منقسم امریکہ (2)

منقسم امریکہ (2)
 منقسم امریکہ (2)

  

امریکہ کے نائب صدر نے پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے کہا کہ پاکستان امریکہ کا پارٹنر ہے۔اتحادی یا دوست نہیں کہا۔پارٹنر کا دائرہ کار ایک مخصوص کاروبار یا پراجیکٹ تک محدود ہو تا ہے۔ پارٹنر نفع نقصان میں شریک ہوتا ہے۔نہیں معلوم امریکہ کس نفع نقصان میں شراکت کی بات کرتا ہے۔

اگر پاک امریکہ تعلقات پارٹنرشپ ہے تو فی الحال تو پاکستان اس سودے میں سراسر گھاٹے میں رہا۔البتہ عام پاکستانی عزت مندانہ دوستی کو آسانی سے سمجھتے ہیں۔اور اس کیلئے قربانی دینا بھی جانتے ہیں۔ایک ستم ظریف نے تو موجودہ منظم دہشت گردی کو دو تہذیبوں کا تصادم قرار دے دیا۔ حالانکہ کوئی تہذیب از خود دہشت گردی کوقابلِ قبول نہیں سمجھتی۔ کیونکہ ہر دہشت گردی تہذیب کو منہدم کرتی ہے۔اس لئے ہر زبان میں تہذیب کا لفظ ہی، دہشت، انتشار اور بلا تخصیص قتل عام کے خلاف مذمتی لفظ ہے۔

تہذیب، امن اور تنظیم میں پھلتی پھولتی ہے۔ دہشت زدگی ترقی اور تخلیق کی دشمن ہے۔ المختصر یہ کہ جب تک دہشت گردی کی عالمی سطح پر متفقہ صراحت اور تحدید نہیں کی جائے گی دہشت گردی علاقائی سطح پر مختلف خوشنما لبادوں اور دلفریب نعروں میں لپٹی رہے گی۔

بعض اوقات آزادی اور قومی خود ارایت کی تحریکوں پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر کچلنا آسان ہو جاتا ہے۔اس لئے دنیا میں امن قائم کرنے میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کو قانونی سطح پر قابل امتیاز اور قابل شناحت کر دیا جائے تاکہ نہ تو دہشت گرد، دہشت گردی کو کوئی پسندیدہ عنوان دے کر قابل قبول بنا سکیں اور نہ ہی کوئی عالمی طاقت اس فکری اُلجھاؤ ، شعوری ابتری اور علمی خلاء میں اپنے سامراجی عزائم کو چھپا سکے۔

افغانستان اور جنوبی ایشیا کیلئے امریکی نمائندے، رچرڈ ہالبروک نے دسمبر 2008ء میں شاید پہلی بار "دہشت گردی کی حکمت عملی"کی اصطلاح استعمال کی۔ یعنی دہشت گردی کو عملی جامہ پہنانے سے بہت پہلے ایسی دہشت گردی کے مقاصد کا تعین کیا جاتا ہے۔ حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔ ایسی دہشت گردی نہ اتفاقی اور ناگہانی ہوتی ہے اور نہ ہی بے مقصد اور خود رو ہوتی ہے۔دہشت گردی پاگل پن بھی نہیں ہے۔ موجودہ دہشت گردی ایک عالمی فکر کی پیداوار ہے جس کی آبیاری عالمی سرمائے سے کی گئی ہے۔

پھر اس سوچ کے پیدا ہونے یا پیدا کر نے کے مربوط عوامل ہیں۔جب تک یہ سوچ ختم نہیں ہوگی، دہشت گردی کا تخلیقی تسلسل قائم رہے گا۔ چند دہشت گردوں کو مار دینے سے یا اندھا دھند بمباری کرنے سے دہشت گردی کا قلع قمع نہیں ہو سکتا۔بے پائیلٹ ڈرون قتل کرنے کی موثر مشین سہی پھر بھی ڈرون سوچ کو نشانہ بنانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ بلکہ ڈرون سے بے گناہ عام شہریوں کے قتل عام کا احتمال زیادہ ہے۔ اس کا مقامی سطح پرمتشددمگر خفیہ ردِعمل ہوتا ہے۔قاتل کو قتل کیا جا سکتا ہے مگر خود قتل کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔

علم جُرمیات میں ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ قاتل کے قتل کرنے سے قتل کا عمل ختم نہیں ہوتا۔یہ بھی ذہن میں رہے دہشت گردی مایوسی کی پیداوار ہے اورایک مسخ شدہ سوچ ہے۔ٹرمپ کا حکم ہے کہ دہشت گردی کے ٹھکانے ختم کئے جائیں۔اور اگر یہ ٹھکانے افغانستان میں ہوں تو یہی بات ٹرمپ سے کہی جاسکتی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کی پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔

کل کی بات ہے افغانستان سے دہشت گردوں نے پاکستان کے راجگال چیک پوسٹ پر حملہ کر کے ۲۲ سالہ لیفٹیننٹ ارسلان کو شہید کر دیا۔ اس کی شکایت افغان حکومت سے کی جائے یا نیٹو کے شریک ممالک سے یا صرف ٹرمپ سے کہ اس سوچ کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کی قوت محرکہ کیا ہے۔ انفرادی ہے یا اجتماعی۔گروہی ہے ریاستی۔پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے مقاصد کیاہیں۔ کبھی دوممالک کو دہشت گردی کے ذریعے جنگ میں دھکیلنا مقصود ہوتا ہے۔کبھی کسی ریاست کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتا ہے۔ یا دہشت گردی کے ذریعے مرکز گریز قوتوں کو ابھار دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی سے ریاست کے عوامی تشخص اور اس کی یک جہتی کو منقسم کرنے میں مدد ملتی ہے اور عوام میں مایوسی پید ا ہوتی ہے ۔ ادارے غیر موثر کر دیے جاتے ہیں ۔پاکستان اسی منظم حکمت عملی کے ذریعہ سزا وار ٹھہرایا گیا ہے۔

