بدلتا ہوا پاکستان (2)

بدلتا ہوا پاکستان (2)

  



آج پاکستان کی درمیانی عمر 21سال ہے اس کا مطلب ہے کہ اس کے 180ملین باشندوں میں سے 90ملین لوگوں کی عمر اکیس سال سے کم ہے اور انہوں نے 1947ءکی تقسیم یا 1971ءمیں ہونے والی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ ان کم سن پاکستانیوں کے لئے نیا پاکستان ضروری ہے۔ 1947ءکی تقسیم سے قطع نظر ان پرتو ان کے اپنے لیڈروں اورحکمرانوں نے ظلم کئے ہیں۔دیگر کسی بھی قوم کی طرح پاکستان ایک بے حس پتھر نہیں ہے اس کے لوگوں میں توانائی ، ٹیلنٹ اور ایک اچھی زندگی گزارنے کی تمنا پائی جاتی ہے پاکستان آنے والے بیشتر سیاح جن میں بھارت بھی شامل ہے آپ کو پاکستانیوں کی مہمان نوازی کے بارے میں بتائیں گے کہ ہم میں سے جو بھی کسی پاکستانی سے ملا اس نے اس کاپر تپاک خیر مقدم کیا۔ ایک شخص اس سے اختلاف کر سکتا ہے یا اس بات پر تو بھڑک سکتا ہے کہ آیا پاکستان کا 14 اگست 1947ءکو معرض وجود میں آنا ایک حادثہ تھا یا نہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی اسے ایک پر تحمل اور جمہوری ریاست بنانے میں ناکام رہے ہیں اور یوں انڈیا اور پاکستان کے مابین صلح مشکل ہے۔ ان کی قوم کی تخلیق سے لے کر اب تک پاکستان ان کی قومیت اور ان کی مسلسل ثقافت کی تعریف میں مجبور محسوس ہوا ہے۔ پاکستان کی بد قسمت تاریخ سے شاید پاکستان کے ناکافی تصور کا جو ازڈھونڈا جا سکتا ہو لیکن تعریف کی رو سے یہ تصور کوئی حتمی عمل نہیں ہے۔ ایک وجود جس کا تصور ہی درست نہ ہو تواسے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس نظریے کی وضاحت بھی کی جا سکتی یا اس میں شدت پیدا کی جا سکتی ہے اور اسے بے نقاب کیا جا سکتا ہے ۔

اگرچہ بہت سے پاکستانی انتہائی مشکل سے کام کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو تبدیل کرکے ایک کثیر الوجود جدید جمہوری ریاست بنایا جا سکے جو نہ صرف اپنے رہائشیوں کی فلاح کے لئے کام کر سکے بلکہ پڑوسیوں کے بارے میں اس کے نقطہ نظر میں تبدیلی واقع ہو سکے۔

آغاز ہی سے پاکستان کو بہت سے لوگوں نے تاریخ کی غلطی کے طور پر دیکھا ہے اور انڈیا کے ساتھ مستقل دشمنی کی وجہ بھی تصور کیا گیا ہے جس کے رہنما اس تقسیم کے خلاف تھے اورجنہوں نے ایک نئی قوم کی منتقلی کی پیش گوئی بھی کی تھی۔ دوسری طرف جموں اور کشمیر پر ان دونوں ملکوں کے تنازعے سے بھی اس دشمنی کو ہوا ہی ملی ہے۔ اس نوزائیدہ قوم کے غیر مستحکم مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس کے سیاستدانوں ، سرکاری ملازمین اور ان فوجی افسران جنہوں نے گاہے بگاہے پاکستان پر حکومت کی نے بھی ہندو مسلم کے درمیان پائی جانے والی اس نفرت کو بھڑکانے کا فیصلہ ہی کیا اور یہ وہی نفرت تھی جو برصغیر کی تقسیم کا باعث بنی تھی۔ خود مختار ریاست کے قیام کے فوری بعد جب پاکستان نے خود کو اسلامی ریاست کہنا شروع کیا تو بھارت کو ہندوﺅں کا ملک گردان کر اس سے خلاف مدافعتی رویہ اختیار کر لیا اور یہی رویہ بھارت کے کچھ لوگوں کابھی تھا جس نے ان دونوں ملکوں کے درمیان اس خلیج کو کبھی پر نہیں ہونے دیا۔

