بہت دیر کی مہرباں! یہ تو بہت پہلے ہو جاتا

بہت دیر کی مہرباں! یہ تو بہت پہلے ہو جاتا
بہت دیر کی مہرباں! یہ تو بہت پہلے ہو جاتا

  

تجزیہ، چودھری خادم حسین

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے، اگر اتنی سی بات تھی تو یہ لانگ مارچ اور دھرنے کو کیوں اتنا طویل کیا اور اب اس پر فخر کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔یہ گزارش تو پہلے روزسے کی جا رہی تھی کہ محترم قادری صاحب! آپ نے جو نکات دیئے اور پروگرام بتا رہے ہیں یہ سب ایک منشور کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لئے اقتدار ضروری ہے جس کا راستہ آئین سے ہو کر گزرتا ہے اور آئین کی رو سے عام انتخابات کے ذریعے اکثریت حاصل کرکے ہی اقتدارمل سکتا ہے اور پھر آپ اپنے منشور پر عمل کر سکتے ہیں، اب اگر آپ نے پھر سے سیاست اور انتخابی سیاست میں واپسی کا اعلان کر دیا ہے تو اس کا ایک مطلب تو یہ ہوا ہے کہ جو حضرات آپ کے انقلاب کے حوالے سے یہ سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ یہ ممکن نہیں تو وہ درست کہہ رہے تھے، اب آپ کو وہ راستہ تبدیل کرنا پڑا ہے اور آپ بھی اپنے ”چھوٹے کزن“ عمران خان کی پیروی میں جلسے کرنے نکلے ہیں تو اچھی بات ہے یہ جمہوری عمل ہے۔

محترم ڈاکٹر طاہر القادری کے اس فیصلے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دھرنے کے پچاس دنوں کا اور کوئی فائدہ نہیں ہوا کہ آپ کو ٹیلی ویژن پر مسلسل بولنے کا موقع ملا اور دنیا بھر میں آپ کو دیکھا گیا لیکن یہ امر فراموش نہ کیا جائے کہ اب دیکھنے اور سننے والے لاتعلق ہو گئے تھے اور دھرنا بھی سکڑ کر مریدین تک محدود ہو گیا جو یہ بھی برداشت کرلیتے ہیں کہ آپ ان کی نوزائیدہ بچی کو شہد میں اپنی تھوک ملا کر گھٹی دے لیں، حالانکہ دو تین روز قبل آپ ہی نے ناک پر رومال کا جواز انفیکشن دیا تھا۔یہ طبی نقطہ ءنظر سے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے یہ ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔کیا تھوک کے ذریعے انفیکشن نومولود بچی کو منتقل نہیں ہوا ہوگا؟

بہرحال عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے جلسوں والے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا کہ دھرنے تو ناکام ہو چکے اب ڈی چوک میں ڈیرے اور خیمے راستہ خراب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہیں، بہتر ہوتا کہ نیا مرحلہ شروع کرنے کے ساتھ ہی یہ دھرنے باعزت طریقے سے سمیٹ دیئے جاتے کہ اب دونوں رہنما شہر شہر قوم کو مزید بیدار کرنے نکلے ہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری سے ہمارا ٹاکرا ہوتا رہا اور ہم نے ہمیشہ یہ کہا تھا کہ وہ سیاست نہ کریں اور دینی کام کرتے رہیں جس سے ان کو زیادہ عزت ملتی ہے کہ مخالفت کم ہوتی ہے، جبکہ سیاست میں تو پگڑی اچھلتی ہے، آپ اگر دوسروں کو یزید، ظالم اور نہ جانے کیا کیا کہیں گے تو جواب میں آپ پر بھی ”پھول“ ہی برسائے جائیں گے۔سیاست کو ترک کرتے وقت محترم آپ نے الزام بھی ہم پر دھرا تھا اب آپ نے پھر واپسی کا اعلان کیا، اس مرتبہ آپ کو پہلے سے بہتر حمائت ضرور ملے گی، لیکن انقلاب کے لئے اکثریت ملنا محال ہے اور پھر جہاں تک وسط مدتی یا قبل از وقت انتخابات کا تعلق ہے تو وہ حکومت کی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں ہی سے ممکن ہیں ورنہ حالات حاضرہ یا معروضی حالات سے تو حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہیے۔

جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو وہ اب کارکردگی پر نگاہ رکھ رہے ہیں اور کئی کاموں کا کریڈٹ دھرنوں کو دیتے چلے جا رہے ہیں۔بہرحال حکمرانوں کو اب ”گڈگورننس“ کا نام نہیں اسے عملی طور پرثابت کرنا ہوگا، اب عوامی کام شروع ہوئے تو یہ ہوتے رہنا چاہئیں، سب سے بڑی بات حق داروں کو حق ملنا ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو اور ایک یہ بات پلے باندھ لیں کہ اگر بے روزگاری فوری طور پرختم یا کم نہیں کر سکتے، تو لوگوں کو بیروزگار بھی نہ کیجئے گا۔ جن حضرات کو اہم ذمہ داریاں سونپ رہے ہیں ان کو محکموں کی خرابیاں دور کرنے کی ہدایت ضرور کریں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی نصیحت کریں کہ جس کا روزگار لگا ہے اسے روزگار سے محروم نہ کیا جائے۔

بات کو ایک پرانے اور سچے واقعہ کو بیان کر کے ختم کرتے ہیں۔ یہ ساٹھ کی دہائی کا قصہ ہے، کسی دیہات کے حضرات قتل کے ایک مقدمہ میں وکیل کے لئے لاہور آئے۔ بیرون شاہ عالمی دروازہ عبدالرحمن(غازی) ایڈووکیٹ سے ملے، ان سے بات ہوئی۔ انہوں نے فیس پانچ ہزار روپے مانگی، سائل حضرات کو یقین سا نہ ہوا، وہ چلے گئے اور سابق اٹارنی جنرل چودھری نذیر کو بھاری فیس کے عوض وکیل مقرر کر لیا۔ سیشن ٹرائل ہوا، چودھری نذیر قابل وکیل تھے لیکن مقدمہ مضبوط تھا، استغاثہ کی بات مانی گئی، ملزم کو سزائے موت کا حکم ہوا۔ جب لواحقین عدالت سے باہر آئے تو اتفاقاً عبدالرحمن کا گذر بھی ہوا، آمنا سامنا ہوا تو پوچھا کیا ہوا، جواب ملا سزا ہو گئی، فوراً بولے! یہی کام کرانا تھا تو مَیں پانچ ہزار روپے میں کروا رہا تھا؟

تو اب بھی یہی ہوا کہ اگر یہی کرنا تھا تو انقلاب کا نعرہ، لانگ مارچ اور دھرنا کا تکلف کیوں کیا؟ ایک پریس کانفرنس کی مار تھا یہ سب!آپ اعلان کر دیتے ہیں کہ آئندہ الیکشن لڑیں گے۔ لیکن لگتا ہے دھرنوں کی ناکامی کے بعد اب اس اعلان میں پناہ ڈھونڈی گئی ہے۔

بہرحال جو بات آگے چل کر ہونے والی ہے اس کے بارے میں پہلے بھی کہا جا رہا تھا۔ اب ایک حکومت مخالف سیاسی اتحاد بنانے کی کوشش ہو گی۔ پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان مسلم لیگ(ق) تو پہلے ہی اتحادی ہیں، پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید کی ذہنی ہم آہنگی ہو چکی۔ پہلے مرحلے میں ان کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش ہو گی، پھر توجہ متحدہ قومی موومنٹ اور جنرل(ر) پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ پر دی جائے گی، باقی کام بعد کا ہے۔ پہلے یہ تو ہو جائے۔

باقی جاوید ہاشمی نے جمعرات کو جو کہا وہ قابل غور ہے اور حالات چغلی کھاتے ہیں کہ یہ بات ناممکنات میں سے بھی نہیں اس لئے اس پر سوچ بچار ہی نہیں۔ اس کی تحقیقات بھی ضروری ہے اور اب یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ خود حکومت سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات کے لئے بہت ہی دیانتدار اور تجربہ کار تفتیش کاروں کو تلاش کر کے عوامی تحریک کی رائے اور رضامندی سے مضبوط ٹیم تشکیل دے جو اس(17جون)سانحہ کی باریک بینی کے ساتھ خود مختار اور آزادی سے تفتیش کر ے اور یہ سائنسی بنیادوں پر ہو، فرانزک رپورٹیں، پوسٹمارٹم رپورٹیں اور موقع سے ملنے والے خول اور اسلحہ کی ساخت وغیرہ کا بھی دھیان رکھا جائے۔ اس اسرار سے پردہ اٹھنا اور جو مجرم ہیں ان کو بے نقاب ہونا ضروری ہے۔

بہت دیر کی مہرباں

مزید :

تجزیہ -