چونکہ مسلم قیادت نے متحدہ ھند کی مستقل اکثریت کے شکنجے سے بچانے کیلئے مسلمانوں کیلئے نئی مملکت بنائی تھی۔اسی وجہ سے دہشت گردی کی سٹریٹیجی بنانے والوں نے اپنی دہشت گردی کا ہدف مسلم وحدت کو بنایا۔عمومی اور فرقہ وارانہ شرعی اختلافات کو شدید مسلح نفرت میں بدلا گیا۔ان کو قوی امید تھی کہ جس تصور پر پاکستان وجود میں آیا اسی مرکزیت پیدا کرنے والے نظریہ کو فرقہ بندی کے انتشارکے ذریعے پارہ پارہ کیا جاسکے گا۔ ایک ریاست کے انہدام کیلئے یہ گروہی تصادم صرف خانہ جنگی تک محدود نہیں رہتا۔بلکہ کسی منتظرخارجی ملک کو اندرون ملک میں داخل ہو کر دخل دینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی ان کی حکمت عملی ہے ۔مگر یہ بھی نہیں ہوگا۔

دہشت گردی فکری سطح پر بھی پسپا ہو رہی ہے۔ ہر سچا پاکستانی دہشت گردی سے نفرت کرتا ہے۔ یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔کیونکہ پاک فوج اس فتنہ کے خلاف صف آرا ہو گئی۔ دنیا بھر کی افواج اپنے آپ کو سیکولر رکھتی ہیں تا کہ مذہبی اختلافات سے فوج تقسیم نہ ہو۔اسی لئے پاک فوج فرقہ واریت سے پاک ہے۔دوسری جانب سیاسی قیادت کے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی قومیتوں کے اختلافات کی شدت کم ہو گئی۔ پاکستان میں علاقہ غیر اب غیر نہیں رہا۔یہ ایک بہت عظیم سیاسی فیصلہ تھا۔ پاکستان کا ہر علاقہ پاکستان ہے۔

دہشت گردی کی حکمت عملی واقعات کی زنجیر سے واضح ہوتی ہے۔ جی ایچ کیو کے علاقے پر حملہ، مناواں پولیس سکول پر حملہ، لاہور کے لبرٹی چوک میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ، سابقہ وزیراعظم بے نظیر کا قتل، کوئٹہ میں وکلاء کا قتل عام اور اس قسم کے سینکڑوں واقعات پاکستان میں دہشت گردی کی حکمت عملی کے خدوخال واضح کرتے ہیں ان حملوں میں قانون نافذ کرنے والے ہدف بنائے گئے اور بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر ابھارا گیا کہ پاکستا نی حکومتی ادارے انتظامی سطح پر ناکام ہو چکے ہیں۔

پاکستانی ریاست قومی تحریکوں میں کئے گئے و عدوں کو پورا کرنے کی اہلیت کھو چکی ہے۔دہشت گردی نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ پاکستان فرقوں اور ذاتوں میں تقسیم ہے۔ قومی یک جہتی کا فقدان ہے۔قومی اور ریاستی ادارے آپس میں دست بگریباں ہیں۔

یہ مشترکہ اور مجموعی ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ مگر یہ سب کچھ مصنوعی اور عبوری ہے۔ پاکستان تاریخ کی پیداوار ہے۔ پاکستان کو جغرافیئے نے لاکھوں سال میں فطرت کے ہاتھوں سے متشکل کیا۔ ہزاروں ہجرتوں کی پناہ گاہ یہی سرزمیں ہے جو بھی آیا،جہاں سے بھی آیا اس دھرتی نے اسے امان دی۔ وہ آج پاکستانی ہے۔

ویسٹ فالیا اور ویانا کانفرنس کے اصولوں کا مذاق نہ اُڑایا جائے۔ بلکہ ان اصولوں کی فتح سے عالمی امن قائم ہو سکتا ہے ۔سامراجی تسلط امن دشمنی ہے۔ بے حس عالمی ضمیر اور دکھاوے کے عالمی اور ریاستی ادارے امن قائم نہیں کر سکتے۔

دہشت گردی اور جنگ نظام کو توڑ سکتی ہے جوڑ نہیں سکتی نفرت، تشدد، تعصب اوربلا امتیاز قتل عام کبھی گلو بلائیزیشن کے تصور کو کامیاب نہیں کر سکتا۔انسانیت، اشتراک فکروعمل سے نئی دنیا تحلیق کر سکتی ہے۔ دلیل کی فتحیابی اور مکالمے کے کلچر کے قیام سے یہ آگ اور خون میں پھنسی ہوئی دنیا امن کا گہواراہ بن سکتی۔نہ پاکستان کو ختم کیا جا سکتا ہے نہ بھارت کو۔دونوں تاریخ کی پیداوار ہیں بلکہ ہرطبقاتی ریاست میں دو ریاستیں آپس میں بر سرپیکار ہیں۔

اس ریاستی دوئی کا تصادم امریکہ میں ٹرمپ کے انتخابات نے ثابت کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے پوری دنیا کو دومتحارب حصوں میں تقسیم کر دیا ۔ ایک لوٹنے والی حکمران اقلیت اور دوسری لٹنے والی بے بس دنیا۔(ختم شد)

مزید : کالم