کیا’ ’برفانی سٹوپا‘‘ ہمالیہ میں پانی کے مسئلے کا حل ہے؟

کیا’ ’برفانی سٹوپا‘‘ ہمالیہ میں پانی کے مسئلے کا حل ہے؟
کیا’ ’برفانی سٹوپا‘‘ ہمالیہ میں پانی کے مسئلے کا حل ہے؟

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اس وقت رات کے بارہ بج رہے ہیں اور سطح سمندر سے 11000 فٹ کی بلندی پر دنیا کے سرد ترین مقامات میں سے ایک مقام پر یہ دن کا سرد ترین وقت ہے۔ سردیوں کے موسم میں یہاں اکثر درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔دس رضا کاروں کا ایک گروپ وہاں جمع ہے اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع انڈیا کے سب سے شمالی علاقے لداخ میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔یہ رضا کار انسانی ہاتھوں سے بنائے ہوئے 30 میٹر اونچے برفانی ڈھانچے تعمیر کر رہے اور ان کو امید ہے کہ موسم بہار میں یہ پگھل کر لداخ کے رہائشیوں اور ان کے باغات کے لیے پانی کی ضروریات کو پورا کر سکیں گے۔لداخ کے رہائشیوں کو کافی سخت زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔ ماہ سرما میں سڑکیں بند ہو جانے کی وجہ سے وہ باقی ملک سے کٹ جاتے ہیں۔سونم وانگ چک نے بتایا کہ وہ ایک پل عبور کر رہے تھے جب ان کے ذہن میں برفانی ڈھانچے کا خیال آیا۔مئی کے مہینے کے موسم گرم ہوتا ہے اور براہ راست دھوپ برف پگھلاتی ہے لیکن میں نے پل کے نیچے برف دیکھی تو مجھے خیال آیا کہ اگر ہم برف کو سورج کی شعاعوں سے بچا سکیں تو وہاں پر ہم برف سٹور کر سکیں گے۔اس خیال کے بعد 2013 میں انھوں نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ لداخ کے گاؤں فیانگ میں اپنے منصوبے پر کام شروع کیا۔ان برفانی ڈھانچوں کو انھوں نے 'سٹوپا' کا نام دیا کیونکہ ان کی شکل تبت کے بودھ راہبووں کی عبادت گاہ کی مخصوص شکل جیسی ہے۔ان 'سٹوپا' کو تعمیر کرنے میں نہایت سادی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ پائپ کو زمین میں دفنایا جاتا ہے اور ان کا آخری سرا زمین سے اوپر رہتا ہے۔اونچائی، درجہ حرارت اور کشش ثقل کی قوت میں فرق کی وجہ سے پائپوں میں دباؤ بڑھ جاتا ہے اور زیر زمین پانی ان پائپ سے سطح زمین سے اوپر کی جانب بڑھتا ہے اور فوارے کی طرح باہر نکلتا ہے۔لیکن منفی درجہ حرارت کی وجہ سے پانی جم جاتا ہے اور اہرام مصر جیسی تکونی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ہم اس پانی کو جما رہے ہیں جو عام طور پر سردیوں میں استعمال نہیں ہوتا اور اس کی ساخت اس قسم کی ہوتی ہے کہ وہ موسم بہار تک پگھلتا نہیں ہے، اور بہار شروع ہونے کے بعد ہم اسے اپنی فصلوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4