر کے گھر نہیں ٹھہرتا اس سلسلے میں سیکیورٹی بھی ایک اہم ترین مسئلہ ہوتا ہے۔ مہمان اور میزبان ملک کی سیکیورٹیز مل کر طے کرتی ہیں کہ ملکی یا حکومتی سربراہ کے لئے کیسی رہائش گاہ مناسب ہوگی اس میں سیکیورٹی کے حوالے سے کیا کیا سہولتیں ہونا چاہئیں کسی ہنگامی صورت حال میں عمارت سے نکلنے کے راستوں کی کیا پوزیشن ہوگی۔ امریکی صدر روز ویلٹ چونکہ ویل چیئرمیں ہوتے تھے اس لئے امریکی سیکیورٹی اہل کار اندرون ملک اور بیرون ملک صدر کی قیام گاہ کا اس خیال سے بھی جائزہ لیتے تھے کہ ہنگامی صورت حال میں اگر لفٹ پھنس جائے یا بند ہوجائے تو کیا عمارت کے زینوں پر سے ویل چیئر نیچے اترسکے گی۔

مقبوضہ کشمیر میں سیلاب سے جو تباہی آئی ہے اس کے بارے میں کون نہیں جانتا وہاں تو مودی حکومت نے کچھ کیا نہیں پاکستان کو دعوت دے دی کہ آزاد کشمیر میں سیلاب سے تباہی کے خلاف وہ مدد کو تیار ہیں ،اپنی اس پیشکش کا انہوں نے یہاں بھی ذکر کیا۔ انہوں نے پاکستان اور پاکستانی وزیراعظم کو کوئی خاص کرارا جواب تو نہیں دیا البتہ بھارت کی تاریخی کہہ مکرینوں کا مظاہرہ ضرور کیا۔ تقریر کے آغاز میں انہوں نے اقوام متحدہ کو امن کے لئے امید کی کرن قرار دیا اور اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا لیکن مسئلہ کشمیر کے بارے میں پھر وہی رٹ کہ ہم سے بات کریں، اقوام متحدہ میں لانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ خیر اس میں تو خود ہمارے اپنوں کا کیا دھرا بھی سامنے آتا رہتا ہے۔ شملہ معاہدے میں ہم نے خود اپنے ہاتھ کاٹ کر بھارت کے حوالے کردیئے تھے۔ جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن تسلیم کرلیا گیا اور یہ وعدہ کرلیا کہ مسئلہ کشمیر سمیت کوئی بھی مسئلہ کسی عالمی فورم پر نہیں اٹھایا جائے گا باہمی مذاکرات سے حل کیا جائے گا۔ لیکن بھارت اس کے بعد جب چاہتا ہے مذاکرات سے دامن کش ہوجاتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی تقریر میں بھی نریندر مودی نے مذاکرات پر آمادگی تو ظاہر کی لیکن اس کے ساتھ شرط لگادی کہ پاکستان پہلے دہشت گردی کا خاتمہ کرے۔ اب پاکستان کا مو¿قف اور ہے، وزیراعظم پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی قربانیوں اور خود پاکستان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں نقصانات کا وضاحت سے ذکر کیا اور حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ دہشت گردی کی تو جڑ بھی مسئلہ کشمیر ہے۔ جب تک اس جڑ کو درست نہیں کیا جائے گا اس پر دہشت گردی کے تلخ برگ و بار آتے رہیں گے۔ پاک بھارت بہتر تعلقات ، تجارت میں اضافہ اور دہشت گردی میں خاتمے کا دارومدار تو مسئلہ کشمیر کے حل پر منحصر ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی اس سلسلے میں شاید کسی بہتر رویے کا مظاہرہ کرسکے۔ وہ بھارت میں کاربوریٹ سیکٹر کی ترقی کا متمنی ہے۔ وہ تعمیر وترقی سے دل چسپی رکھتا ہے اور کوئی بھی شخص جوایسی سوچ رکھتا ہو یہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ دوایٹمی طاقتیں ایک دوسرے سے سینگ پھنسائے تعمیر وترقی کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی رہیں۔ بھارت سے بہتر تعلقات کے پیچھے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی بھی یہی سوچ کارفرما ہے۔ لیکن یہ بات بھی بے حد منطقی ہے کہ کشمیر ایک آتش فشاں ہے آتش فشاں کے اوپر محض مٹی ڈال کے تعمیر وترقی کے محل تعمیر کئے گئے تو وہ کسی بھی وقت بھسم ہوسکتے ہیں۔

جب بھی جنرل اسمبلی سے خطاب یا کسی بھی غرص سے کسی ملک کے رہنما امریکہ آتے ہیں تو عموماً ان کے خلاف مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ نریندر مودی اور نواز شریف کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے۔ نریندر مودی کے خلاف تو اقوام متحدہ کے سامنے بھی اور میڈیس سکوائر گارڈن کے باہر بھی احتجاج ہوتا رہا۔ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ ، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ ان مظاہرین میں سکھ اور پاکستانی بھی شامل تھے۔ بلکہ نریندرمودی کے 2002ءکے مسلم کش فسادات کے حوالے سے کئی امریکیوں نے بھی قاتل قاتل کے کتبے اٹھارکھے تھے۔ نوازشریف کے خلاف اکلوتی تحریک انصاف کے مظاہرین تھے۔ پاکستان ہوتا تو نریندرمودی اور نواز شریف کو بھول کر ان مظاہرین کی مسلسل کوریج ہوتی رہتی۔ یہاں کے میڈیا نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ میڈیسن سکوائر گارڈن میں بھارتیوں کا بلاشبہ ایک بہت بڑا مجمع تھا ایسا لگتا تھا کوئی جشن برپا ہے، میڈیسن ایونیوپر دور دورتک بڑی بڑی سکرینیں لگاکر نریندرمودی کا خطاب براہ راست دکھایا جارہا تھا، نریندر مودی نے بھارت کی شان میں خوب قصیدے پڑھے مریخ پر جانے کا فخریہ ذکر کیا۔ تعمیر وترقی کے لئے کام کرنے کے عزائم کا ذکر کیا۔ کسی نے اس جوش وخروش میں غورکرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ایک طرف مودی جی بھارت میں ترقی کی نوید دے رہے ہیں دوسری طرف اپنے لوگوں کو دوسرے ملکوں میں بھجوانے کے خواب دکھارہے ہیں۔ بڑی بڑی باتیں کرتے کرتے انہیں اچانک یاد آیا کہنے لگے میں چھوٹا آدمی ہوں چھوٹے چھوٹے کام کروں گا ، سب کے لئے بیت الخلاءبناﺅں گا۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھتا رہا کہ کبھی پاکستانی میڈیا بھی بھارتی میڈیا کی طرح نہ سہی کسی حدتک قومی سوچ اپنا سکے گا؟ ٭

مزید :

کالم -