تخت لاہور کی جنگ

تخت لاہور کی جنگ
تخت لاہور کی جنگ

  

ڈاکٹر طاہرالقادری جو انتخابی سیاست کے سخت خلاف تھے اور انہوں نے موجودہ نظام انتخاب کے تحت الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔اب اپنا نظریہ تبدیل کر چکے ہیں، انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کو انتخابی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پہلے وہ اسے ایک انقلابی جماعت ہی رکھنا چاہتے تھے۔یوں تو ان کی سیاسی سرگرمیوں کا محور پورا پاکستان ہوگا، تاہم پنجاب میں ان کی جڑیں بہت گہری ہیں، اس لئے ان کا اصل فوکس پنجاب ہی ہوگا۔انہوں نے اپنے دو جلسوں کے لئے جن شہروں کا انتخاب کیا ہے،وہ بھی پنجاب میں ہیں، یعنی فیصل آباد اور لاہور، یوں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ پنجاب کے دعویداروں اور اسے فتح کرنے کے خواہشمندوں میں ایک اور اضافہ ہوگیا ہے۔ڈاکٹر طاہرالقادری بھی پنجاب کو آئندہ انتخابات میں فتح کرنا چاہتے ہیں۔اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف ،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے فاتحین کا درجہ پانے کے لئے بے قرار ہیں، بلکہ پیپلزپارٹی نے تو اپنا قبلہ ہی لاہورکو بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں آصف علی زرداری ایک لمبی مدت کے لئے بیٹھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) جس نے ہمیشہ پنجاب کی بنیاد پر قومی سیاست اور حکومت پر راج کیا ہے، اب ایک بڑے خطرے سے دوچار ہے۔اسے سیریس چیلنجوں کا سامنا ہے۔پنجاب اب بلاشرکت غیرے اس کا صوبہ نہیں رہا، بلکہ دیگر سیاسی دعویدار بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب ہی ملکی سیاست کا رخ متعین کرتا ہے۔اس کی آبادی اور وسائل باقی تینوں صوبوں سے زیادہ ہیں۔تخت لاہور پر بیٹھنے والے کو تخت اسلام آباد کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) جب مرکز میں برسراقتدار نہیں ہوتی ،تب بھی پنجاب کی حکومت کے بل بوتے پر اس کا طوطی بول رہا ہوتا ہے۔گزشتہ دورِ حکومت میں پیپلزپارٹی وفاق میں حکومت کررہی تھی، لیکن پنجاب میں وزیراعلیٰ شہبازشریف اپنی طرز حکمرانی سے ایک ایسا نقش جمائے ہوئے تھے کہ پیپلزپارٹی حکومت میں ہونے کے باوجود اپنا کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑ سکی۔اب مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکمرانی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنے اقتدار کومضبوط کرتی اور عوام کے لئے کچھ ایسے کام کر جاتی کہ دوسری سیاسی جماعتوں کو اسے چیلنج کرنے کا موقع ہی نہ ملتا،مگر ایسا ہوا نہیں۔دھاندلی کے الزامات تو اپنی جگہ ہیں، عوامی مسائل پر توجہ نہ دینے کا تاثر بھی مسلم لیگ(ن) کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھرنے دیئے گئے اور اب شہر شہر بڑے بڑے جلسوں کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف اسے مشکلات سے دوچار کررہی ہے، ایسے میں ڈاکٹر طاہرالقادری کا بھی انتخابی سیاست کے لئے میدان میں آنا پنجاب کے ووٹروں کی تقسیم کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ پیپلزپارٹی پہلے ہی پنجاب کو ”واپس“ لینے کے درپے ہے اور اس کے لئے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دینا چاہتی ہے۔اس بدلے ہوئے منظرنامے میں پیپلزپارٹی کے لئے پنجاب کو تسخیر کرنے کے کیا امکانات ہیں، اس کا ذکر آگے چل کر کروں گا، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اب ساری کی ساری سیاسی جنگ پنجاب میں ہوگی۔

