مرکزی بینک نے حالیہ رپورٹ معاشی حالات کی غلط تصویر کشی کی: شاہد رشید

مرکزی بینک نے حالیہ رپورٹ معاشی حالات کی غلط تصویر کشی کی: شاہد رشید

اسلام آباد(کامرس ڈیسک )اسلام آباد چیمبرآف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ مرکزی بینک نے حالیہ رپورٹ معاشی حالات کی غلط تصویر کشی کی ہے۔رپورٹ میں زمینی حقائق کو نطر انداز کیا گیا ہے جبکہ ضرورت سے زیادہ امیدیں وابستہ کی گئی ہیں جو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ بینک نے تیل کی قیمت میں حالیہ اضافہ، گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر، مقامی کرنسی پر دباؤ اور گرتی ہوئی برامدات جیسے اہم امور کو نظر انداز کیا ہے۔

حکومت ایسی رپورٹوں پر انحصار کرنے کے بجائے معاشی اصلاحات کرے۔

شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات میں مزید تاخیر نہ کرے کیونکہ اگر اہم اقدامات میں دیر کی گئی تو پچھتانا پڑے گاکیونکہ ملک کی اقتصادی حالت بتدریج خراب ہو رہی ہے۔ فوری اصلاحات کیلئے جن شعبوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے ان میں توانائی، ٹیکس کا نظام،تجارت،صنعت، مرکزی بینک ، سرمایہ کاری ، زرعی آمدنی اور برآمدات شامل ہیں مگر گزشتہ کئی سال میں ان میں سے کسی بھی شعبہ میں نتیجہ خیز اصلاحات نہیں کی گئیں ۔انھوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں اصلاحات نہ کرنے کی وجہ سے گردشی قرضہ ریکارڈ سطح تک جا پہنچا ہے ، ٹیکس کے معاملہ پرکاروباری برادری کے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں ، ،زراعت جی ڈی پی کا بیس فیصد ہے مگر زمینداراپنی آمدنی پر ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں جبکہ حکومت اس سے ٹیکس لے کر انھیں ناراض نہیں کرنا چاہتی۔برامدات گر رہی ہیں جبکہ درمادات میں مسلسل اضافہ ہو ہا ہے جس سے خسارہ بڑھ رہا ہے اور سٹیٹ بینک خودمختاری کے عودے کے باوجود بدستور وزارت خزانہ کے تابع ہے۔انھوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کے بجائے بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے، ٹیکس بیس بڑھانے کے بجائے ٹیکس گزاروں پر بوجھ بڑھا دیا گیا ہے جبکہ امراء سے ٹیکس وصول کرنے کو کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ حکومت نے کافی وقت ضائع کر دیا ہے اور جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جائینگے اصلاحات کا امکان کم ہوتا جائے گا کیونکہ حکومت کی توجہ صورتحال بہتر بنانے کے بجائے شہرت پر مرکوز ہوتی جائیگی۔

مزید : کامرس