سی این جی اور مقامی مسائل!

سی این جی اور مقامی مسائل!
سی این جی اور مقامی مسائل!

  

عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران سوئی گیس کمپنی کی طرف سے مسلسل سی این جی کی سپلائی والی سہولت دی گئی تو گزارش کی تھی کہ اگر گیس سٹیشن بند نہ کئے جائیں اور ہفتہ بھر کھلے رہیں تو بھی گیس کی کھپت چھٹیوں کے دوران دو روز چوبیس چوبیس گھنٹوں کے لئے گیس مہیا کرنے سے کم نہیں تو اس سے زیادہ بھی استعمال نہیں ہوگی۔اس کی مثال یہ تھی کہ ہفتے میں دو مرتبہ گیس دی جائے تو ہر گاڑی والا دن میں دو مرتبہ گیس لیتا اور سلنڈر فل کراتا ہے۔اس کے لئے لمبی سی قطار میں کھڑا ہو کر اسے گھنٹوں انتطار کی سولی پر بھی لٹکنا پڑتا ہے۔اگر یہی سٹیشن ہفتہ بھر کھلے رہیں تو ایک ہی دن میں دو مرتبہ سلنڈر بھروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔بلکہ ہر شخص سابقہ کی طرح اپنی اپنی ضرورت کے مطابق ایک سو ، دو سو یا تین سو روپے کی گیس لے گا اور یہ افراتفری نہیں ہوگی، اس میں صرف ایک احتیاط کرنے کی ضرورت تھی وہ یہ کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے اگر گیس بند نہیں کی جا سکتی تو ویگنوں اور بسوں وعیرہ کے ایک سے زیادہ سلنڈر اتروا دیئے جائیں اور یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ گیس صرف دو مرتبہ ملے گی اس سے زیادہ نہیں دی جائے گی لیکن اس کی نوبت نہیں آنے دی جاتی، حتیٰ کہ سی این جی سٹیشن والوں کی ایسوسی ایشن بھی یہ مطالبہ نہیں کرتی وہ بھی یہی چاہتی ہے کہ ہفتے میں 48نہیں 72گھنٹے گیس دی جائے۔یہ مطالبہ بھی نہیں مانا جاتا البتہ 48گھنٹے والی بات مان لی گئی۔

 یہ دراصل خود سی این جی سٹیشن مالکان اور محکمے کی ملی بھگت ہے کہ اس طرح ان سٹیشنوں پرمسلسل قطار لگی رہتی ہے اور ہر گاڑی سلنڈر فل کراتی ہے۔اس حوالے سے حساب لگایا گیا تو سی این جی سٹیشن والے بہت زیادہ فائدہ میں رہتے ہیں، مسلسل چوبیس گھنٹوں اور پھر ایک بار چوبیس گھنٹوں کے دوران جو گیس فروخت کی جاتی ہے اس کا حساب لگایا جائے تو ایک ماہ کے آٹھ دنوں کی فروخت میں سے 40-35لاکھ روپے کی بچت کے روشن امکانات ہوتے ہیں جبکہ مسلسل سات روز گیس دینے کی صورت میں قطاروں کی گنجائش نہیں ہوتی اور گاڑیوں والے اپنے قریب تر سٹیشن سے گیس لے لیتے ہیں، اس کا تخمینہ لگانا ہو تو عیدالاضحی کی چھٹیوں سے لگا لیں اس مرتبہ مہربانی کی گئی اعلان تو عید کی چھٹیوں کا تھا لیکن گیس جمعرات کے بعد سے چھٹیوں کے اختتام تک دے دی گئی کہ پردیسیوں کو بھی فائدہ ہو،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جمعہ کی صبح سی این جی سٹیشن تو کھلے تھے گیس لینے والے نہیں تھے کہ سب لوگ جمعرات کی رات سے صبح چھ بجے تک اپنی ضرورت پوری کر چکے ہوئے ہیں اب یہ حضرات رات واپسی پر ہی گیس لیں گے۔یوں یہ سلسلہ ہفتہ بھر آئندہ جمعرات تک یونہی رہے گا، محکمہ اور حکمران اعدادوشمار منگوا لیں تو ان کو معلوم ہو جائے گاکہ چھٹیوں کی نسبت گیس کم یا پھر زیادہ سے زیادہ اس کے برابر استعمال ہوئی اور پریشر میں بھی کمی کی شکائت کم ہوئی۔

سیر صبح کی ٹیم کے ایک فاضل رکن محترم قریشی صاحب کو گلہ ہے کہ میڈیا والے (بشمول کالم نگار) سیاسی حالات اور سیاست دانوں کے بارے ہی میں لکھتے ہیں، ان کی توجہ عوامی مسائل کی طرف کیوں نہیں ہوتی۔گزارش کی کہ سیلاب آیا تو اس کی کوریج بھی ہوئی اور اب بھی ان کے مسائل کے بارے میں پروگرام اور خبریں نشر اور تحریر کی جاتی ہیں، وہ مطمئن نہیں تھے ان کے بقول سبزیوں اور پھل والوں کی لوٹ مار، بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور بنا کر مہنگی اشیاءفروخت کرنا، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ، کھیل کے میدانوں کی کمی اور پارکوں کی ابتر حالت بھی تو مسائل ہیں،ان کا کہنا تھا کہ راہزنی، چوریاں اور ڈاکے بڑھ گئے دن دیہاڑے لوگ لٹ رہے ہیں، دوسری طرف پولیس والے ناکے لگا کر اپنی دیہاڑی لگا رہے ہیں اور تو اور اب ٹریفک وارڈنز بھی ایسے ہی ہو گئے ہیں جو چالانوں کے عوض پیسے نہیں کما سکتا وہ ریڑھی والوں سے ”جگا ٹیکس“ کے طور پر پھل ہی لے لیتا ہے۔

ہمیں شرمندگی تو ہوئی اور ہم نے یہ بتانے کی کوشش بھی کی کہ ان مسائل پر بھی توجہ دی جاتی ہے لیکن اس کا اثر نہیں ہوتا اور متعلقہ ادارے کان لپیٹ لیتے ہیں، وہ فرمانے لگے نیت سے مہم چلاﺅ تو اثر ضرور ہوگا۔ہم نے وعدہ کیا کہ آج یہ خدمت ضرور انجام دیں گے۔خیال تھا کہ ہمارے قاری کچھ بھی کہیں آج مقامی مسائل کا ذکر ضرور کریں گے یہ سب سوچ ہی رہے تھے کہ گھر سے باہر نکلتے ہی بھینسوں سے واسطہ پڑ گیا۔ہماری رہائش مصطفےٰ ٹاﺅن وحدت روڈ پر ہے اور یہ جو بھینسوں والا ہے، اس کو سینکڑوں بار منع کیا گیا یہ اپنی عادت سے مجبور اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کھوکھر ہے اور کھوکھروں کو اس حلقے میں کوئی نہیں پوچھ سکتا اور واقعتاً اسے کئی سال ہو گئے انہی گلیوں محلوں والوں کے سبزہ زار چراتے اور گوبر سے گلیاں اور سڑکیں گندی کرتے اسے کسی نے نہیں پوچھا، یہ تو رہا اپنی جگہ مصطفےٰ ٹاﺅن کی مرکزی سڑک کی خوبصورت گرین بیلٹ چراگاہ بن چکی یہاں صبح اور سہ پہر کے بعد باقاعدہ اور کھلے بندھوں بھینسیں چرتی ہیں، دن بھر بھیڑیں پودے کھاتی نظر آتی ہیں۔آج تک اقبال ٹاﺅن کی انتظامیہ یا پی ایچ اے والوں میں سے کسی نے توجہ نہیں دی اور یہ حضرات سرکاری اور عوامی پھل پھول کھلا کر دودھ بیچ لیتے ہیں۔

پی ایچ اے لاہور کو سرسبز بنانے کی بہت بڑی دعویدار اتھارٹی ہے، اس کی طرف سے بھی کبھی توجہ نہیں دی گئی۔گرین بیلٹ میں ابلتے گٹر بھی ان کی توجہ مبذول نہیں کرا پاتے، حتیٰ کہ مصطفےٰ ٹاﺅن اور اقبال پارک کی بہترین پارکیں بربادی کا منظر پیش کررہی ہیں، مصطفےٰ ٹاﺅن کی مرکزی پارک کو ماڈل پارک قرار دے کر اس کے اندر ایک جمینزیم بنایا گیا۔ٹینس کورت کے لئے فرش اور پارک میں آنے والوں کی تواضع کے لئے کینٹین اور دو واش روم بنائے گئے، پھر نامعلوم وجوہات کی بناءپر کام رک گیا، جمنیزیم کی مشینوں کی حفاظت کے لئے چوکیدار نہ رکھا گیا۔پرزے چوری ہوئے اور اب یہ تمام مشینیں غائب ہو گئیں اور جہاں یہ نصب کی گئیں وہاں فرش نظر آ رہا ہے۔کنٹین اور واش روم جوں کے توں رہے، ان کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ کر لکڑی چرالی گئیں اور کمرے رات کو نشہ کرنے والوں کی آڑام دہ آماجگاہ ہے، نہ تو پی ایچ اے اور نہ ہی مقامی پولیس سٹیشن والے توجہ دیتے ہیں حالانکہ یہ پارک پورے علاقے کی توجہ کا مرکز ہے، اسی طرح باقی پارک یا تو تیار نہیں کئے گئے یا پھر عدم توجہگی کے باعث ویران ہو چکے ہیں ، سڑکوں کی حالت ابتر ہے۔سیوریج ابلتے رہتے ہیں ایک ٹرنک سیوریج بچھایا گیا، کھدائی کے بعد مٹی جوں کی توں ہے کہ سیوریج نے کام ہی شروع نہیں کیا تو سڑک کیسے بنے گی۔اسی طرح سٹریٹ لائٹ کا بھی بُرا حال ہے۔

اب یہ قریشی صاحب اور دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ ٹاﺅن کا عملہ رشوت لیتا، پی ایچ والے خوردبرد کرکے لمبی رقم کما رہے ہیں اور مالی کام نہیں کرتے جبکہ ٹاﺅن کے شعبہ سٹریٹ لائٹ اور انجینئرنگ والے سٹریٹ لائٹ اور سڑکوں کی مرمت کو فضول جانتے ہیں۔لیجئے جناب! ہم نے تو مسائل تحریر کر ہی دیئے ہیں، اگر کہیں اثرات مرتب ہو جائیں یا پھر یہ سب وزیراعلیٰ کے نوٹس میں آ جائے۔ ٭

مزید :

کالم -