ہڈیارہ: ہارویسٹر حادثہ میں جاں بحق دونوں جگری دوست سپرد خاک

ہڈیارہ: ہارویسٹر حادثہ میں جاں بحق دونوں جگری دوست سپرد خاک

لاہور(خبر نگار) ہڈیارہ کے علاقہ میں تیز رفتار ہارویسٹر کے ڈرائیور کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جانے والے 14سالہ شاہد اور 17سالہ احسان جگری دوست اور گھر سے نئی موٹر سائیکل پر سیر کرنے نکلے کہ تیز رفتارویسٹر کے ڈرائیور نے انہیں کچل کر موت کی نیند سلا دیا، 14سالہ شاہد میٹرک کا طالب علم تھا اور تعلیم مکمل کر کے انجینئر بننا چاہتا تھا۔ جبکہ نوجوان احسان کی ایک ماہ قبل منگنی ہوئی تھی اور محرم الحرام کے بعد شادی تھی کہ خوشی والے گھر میں غمی نے ڈیرے ڈال لئے، نوجوان شاہد کی والدہ اپنے بیٹے کی بار بار تصویر اٹھا کر چومتی اور زار و قطار رو رو کر کہتی کہ ہائے میرا انجینئر بیٹا توں اب بولتا کیوں نہیں توں نے تو کہا تھا کہ صدر گول چکر سے بہنوں کے لئے چمن سے آئس کریم لینے جا رہا ہے ۔ والدہ شکیلہ بی بی پر بار بار غشی کے دورے پڑتے رہے۔ جبکہ نوجوان احسان کے گھر میں اگلے چند دنوں تک خوشی آنے والی تھی نوجوان احسان کی شادی طے تھی کہ خوشی والے گھر میں غمی نے ڈیرے ڈال لئے دونوں نوجوانں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جگری دوست تھے اور گاؤں میں محلے دار بھی تھے اور ایک منٹ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تھے اور دونوں اکٹھے ہی ساتھ ساتھ قبروں میں چلے گئے، نوجوان شاہد اور احسان کی نعشیں نماز جنازہ کے بعد اٹھائی گئیں تو ہر آنکھ اشکبار تھی اور پورے علاقہ میں سوگ کا سماں تھا، دونوں نوجوانوں کی ایک ہی وقت میں نماز جنازہ ادا کی گئیں اور ایک ہی قبرستان دونوں نوجوانوں کو سپرد خاک کیا گیا۔نوجوان شاہد کی والدہ نے ’’روزنامہ پاکستان‘‘ سے بات چیت میں کہا کہ یہ کیسا قانون ہے کہ سڑکں پر ماؤں کے جوان بچوں کو تیز رفتار گاڑیوں کے ’’اناڑی‘‘ ڈرائیور موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اور پولیس ایسے واقعات کو حادثاتی موت بنا دیتی ہے۔ ملزم پکڑا بھی جائے تو اسے سزائے موت نہیں ہو سکتی ہے۔ والد زبیر ، چچا اکرم اور محلے داروں اصغر اور نواز علی سمیت احسان اور شاہد کے بھائیوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام ہونا چاہئے۔

مزید : علاقائی