لاہور ہائیکورٹ نے گیس کے بلوں میں عائد انفراسڑ کچر ڈویلپنٹ سر چارج کا لعدم قرار دیدیا

لاہور ہائیکورٹ نے گیس کے بلوں میں عائد انفراسڑ کچر ڈویلپنٹ سر چارج کا لعدم ...

  

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے پاک ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلئے صنعتی اور کمرشل صارفین پر گیس کے بلوں میں عائد گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج غیرقانونی قرار دے کرکالعدم کردیاہے، ہائیکورٹ نے سرچارج کے خلاف 300 درخواستیں منظور کر لیں ۔لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے گیس سرچارج کے خلاف 300 درخواستوں پر سماعت شروع کی تو درخواست گزاروں کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ سال 2011میں ایک آرڈیننس کے ذریعے پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے صنعتی اور کمرشل صارفین کے گیس کے بلوں میں مختلف شرح سے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سرچارج عائد کیا گیا، آرڈیننس کے ذریعے عوام سے کسی بھی قسم کا ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا لہذا اس سرچارج کو کالعدم قرار دیا جائے، انہوں نے بتایا کہ سندھ، اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ بھی اس سرچارج کو غیرقانونی قرار دے چکی ہیں، وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر احمد بھٹہ نے بتایا کہ سرچارج غیرقانونی قرار دینے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کررکھی ہے لہذا اپیل کے فیصلے تک ہائیکورٹ سماعت موخر کرے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج اور اس کے لئے 2011میں جاری کردہ آرڈیننس غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا، اسی نوعیت کی دو دیگر درخواستوں میں وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے وصول کردہ گیس سرچارج واپس کرنے کے خوف سے ایک اور آرڈیننس جاری کر رکھا ہے، عدالت اسے بھی غیرقانونی قرار دے اور سرچارج کی رقم واپس کرنے کا حکم دے ۔عدالت نے اس معاملے پر بھی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

گیس سرچارج

مزید :

صفحہ اول -