تباہ حال زراعت اور فریادی کسان

تباہ حال زراعت اور فریادی کسان
تباہ حال زراعت اور فریادی کسان

  

رواں سال میں صوبہ پنجاب میں. 4 ملین ایکڑ رقبہ دھان زیر کاشت لایا گیا ہے جس سے 3.5 ملین ٹن پیداوارحاصل ہوگی۔دوسری جانب پاکستان رائس ملز ایسوسی ایشن والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2014-15میں سپرکرنل باسمتی مونجی (Paddy )کسانوں سے خرید کی تھی ۔جس کی سزاانہیں یہ ملی کہ ان کے پاس دوسال کا سپر کرنل باسمتی چاول سٹاک ہے۔گوداموں میں چاول کی بوریاں نہیں بلکہ ان کی نعشیں (Dead Bodies ) پڑی ہوئی ہیں،جوبینکوں میں Pledge ہیں۔اور ستم ظریفی یہ کہ رائس ملز ایسوسی ایشن نے شکوہ کیا ہے کہ کاروباری ذہنی مطابقت رکھنے والے وزیر اعظم محمد نواز شریف آپ کے دورحکومت میں ہم مقروض ہیں۔حکومت پاکستان کواس ضمن میں خصوصی اقدامات کرنے چائیں۔

حکومت سے گزارش ہے کہ پاسکوکے ذریعے گوداموں سے چاول اٹھالیاجائے اورپے منٹ براہ راست بنکوں کوکردی جائے توحالیہ سینزن کے لیے وہ کاروبار کو جاری رکھ سکیں گے۔اسی طرح لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہاہے کہ اگر پانی کو محفوظ کرنے کے لیے آج اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں صنعت وتجارت اورزرعی شعبے کو اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے،کالاباغ ڈیم سے صرف پنجاب نہیں بلکہ سارے ملک کوفائدہ ہوگا لہٰذاسول سوسائٹی سمیت تمام طبقات کوکالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے اپنا کرداراداکرنا چاہیے۔ پاکستان میں پانی اورتوانائی کی قلت کے مسائل نے بہت پیچیدہ صورت اختیارکرلی ہے،کالاباغ ڈیم تعمیر کرکے ان دونوں مسائل پرقابوپایاجاسکتا ہے۔ 1960 ء میں ورلڈ بینک کالاباغ اوربھاشاڈیم کی تعمیر کی سفارش کرچکاہے ان ڈیمز پر اعتراضات کا کوئی جوازنہیں پاکستان میں زیرزمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی کا انکشاف ہواہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت یہ سطح 1100 مکعب میٹر پر پانی دستیاب ہے جوآئندہ دس سال میں کم ہوکر800 مکعب میٹر ہوجائے گا۔

