جسٹس (ر)رمدے برطانیہ میں بھی عمران کیخلاف دعویٰ دائر کر یںگے

جسٹس (ر)رمدے برطانیہ میں بھی عمران کیخلاف دعویٰ دائر کر یںگے

  

    لاہور(سعید چودھری )سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمن رمدے نے عام انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے الزام تراشی پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف لیگل نوٹس تیار کرلیا جو آج 4 اکتوبرکو عمران خان کو بھجوائے جانے کا امکان ہے۔لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان 14روز کے اندر جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے سے معافی مانگیں،بصورت دیگر ان کے خلاف دیوانی اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،یہ قانونی کارروائی برطانیہ میں ہتک عزت کے دعوی ٰ کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے لیگل نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ 11اگست کو عمران خان نے جب جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے پر الزامات لگائے تو وہ برطانیہ میں تھے اورانہوں نے وہاں پر ہی ٹیلی وژن چینلز پر اپنے خلاف عمران خان کے الزامات سنے تھے اس بناءپر قانون کے مطابق ان کا برطانیہ میں بھی ہتک عزت کا دعوی ٰ کرنے کا استحقاق پیدا ہوچکا ہے ۔لیگل نوٹس میں عمران خان کو معافی مانگنے کے لئے14روز کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔عمران خان نے 11اگست کو الزام لگا یا تھا کہ 2013کے عام انتخابات میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری سے ملی بھگت کرکے جسٹس (ر)رمدے نے مسلم لیگ (ن) کے حق میں دھاندلی کی ۔انہوں نے جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ ان کے گھر میں الیکشن سیل بنایا گیا ، انہوں نے ریٹرننگ افسروںکی جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقاتیں کروائیں اور انہی کے کہنے پر میاں نواز شریف نے 11مئی 2013کو پولنگ ختم ہونے کے بعد لیکن حتمی نتائج آنے سے پہلے تقریر کی تھی ۔عمران خان نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے کی "خدمات "کے عوض ان کی بھتیجی کو خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے بنایا گیا اور ان کے بیٹے مصطفی رمدے کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مقرر کیا گیا ۔واضح رہے کہ جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے ان الزامات کی پہلے ہی تردید کرچکے ہیں ۔عمران خان نے خلیل الرحمن رمدے کے جی او آر والے جس گھر میں الیکشن سیل قائم ہونے کا دعوی ٰ کیا ہے وہ انہوںنے الیکشن سے کئی ماہ قبل7جنوری2013کو چھوڑ دیا تھا اور اپنے نجی گھر میں منتقل ہوچکے تھے۔الیکشن کے دوران خلیل الرحمن رمدے نے اپنا زیادہ تر وقت کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزارا۔جہاں سے ان کے بھائی اسد الرحمن قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے ۔پولنگ کے روز خلیل الرحمن رمدے لاہور میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ وہ اپنے بھائی کے الیکشن میں مصروف تھے ۔خلیل الرحمن رمدے کی "خدمات "کے عوض ان کے بھائی کومسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑوانے اور ان کی بھتیجی کو خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بنوانے سے متعلق عمران خان کا بیان بھی واقعاتی طور پر غلط ہے ۔اسد الرحمن 1970سے سیاست کررہے ہیں وہ 1985، 1988،1990اور1997میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ۔وہ نواز شریف کے وزارت عظمی ٰ کے دور میں وفاقی وزیر مملکت بھی رہ چکے ہیں اور پرانے مسلم لیگی ہیں اور انہیں ہر بار اس حلقہ سے نون لیگ کا ٹکٹ دیا جاتا رہا ہے ۔خلیل الرحمن رمدے کی کوئی بھتیجی ایم این اے نہیں ہے بلکہ ان کے مرحوم بھتیجے رضا فاروق کی بیوہ ایم این اے ہے۔رضا فاروق کے والد چودھری محمد فاروق کا شریف فیملی سے پرانا تعلق ہے وہ شریف فیملی کے خاندانی وکیل بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تھے اوروہ شریف فیملی کے مقدمات میں اعلی ٰ عدالتوں کے ججوں سے جھگڑا کرنے سے بھی نہیں ہچکتاتے تھے ۔اس بناءپر انہیں توہین عدالت کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔شریف فیملی ان پر بہت اعتماد کرتی تھی اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ نواز شریف کے گزشتہ دونوں ادوار میں اٹارنی جنرل پاکستان رہے ۔چودھری فاروق فیملی اور نواز شریف فیملی کے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2009میں میاں شہباز شریف نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران 23جون 2009کو رضا فاروق کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مقرر کردیا تھا تاہم 18ویں آئینی ترمیم کے بعد 3اگست2009کو رضا فاروق نے خود ہی اپنے عہدہ سے استعفا دے دیا تھا بعد میں ان کا انتقال ہوگیا اور شریف فیملی نے چودھری فاروق فیملی سے اپنے سابق تعلقات اور ان کے نوجوان مرحوم بیٹے کی بیوہ کی دلجوئی کے لئے انہیں مخصوص نشست پر ایم این اے منتخب کیا جس میں خلیل الرحمن رمدے کا کوئی کردار نہیں ۔خلیل الرحمن رمدے کے خاندانی ذرائع نے حلفاً کہا ہے کہ ملاقات تو درکنار گزشتہ کئی سال سے خلیل الرحمن رمدے اور میاں نواز شریف کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ، چہ جائےکہ وہ پولنگ کے روز نواز شریف سے تقریر کرواتے ۔عمران خان کی اس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے کہ مصطفی رمدے کو ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا ،مصطفی رمدے نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر چند ماہ ذمہ داریاں نبھائیں تاہم اس دوران انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے انچارج کے طور پر بھی کام کیا۔عمران خان کی اس بات میں بھی صداقت نہیں کہ خلیل الرحمن رمدے نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو دعوت دے کر ریٹرننگ افسروں سے ملوایا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے عام انتخابات سے قبل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں صوبہ بھر کے ریٹرننگ افسروں سے ملاقات کی تھی اور ان سے خطاب کیا تھا ۔اس تقریب میں الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کے نمائندے بھی مدعو تھے اور یہ پوری تقریب میڈیا نمائندوں کی موجودگی میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

رمدے

مزید :

صفحہ اول -