عراقی کردستان کی سرحد کے نزدیک ایرانی ٹینک اور توپ خانے قائم کردیئے گئے

عراقی کردستان کی سرحد کے نزدیک ایرانی ٹینک اور توپ خانے قائم کردیئے گئے

بغداد(این این آئی)ایک کْرد ذمے دار نے بربتایا ہے کہ ایران نے پیر کے روز عراقی کردستان کے ساتھ اپنی سرحد پر دس سے زیادہ فوجی ٹینک تعینات کر دیے ہیں جن کو توپ خانوں کے یونٹوں کی معاونت حاصل ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ ہفتے کردستان کی خود مختاری سے متعلق ریفرینڈم کے جواب میں ایرانی اور عراقی مسلح افواج کے درمیان ہونے والی مشترکہ مشقوں کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس ذمہ دارنے بتایاکہ عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل سے ان ٹینکوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی سرکاری ٹی وی نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ ایرانی اور عراقی مسلح افواج سرحد کے نزدیک عسکری مشقیں انجام دیں گی۔ یہ مشقیں عراقی کردستان میں خود مختاری کے حوالے سے منعقد کیے گئے ریفرینڈم کے بعد تہران کی جانب سے بغداد حکومت کی سپورٹ کا حصہ ہیں۔عراقی اتحادی حکومت نے ریفرنڈم کے فوری بعد اربیل اور بغداد کے درمیان کشیدگی بڑھ جانے پر کردستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تمام سرحدی گزرگاہوں کو عراقی حکومت کے حوالے کر دے۔ اس کے علاوہ اربیل اور سلیمانیہ کے لیے ہوابازی کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔یاد رہے کہ 25 ستمبر کو کردستان میں ہونے والے ریفرینڈم کے التوا کے حوالے سے ایران اور ترکی ایک جیسا موقف رکھتے تھے۔ دونوں ملکوں نے ریفرنڈم کے بعد اقتصادی ، سیاسی اور سکیورٹی اقدامات کا عندیہ بھی دیا تھا۔

مزید : عالمی منظر