شعبہ زراعت میں 92 فیصد پانی کااستعمال ہوتاہے۔کتنی بدقسمتی ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود مربوط زرعی پالیسی تاحال وضع نہیں کرسکا،60 فیصد پانی آج بھی ضائع ہورہاہے۔ایک رپورٹ کے مطابق کپاس کی پیداوارکم جبکہ گنے کی پیداوار گذشتہ چاربرسوں کے مقابلے میں زیادہ رہی،وسیع قابل کاشت رقبہ بنجر ہے۔رپورٹ کے مطابق چنے کی فصل میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔پاکستان مین چنے کو62 فیصد تک خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان میں آج بھی قدیم طریقے زراعت میں رائج ہیں۔بنجر زمینوں کوقابل کاشت نہیں بنایاجارہاہے۔حکومت کی طرف سے زراعت کے شعبے پر ٹیکس ختم نہ کرنے کے باعث 2015 ء میں کسانوں کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔کاشتکارزرعی مداخل پرجی ایس ٹی سمیت دیگرٹیکسزکے خلاف سراپااحتجاج رہے۔کسان گندم ،گنے،چاول اورکپاس کی سپورٹ پرائس نہ ملنے پرپوراسال حکومتی پالیسیوں کوکوستے رہے۔ ملک میں زراعت کی طرف توجہ نہ دینے سے زرعی شعبے میں ترقی اور خوراک کی خود کفالت کا خواب2015 ء میں بھی پورا نہ ہوا۔کپاس کی قیمت 32 سوروپے فی من مقرر کی گئی جبکہ کسانوں سے 24 سوروپے سے 26 سے روپے فی من کپاس خریدی جاتی رہی،باسمتی چاول کی قیمت 12 سوروپے گنے کی 190روپے مگر کسانوں سے 150 روپے سے 160 روپے تک گناخریدا جاتا رہا۔ کسانوں نے شدید احتجاج کیا کہ حکومت نے پاکستانی کاشتکاروں کا مفاد نہیں دیکھا بلکہ بھارتی کسانوں کی فصلوں کوپاکستانی منڈیوں میں بڑے پیمانے پرمتعارف کروایا۔کپاس کی فصل پرکسانوں کو43 ارب روپے،باسمتی چاول پر25 ارب روپے،گنے کے کم نرخ دینے پر25 ارب روپے کانقصان ہوا۔بھارتی کسانوں کی پاکستان کی منڈیوں میں مکمل رسائی ہونے پرٹنل فارمنگ کوبھی نقصان ہوا۔پاکستان کوپانی کی دستیابی بھی کم رہی ،ملک کی زرعی درآمدات بڑھ رہی ہیں ۔

اگر صورت حال یہی رہی توزرعی درآمدات کابل 5 سوارب روپے سے بڑھ کر8 سوارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ اگر تمام اضلاع کے کاشتکاروں کامکمل ریکارڈ تیار کرکے سبسڈی دی جائے توزراعت کے شعبے میں ترقی ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے پر جی ایس ٹی مکمل ختم ہونا چاہئے۔محکمہ آبپاشی کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بڑے زمینداروں کی جانب سے پانی چوری کرنے کی وجہ سے نہروں اورنالوں کے آخری سروں کی زرعی زمینوں والے کسان اپنے 60 سے 65 فیصد پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔پنجاب بھر میں پانی کی چوری ریکارڈسطح پرپہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2015 میں ایک لاکھ 23 ہزار415 افراد کوپانی چوری میں ملوث پایاگیالیکن صرف 315 کوگرفتاراور82 کوقید کی سزا ہوسکی۔پنجاب میں پانی چوری کے کیسز 77 ہزار970 تک پہنچ گئے جن میں سے 25 ہزار 877 کیسززرعی آبپاشی کے نظام سے رپورٹ ہوئے۔پانی چوری محکمہ آبپاشی کے افسران کے علم میں بھی ہوتی ہے تاہم محکمہ اورکسان تنظیموں کی عدم دلچپسی کے باعث پانی چوری روکنے میں زبردست ناکامی کاسامنا ہے۔پانی چوری کے کل 77 ہزار805 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ پولیس نے ان میں سے 6 ہزار 518 کو رجسٹر کیا اور صرف 3 ہزار805 مقدمات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی گئی صرف 315 افراد گرفتار ہوئے۔اسی طرح پولیس نے پانی چوری میں ملوث ایک لاکھ 23ہزار415 میں سے صرف 4 ہزار 665 کوتفتیش میں شامل کیا صرف 1075 کیسز کافیصلہ ہوسکااور82 افراد کوجیل ہوئی جبکہ 34 لاکھ 14 ہزار390 روپے جرمانہ وصول کیاگیا۔ محکمہ آبپاشی پیڈااورکسان تنظیموں کے 200 سے زائد عہد یدارپانی چوری میں ملوث ہیں ان میں اکثریت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔پولیس پانی چوری کی وارداتوں پرکاروائی کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ کئی کسان نہروں کے موہگہ توڑنے ،پانی چوری کیلئے پائپ لگانے کیلئے افسران کوہزاروں روپے رشوت دیتے ہیں۔اعلیٰ حکام کو اس جانب توجہ دینی جاہیے۔

مزید :

کالم -