افغانستا ن میں سیا سی استحکا م:ایک سراب

افغانستا ن میں سیا سی استحکا م:ایک سراب
 افغانستا ن میں سیا سی استحکا م:ایک سراب

  


افغانستان میں عبداللہ عبداللہ اور ڈاکٹر اشرف غنی کے ما بین ہونے والے معاہدے کہ جس کے تحت اشرف ٖغنی افغانستان کے صدر اور عبداللہ عبداللہ وزیراعظم یا چیف ایگزیکٹوبنے ہیں اس معا ہدے کو مغرب سمیت دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔خاص طور پر مغربی میڈیا ایسا تاثر دے رہا ہے کہ دونوں افغان راہنما وں کے ما بین ہو نے والے مفا ہمتی معا ہدے سے افغانستان میں اب سیاسی استحکا م پیدا ہو جا ئے گا ۔افغانستان میں امن چاہنے والے ہر فرد کی یہی خواہش ہونی چا ہئے کہ 35سال سے زائد عرصہ تک جنگ اور خانہ جنگی کا شکا ر رہنے والے اس ملک کے با سیوں کو امن نصیب ہو جائے،مگر بد قسمتی سے ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے ما بین ہونے والے اس مفا ہمتی معا ہدے سے زیا دہ امیدیں رکھنا چند حقا ئق کو نظر انداز کرنے کے مترا ف ہے۔ایک تو خود افغانستان کی جدید تا ریخ ثا بت کرتی ہے کہ مختلف فریقین نے جب بھی بیرونی دبا و کے زیر اثر کسی معا ہدے کو قبول کیا تو اس معا ہدے کی عمر انتہا ئی مختصر رہی۔دوسرا دنیا بھر میں حکومت سازی کے اعتبار سے ایک مر وجہ اصول یہ قا ئم ہے کہ کسی بھی حکومت کو تشکیل دیتے ہوئے اس امر کا خاص طور پر خیا ل رکھا جا تا ہے کہ حکومت میں ایسے اتحا دیوں یا فر یقین کو ہی شا مل کیا جائے جو اہم مسا ئل یا ایشوز پر اگر با لکل ایک سی نہیں تو کا فی حد تک ملتی جلتی سوچ رکھتے ہوں۔

کیا عبد اللہ عبد اللہ اور اشرف غنی کے ما بین افغان ایشوز یا مسائل کے حوالے سے ایک سی ہی سوچ پا ئی جا تی ہے؟صدارتی امیدوار کے طور پر اشرف غنی کو جنو بی اور مشر قی افغا نستان کے پختون جنگجو راہنماوں کی حما یت حا صل تھی۔اس کے ساتھ ساتھ اشرف غنی کو ازبک جنگجو رشیددوستم کی حما یت بھی حا صل رہی۔ رشید دوستم اس سے پہلے حا مد کرزئی کو اس بنا ء پر اپنی حما یت فرا ہم کرتا رہا تھا کیو نکہ اسے اپنے علاقے میں مکمل خود مختا ری دی گئی تھی۔جبکہ اس صدراتی انتخابا ت کے معرکے میں عبداللہ عبداللہ کو شما لی اور مغربی افغانستان کے ایسے جنگجوؤں کی حمایت حا صل رہی کہ جو ماضی میں شما لی اتحاد میں شامل تھے اور 90کی دہائی کے وسط سے طا لبا ن کے خلاف صف آرا تھے۔اشرف غنی 1991 ء سے 2002ء تک عالمی بینک سے وابستہ رہے مغربی میڈیا ان کو ایک اسٹیٹس مین اور ما ہر معیشت قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف عبداللہ عبد االلہ نہ صرف وزیر خارجہ رہے ،بلکہ تقر یبا دو عشروں سے زائد افغا نستان میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اشرف غنی کے مقابلے میں عبداللہ عبد اللہ کو ایک گھا گ سیاست دان مانا جاتا ہے۔ عبداللہ عبد اللہ کو شما لی اتحاد کے جنگجووں کے ساتھ ساتھ افغان فوج کے تاجک فوجیوں کی بھی حما یت حاصل ہے۔ معا ہدے سے پہلے جب عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے ما بین ووٹوں کی آڈیٹنگ کو لے کر شدید تنا زعہ جا ری تھا تو اس وقت عبداللہ کے حامی با ر با ر صدارتی محل پر قبضے، متبادل حکومت بنا نے اور اشرف غنی کی جیت کے خلاف \'Orange\' اور\'Green\' تحریکیں چلانے کی دھمکیاں دیتے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ امید رکھنا کہ یہ دونوں افغان راہنما زیا دہ دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر حکومت چلا پا ئیں گے ممکن دکھا ئی نہیں دیتا۔

افغانستان کو اس وقت جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان سے یہ مفا ہمتی حکومت کس حد تک عہدہ برا ہو سکتی ہے اس با رے میں ابھی وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ افغان حکو مت اس وقت شدید معا شی مسا ئل سے دوچا ر ہے حتیٰ کہ اس کے پا س حکومتی عہدے داروں کو تنخواہ تک دینے کے لئے پیسے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت نے ایمر جنسی بنیا دوں پر امریکہ سے 537 ملین ڈالرز ما نگے ہیں۔ رائٹرز کے مطا بق امریکی سفیر جیمزکننگہیم کا کہنا ہے کہ ابھی افغانستان کو یہ رقم فراہم نہیں کی جا سکتی۔ افغانستان کو اگلے سال ہی یہ رقم فراہم کی جا سکتی ہے۔