گزشتہ تیس برسوں سے مسلم لیگ(ن) نے پنجاب کو اپنا گڑھ بنا رکھا ہے۔اس حوالے سے اسے طعنے بھی سننے پڑے اور شریف برادران کو یہ بھی کہا گیاکہ وہ صرف پنجاب کو پاکستان سمجھتے ہیں۔پنجاب میں بھی صرف لاہور ایک ایسا شہر ہے کہ جسے بہت زیادہ ترقی دی گئی، جس کے باعث جنوبی پنجاب میں یہ سوالات بھی اٹھے کہ کیا صرف لاہور کو پنجاب کہا جا سکتا ہے۔شریف برادران کی یہ حکمت عملی اچھی تھی یا بری، اس سے قطع نظریہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ موجود رہی کہ انہوں نے پنجاب کو اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیا۔ وہ یقینا اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ پنجاب مکمل طور پر ان کے ساتھ ہے، مگر زمینی حقائق ایک تبدیل شدہ منظر نامہ پیش کررہے ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج تحریک انصاف ثابت ہوئی ہے،جس نے نہ صرف گزشتہ عام انتخابات میں پنجاب سے ریکارڈ ووٹ لئے، بلکہ اس کے بعد دھاندلی کے خلاف جو تحریک چلائی، اس میں پنجاب کو اپنا مرکز بنا لیا۔لاہور میں بھی بڑے جلسوں اور ریلیوں سے یہ تاثر قائم کیا کہ اب لاہور مسلم لیگ (ن) کا گڑھ نہیں رہا۔حال ہی میں مینار پاکستان پر جلسہ کرکے تحریک انصاف نے اپنے دعوﺅں کو مزید سچا ثابت کیا ہے۔میانوالی اور پھر ملتان میں جلسے رکھ کر تحریک انصاف پنجاب میں ایک کامیاب مہم چلا رہی ہے اور یہ خیال راسخ ہوتا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قلعے میں تحریک انصاف نے دراڑ ڈال دی ہے۔پہلے کبھی مسلم لیگ (ن) کو ایسے چیلنج کا سامنا نہیں رہا، کیونکہ پیپلزپارٹی پنجاب میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے ہمیشہ قاصر رہی۔خصوصاً لاہور میں اسے وہ پذیرائی کبھی نہ ملی جو اب تحریک انصاف کو مل رہی ہے۔اس زمینی حقیقت کی موجودگی میں جب ڈاکٹر طاہرالقادری بھی انتخابی سیاست کا پرچم اٹھا کر میدان میں آ گئے ہیں تو لاہور اور پنجاب ان کا بھی بنیادی ہدف ہے۔لاہور میں تو ان کا مدرسہ منہاج القرآن بھی موجود ہے اور اب سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا ورثہ بھی ان کے پاس ہے، ایسے میں وہ اپنی مقبولیت کا اچھا خاصا اظہار کر سکتے ہیں۔گویا مسلم لیگ (ن) جسے ماضی میں پنجاب کے حوالے سے صرف پیپلزپارٹی کا سامنا ہوتا تھا، اب دو مزید ہیوی ویٹ جماعتوں کے مقابل آ گئی ہے۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو پنجاب ہمیشہ ہی سے اس کا دکھ بنا رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو بھی اسے فتح کرنے کا خواب لے کر دنیا سے چلی گئیں اور آصف علی زرداری بھی اپنے عہدِ اقتدار میں تخت لاہور کو زیر نگیں لانے کے لئے کوشاں رہے، پھر میثاق جمہوریت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے پنجاب کو بھلا دیا، لیکن اس سے غافل نہیں رہے۔ اب ان کے لئے ایک خاص ”چانس“ پیدا ہو رہا ہے۔ آصف علی زرداری جیسے جہاں دیدہ سیاست دان کے لئے سیاست کا آنے والا منظر نامہ امید افزا ہے۔پہلی بار انہیں پنجاب مختلف دھڑوں میں منقسم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اگر پنجاب میں صرف مسلم لیگ (ن) کی عملداری رہتی تو پیپلزپارٹی کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس کی مقبولیت میں کمی لا سکتی، اسے ایک خاص نمائندگی تو مل جاتی، مگر اکثریت ملنا محال تھی۔پنجاب کا ووٹ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) ہمیشہ فائدے میں رہتی اور پیپلزپارٹی نقصان اٹھاتی۔اب بدلے ہوئے حالات میں پنجاب کا ووٹ چار حصوں میں تقسیم ہوتا نظر آ رہا ہے۔مسلم لیگ(ن) ، تحریک انصاف، عوامی تحریک اور پیپلزپارٹی، جہاں تک پیپلزپارٹی کے ووٹ بینک کا تعلق ہے تو وہ اپنی جگہ موجود ہے۔وہ 25سے 30فیصد کے لگ بھگ ہے۔اگر اس کا مخالف ووٹ بنک تقسیم ہو جاتا ہے تو اسے پنجاب میں اچھی خاصی کامیابی مل سکتی ہے۔غالباً یہی وہ نکتہ ہے کہ جسے سامنے رکھ کر آصف علی زرداری نے پنجاب میں پڑاﺅ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔پیپلزپارٹی اگر اپنے کارکنوں اور نظریاتی ووٹروں کو از سر نو متحرک کر دیتی ہے تو پنجاب میں اس کا مخصوص حصہ برقرار رہے گا جو پنجاب میں اسے ایک بڑی نمائندگی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

موجودہ سیاسی منظر نامے میں مسلم لیگ (ن) سب سے زیادہ خسارے میں جا رہی ہے۔حکومت میں ہونے کی وجہ سے ایک طرف اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف وہ حد درجہ تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ مڈٹرم انتخابات کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔حکومت سے باہر کی سب جماعتیں رابطہ ءعوام مہم میں لگی ہوئی ہیں۔اب پیپلزپارٹی بھی اس راستے پر چل رہی ہے، مگر مسلم لیگ(ن) دفاعی پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہے، پنجاب کو تسخیر کرنے کے لئے اس کے سیاسی مخالفین ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، لیکن مسلم لیگی قیادت سمجھتی ہے کہ اب بھی ان کا پنجاب مضبوط ہے۔سیاسی فیصلے اگر بروقت نہ کئے جائیں تونقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔اس کی سب سے اہم مثال آج کا بحران ہے، جو حکومت کے بروقت فیصلوں کی عدم موجودگی کے سبب پیدا ہوا۔ملک میں انتخابی ماحول کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔مسلم لیگی حلقے اس بات پر پُرعزم ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ایسا ہوتو اچھی بات ہے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو مسلم لیگ (ن) کا بی پلان کیا ہے، کہاں ہے؟ کیا وہ اس صورت میں عوام کے پاس جا سکے گی؟ اگر آصف علی زرداری جیسا حکومت کا سب سے بڑا حلیف پیپلزپارٹی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے تو اس کا مطلب کیا ہے؟ مسلم لیگ (ن) حکومت میں ہے، وہ اگر بڑے بڑے عوامی جلسوں کے ذریعے عوام سے رابطہ نہیں بڑھانا چاہتی تو کم از کم اسے ایسی پالیسیاں ضرور متعارف کرانا چاہئیں، جو عوام کے لئے ریلیف کا باعث بنیں اور اس مخالفانہ پروپیگنڈے کا توڑ ثابت ہو سکیں، جس نے عوام کے دلوں میں حکومت کے خلاف اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -