نواز شریف۔۔۔ مسلم لیگ(ن) کے دوبارہ صدر

نواز شریف۔۔۔ مسلم لیگ(ن) کے دوبارہ صدر

سابق وزیراعظم نواز شریف کو مسلم لیگ(ن) کی جنرل کونسل نے ایک بار پھر پارٹی صدر منتخب کر لیا ہے،وہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل62 (ون) (ایف) اور عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد پارٹی صدارت سے بھی الگ ہو گئے تھے۔اِس دوران سردار یعقوب ناصر پارٹی کے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے، نواز شریف کی دوبارہ صدارت کی راہ انتخابی اصلاحات کے بل کے نفاذ کے بعد ہموار ہوئی جو پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری کے بعد، صدرِ مملکت کی توثیق سے نافذ ہوا، انتخابی اصلاحات بل کے بعد مسلم لیگ(ن) نے بھی اپنے آئین میں تبدیلی کی جس کے بعد نااہل قرار پانے والا کوئی بھی شخص جماعت کا صدر بن سکتا ہے۔

سینیٹ سے منظور شدہ ترمیمی بل قومی اسمبلی میں وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا،جب سپیکر نے بل پر بحث کی اجازت دی تو تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی بل کی شق203 میں ترمیم کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر یہ شق اِسی طرح منظور کی گئی تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا، (اب بل کی منظوری کے خلاف سندھ اور لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں) اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج جاری رکھا تاہم سپیکر نے بل کی منظوری کے لئے کارروائی کا آغاز کر دیا اور شق وار خواندگی شروع کر دی،جماعت اسلامی نے بل میں جو ترامیم پیش کیں وہ سب مسترد کر دی گئیں اور اس کے بعد بِل آسانی سے منظور کر لیا گیا، بل کا اصل مسودہ اس سے پہلے بھی قومی اسمبلی سے منظور کیا جا چکا تھا تاہم جب ایوان بالا سینیٹ میں منظوری کے لئے گیا تو اس کی بعض شقوں میں ترمیم کر دی گئی اِس لئے اسے دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش کرنا اور منظور کرناضروری تھا، یہ تمام کارروائی اپوزیشن کے شور شرابے، احتجاج،نعروں اور بل کی کاپیاں پھاڑنے کے ماحول میں پیر کے روز مکمل ہو گئی۔

انتخابی اصلاحات بل کی شق203 میں کہا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری جو سرکاری ملازمت کا عہدہ نہ رکھتا ہو،سیاسی جماعت کی بنیاد رکھ سکتا ہے اور اس سے منسلک ہو سکتا ہے،سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے اور سیاسی جماعت کا عہدیدار بھی منتخب ہو سکتا ہے، کوئی بھی شہری ایک وقت میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کا رکن نہیں بن سکتا، سیاسی جماعت خواتین کو رکن بننے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ سینیٹ میں منظوری کے وقت ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اس ترمیم کا مقصد نواز شریف کے لئے مسلم لیگ(ن) کی صدارت کی راہ ہموار کرنا ہے اور یہ بات قومی اسمبلی سے ترمیم کی منظوری کے اگلے ہی دن نواز شریف کے اپنی پارٹی کا سربراہ بننے کے عمل سے ثابت بھی ہو گئی۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کا جو مسودۂ قانون منظور ہوا اس میں تمام تر توجہ اِسی ایک ترمیم پرمرکوز ہو کر رہ گئی ہے اور باقی پورے مسودے کو بھول کر اِسی پر نکتہ چینی کی گئی ہے، حالانکہ انتخابی اصلاحات کے لئے تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نے کئی سال تک اپنے اجلاس کئے، اِن اجلاسوں میں مسودہ منظور ہوا اور اگلے انتخابات اسی قانون کے تحت منعقد ہوں گے،بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک ترمیم کو توجہ کا مرکز بناکر پورے مسودے کو نظر انداز کر دیا گیا جو 125 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو اگلے انتخابات کو شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے میں ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہیں اِس مسودے کی تیاری کے لئے تمام جماعتوں کے نمائندوں نے جو محنت کی تھی وہ سب نگاہوں سے اُوجھل ہو گئی ہے اور ایک ترمیم نکتہ چینی کا ہدف بن کر اب معاملہ عدالتوں میں پہنچ گیا ہے،اب انتظار کرنا چاہئے کہ وہاں سے کیا فیصلہ آتا ہے۔

نواز شریف کو سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا،جس کے نتیجے میں وہ وزیراعظم نہیں رہے،اُن کی قومی اسمبلی کی نشست پر اُن کی اہلیہ کلثوم نواز رکن منتخب ہو گئی ہیں،جس وقت سپریم کورٹ کا یہ حکم آیا اُس وقت کے مروجہ قانون اور مسلم لیگ(ن) کے اپنے آئین کے تحت نواز شریف پارٹی کے صدر نہیں رہ سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے یہ عہدہ بھی چھوڑ دیا، پارلیمینٹ نے جو نیا قانون منظور کیا ہے اور جو پہلے سے نافذ قانون کی جگہ بھی لے چکا ہے اُس کے تحت اگر وہ صدر منتخب ہو گئے ہیں اس پر جن لوگوں کو اعتراض ہے وہ عدالتوں سے رجوع بھی کر چکے ہیں اب انہیں چاہئے کہ وہ فیصلوں کا انتظار کریں،لیکن اِس دوران بعض سوالات ضرور اُٹھے ہیں،جن پر غور کرنا چاہئے اور ان کے جواب بھی حاصل کرنے چاہئیں۔

پارلیمینٹ میں جو بھی قانون سازی ہوتی ہے اس کا کسی نہ کسی فرد ،گروہ، جماعت یا افراد،معاشرہ پر مثبت پا منفی اثر پڑتا ہے،جن لوگوں کو کسی ایسے قانون کا فائدہ ہوتا ہے وہ اس قانون سے خوش ہوتے ہیں اور جنہیں کسی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے وہ قانون پر نکتہ چینی بھی کرتے ہیں اور اس بنیاد پر حکومت اور قانون بنانے والوں کو کوستے بھی ہیں،کسی بھی چھوٹے بڑے قانون کا جائزہ لے لیں آپ کو اِس کے مداح اور ناقد دونوں نظر آئیں گے،دُنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں، جس سے کوئی معاشرہ من حیث المجموع خوش اور مطمئن ہو، نواز شریف کو فائدہ پہنچانے کے لئے جو قانونی ترمیم منظور ہوئی وہ بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں، اِس کے حامی بھی موجود ہیں اور مخالف بھی، احتجاج اور شور شرابہ اپنی جگہ، لیکن پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں سے یہ ترمیم اسی طرح منظور ہوئی ہے جس طرح ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ یہ قانون اگر جلد بازی میں منظور ہوا ہے اور اگر اس میں پیش کی جانے والی اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد ہوئی ہیں تو یہ بھی کوئی انہونی نہیں جو پہلی دفعہ ہوئی ہو،اس وقت پاکستان میں جو بھی قوانین نافذ ہیں اور جن پر پوری طرح عمل ہو رہا ہے جب یہ منظور ہوئے تھے اور جب پہلے پہل اُن کے نفاذ کی نوبت آئی تھی تب بھی یہی صورتِ حال تھی۔

بلاشبہ نواز شریف کو عدالت نے اپنے حکم سے نااہل کیا ہے، جس پر پوری طرح عمل بھی ہو گیا ہے،لیکن عدالت نے کوئی ایسا حکم تو نہیں دیا،جس میں کہا گیا ہو کہ نواز شریف آئندہ سیاست نہیں کر سکتے،نہ کسی سیاسی جماعت کی رکنیت اختیار کر سکتے ہیں،انہیں یا کسی بھی دوسرے شہری کو سیاست سے نہیں روکا جا سکتا، تو پارلیمینٹ کو بھی کسی قانون سازی سے منع نہیں کیا جا سکتا، وہ قانون سازی کرتی رہتی ، اور پہلے سے موجود قوانین میں ترمیمیں کرتی رہتی ہیں۔ پارلیمینٹ کے دونوں ایوان، اپنے اپنے ضابطوں کے تحت اور ان کے اندر رہتے ہوئے ہر قسم کی قانون سازی میں آزاد ہیں۔البتہ یہ آئین کی روح اور بنیادی شقوں کے منافی نہیں ہونی چاہئے،اب چونکہ یہ معاملہ عدالتوں میں جا چکا ہے وہ فیصلہ کر دیں گی کہ اس قانونی ترمیم میں کوئی بات خلافِ آئین ہے یا نہیں، اگر فیصلہ ترمیم کے حق میں آیا تو یہ قانون چلتا رہے گا اور اگر خلاف آیا تو ختم ہو جائے گا، بہت سے قانون عدالتوں کے حکم سے ختم بھی ہوتے ہیں نئے بھی بنتے ہیں پارلیمنٹ اور عدالتوں کا اپنا اپنا کردار ہے جو وہ ادا کرتی رہیں گی۔البتہ اس قانونی ترمیم کے بہانے سے جو ارکانِ اسمبلی حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر چکے ہیں اُن سے ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ وہ کس قانون اور ضابطے کے تحت ایسا کہہ رہے ہیں، کیا وہ خود ہر قسم کے قانون سے بالاتر ہیں؟

مزید : اداریہ