جبکہ جیمز نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ رقم دینے سے پہلے یہ بھی دیکھا جا ئے گا کہ افغان حکومت کس حد تک اپنے غیر ضر وری اخراجا ت پر قابو پانے میں کا میا ب رہی ہے،جبکہ اس نے ٹیکسوں کے حصول کے لئے کیا ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ امریکہ گز شتہ ایک عشرے میں افغانستان کو 104 بلین ڈالر فراہم کر چکا ہے ۔ہر سال امریکہ افغانسان کو 5ارب ڈالرز سے لے کر8ارب ڈالرز تک کی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ دیگر ممالک کی جانب سے ملنے والی افغان امداد اس کے علا وہ ہے، مگر اس رقم کا بڑا حصہ کرپٹ افغان جنگجوؤوں، حکومتی عہدے داروں اور امریکی فوجی کنٹریکٹرز ہی کی جیبوں میں گیا۔ افغان عوام کی واضح اکثریت کو اس امداد کا عشر عشیر بھی نہ ملا۔\"The Times کی 21ستمبر کی رپورٹ کے مطابق سرکا ری ملا زموں کو تنخواہ نہ ملنے سے افغانستان میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔ اگر بر وقت غیر ملکی امداد سے اس مسئلہ کو حل نہ کیا گیا تو یہ سرکا ری ملازمین بغاوت پر اتر سکتے ہیں۔تاہم اس وقت افغا ن حکومت کے لئے افغان طالبان کی مسلح تحریک کا چیلنج معا شی چیلنج کے مقابلے میں کئی گنا بڑا ہے‘‘۔

عین اس وقت جب اشرف غنی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا رہے تھے تو طالبان نے کابل ائیر پورٹ کے قریب ایک ایسی سڑک پر واقع چیک پوسٹ پر حملہ کیا کہ جو سڑک امریکی سفارت خانے کی جا نب جا تی ہے۔ اس حملے میں افغان سیکیورٹی فورس کے چار اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ اسی روز افغان صوبے پکتیا میں ایک خود کش حملے میں سیکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکا روں کے ساتھ ساتھ آٹھ افراد کو ہلاک کیا گیا۔ اشرف غنی کی حلف برداری سے تین روز قبل صوبے غزنی کے اہم سٹرٹیجک ضلع پر بھی طا لبا ن نے اپنا کنٹرول حاصل کر لیا۔اس سال موسم بہار کے آغا ز سے لے کر اب تک طالبا ن کے حملوں میں 2000سے زائد افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کے اہلکار جاں بحق ہوئے۔یہ تعدار گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا زیا دہ ہے۔ جبکہ نیو یارک ٹا ئمز کی رپوٹ کے مطابق2014ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران طالبان نے 700کے لگ بھگ مسلح حملے کئے، جن میں 1368پولیس اہلکار، جبکہ 800فوجی ہلاک ہوئے اشرف غنی نے صدر بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں طا لبان کو مذ اکرات کی دعوت دی، مگر اس کے فورا بعد طا لبا ن ترجمان نے بیان جا ری کیا کہ غنی کی حکومت امریکی منصوبے کا حصہ ہے اس سے کوئی با ت چیت نہیں کی جائے گی۔

پینٹا گون کے سابق اہلکار اور مشیر انتھونی کوڈزمین گزشتہ ہفتے اپنے تجز یے میں کہتے ہیں کہ افغانستان کی جنگ ایک ایسی جنگ بن چکی ہے کہ جس میں طالبان مسلسل کا میا بیا ں حا صل کر رہے ہیں، دہشت گرد کارروائیوں میں اضا فہ ہورہا ہے اور حکومت کا کنٹرول نہ ہو نے کے برابر ہے۔کوڈزمین کے مطا بق افغانستان میں طا قت کے خلا ء سے نہ صر ف افغانستان، بلکہ پاکستان سمیت اس کے دیگر پڑوسی ممالک کا بھی امن مجروح ہو سکتا ہے۔ امریکی آشیربا د سے ایک عشرے سے بھی زائد تک افغا نستان کے اقتدار پر براجمان رہنے والے حامد کرزئی نے اپنے الو داعی خطا ب میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ افغا نستان میں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ اس ملک میں امریکی افواج کی موجودگی ہے ۔امریکی افواج آپریشنز کے ذریعے عام افغانوں کے خلاف ایسی ظالما نہ کارروائیاں کرتے ہیں کہ جن سے طالبان کی حما یت میں اضا فہ ہو جا تا ہے۔ حامد کرزئی نے اپنے اقتدار کے دوران امریکہ اور مغر بی دنیا سے بھر پور مفادات حا صل کئے، مگر ان کے اس تجزیہ کو ہم حقا ئق کی روشنی میں رد نہیں کر سکتے۔اب حامد کرزئی کے جا نشین اشرف غنی بھی اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکی خوشنودی حاصل کرنے میں اس حد تک چلے گئے کہ اقتدارسنبھالتے ہی انھوں نے پہلا کا م یہی کیا کہ امریکہ کے ساتھ bilateral security agreement, پر دستخط کر دیئے، جس کے تحت اب 9800 امر یکی فوجی دسمبر 2014کے بعد بھی افغانستان میں قیا م کر سکیں گے۔افغان اشرافیہ جس کا ظاہری چہرہ بے شک عبد اللہ عبداللہ یا اشرف غنی جیسے لوگ ہی ہوں، مگر حقیقت میں انتہائی کرپٹ اور ظالم جنگجو ہی افغانستان کی حقیقی اشرافیہ ہیں، جن کے انحصا ر پر ہی کابل میں حکومت بنا ئی اور پھر چلا ئی جا تی ہے۔افغا نستان کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ یہاں کی اشرافیہ محض اپنے اقتدار اور مرا عا ت کے لئے سامراج کے ساتھ سودا با زی کرتی ہے اور اور اس کی قیمت عام حریت پسند افغان کو دہشت گردی اور خانہ جنگی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔*

مزید :

کالم -