 1947ءمیں انڈوپاک تقسیم ہوئی تو اثاثوں کی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہوااورپاکستان کے حصے میں برٹش انڈیا کی ایک تہائی فوج اور کل ریونیو کاصرف سترہ فیصد آیا۔فوج نے نئی ریاست میں ایک غالب ادارے کے طور پر کام شروع کر دیا اور فوج کا یہ غلبہ آج تک قائم ہے اور کئی سال پس پردہ رہتے ہوئے جنرل ایوب خاں نے 1958ءمیں بالآخر مارشل لا ءنافذ کرکے فوجی حکومت کا آغاز کیا جس کے بعد تین بار اورمختلف ملٹری حکمرانوں نے عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کا نظام اپنے قبضے میں کیا۔ 1958ءسے لے کر اب تک فوج نے بالواسطہ و بلا واسطہ پاکستانی سیاست پر غالب رہتے ہوئے پاکستان کے نظریاتی اور فوجی تحفظ کا ایجنڈا اپنے ہاتھ میں رکھا۔

کچھ دانشور پاکستانی مشکلات کا سبب اس کے آغاز اور پاکستانی ہونے کے مفہوم کے بارے میں موجود ابہام کو قرار دیتے ہیں ۔ سکالر فرزانہ شیخ جو کتاب ”تفہیم پاکستان“ کی مصنف ہیں کے الفاظ میں یہ اس ملک کا اسلام کے ساتھ مشکوک اور متنازعہ رشتہ ہے جس نے اس کی قومی شناخت اور مستحکم ریاست کی تلاش کوفیصلہ کن انداز میں مایوس کیا ہے جو ایک خوشحال معاشرے کے حصول کی اہل ہو۔

امریکہ کے اشتراک سے سوویت یونین کے خلاف جہادیوں کے کامیاب تجربے نے پاکستان کی حکمت عملی تشکیل دینے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ جہادیوں کا یہ تجربہ انڈیا میں بھی کریں۔ افغانستان میں پاکستان کی طرف سے طالبان کی حمایت اور دنیا بھر میں جہادی جنگجوﺅں کی اس علاقے میں موجودگی ان کی اسی خواہش کا نتیجہ ہے۔اس نظریے کو تمام پاکستانی لیڈروں کی حمایت حاصل نہ تھی۔ انہوں نے اسلام کو محض اس کے سیاسی فوجی حکمت عملی کے نظریے کی وجہ سے اختیار کیا ہے جس سے پاکستان کی عزت و عظمت میں اضافہ ہوگا۔ تاہم ایک نظریاتی ریاست کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنے سے پاکستان ان علاقوں سے پیچھے رہ گیا ہے جنہیں فنکشنل جدید ریاست کے طورپرجانا جاتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یہ ناقص پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے جس کے بارے میں پچھلی دو دہائیوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ریاست ناکامی کی طر ف جا رہی ہے۔

بحیثیت پاکستانی یہ بات مجھے پریشان کرتی ہے کہ تمام دنیا میرے ملک کو ایک ناکام ریاست کے طور پر دیکھتی ہے اور میں اس بات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اورمیں دنیا کو اپنے ملک سے پوچھے جانے والے مشکل سوالات پر الزام بھی نہیں دینا چاہتا لیکن میری خواہش ہے کہ میں اپنے ہم وطنوں سے مل کر ان مشکل سوالات کے جوابات تلاش کروں۔

جہاں بے ترتیب جمہوریت نے پاکستان کی نسلی، مذہبی اور سماجی تقسیم کو بڑھا وا دیا ہے وہاں اس کے کچھ مثبت اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں وہ یہ کہ اس کے آنے سے ملک کے سب سے مضبوط ادارے فوج کو اس وقت کئی محاذ درپیش ہیں لہٰذا یہ زیادہ دیر تک سکیورٹی کی یقین دہانی نہیں کر ا سکتا ۔ اسلامی انتہا پسندودں کو اب آرمی ہیڈ کوارٹر اور اہم فوجی تنصیبات پر حملے کرنے کی کافی جرات حاصل ہو چکی ہے۔   ( جاری ہے)

مزید : کالم