جنگوں میں حصہ لینے والے جانوروں نے دنیا کو حیران کردیا

جنگوں میں حصہ لینے والے جانوروں نے دنیا کو حیران کردیا
جنگوں میں حصہ لینے والے جانوروں نے دنیا کو حیران کردیا

  

 ماسکو(نیوز ڈیسک) جنگ انسانی زندگی کی بدترین حقیقتوں میں سے ایک ہے اور نہ صرف انسانوں کو اس کی آگ میں ہمیشہ سے جھونکا جا رہا ہے بلکہ جانوروں کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ کچھ جانور جن کو جنگی سپاہی بنایا گیا ان کا احوال پیش خدمت ہے۔

 *۔۔۔نیو میکسکو میں سائنسدانوں نے شہد مکھیوں کو بم دھونڈنے کی تربیت دی۔ ان مکھیوں کو ایسی تربیت دی سئی کہ جب بم میں استعمال ہونے والے کیمیکل کو سونگھتیں تو پھولوں کا رس چوسنے والی باریک نالی کو باہر نکال کر اشارہ کرتیں۔

*۔۔۔امریکہ اور مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشکوک لوگوں اور اشیاءکو ڈھونڈنے کے لئے کتوں کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق تقریباً۳۰۰۰ کتے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

*۔۔۔ پولینڈ مین فوج میں ووجٹیک نامی ریچھ کو باقاعدہ فوجی کے طور پر شامل کیا گیا اور اس کا نام فوجیوں کی لسٹ میں درج کیا گیا تھا۔ اس ریچھ نے دوسری جنگ عظیم میں خدمات سرانجام دیں۔

*۔۔۔کبوتروں کو پیغام رسانی کے لئے ہمیشہ سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور دوسری جنگ عظیم میں ایمی نامی کبوتر نے زخمی ہونے کے باوجود اہم پیغام پہنچا کر ۱۹۴ فوجیوں کی جان بچائی۔

*۔۔۔ہاتھیوں کو تو ماضی قریب تک جنگوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ ان کا کام دشمن کے فوجیوں کو کچلنا ہوتا تھا اور اگر یہ اپنی فوج کی طرف رخ کر لیتے تو انہیں نیزے اور ہتھوڑوں کے وار کر کے مار دیا جاتا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -