پنجاب سروس ٹریبونل میں ججوں کی کمی ، سرکاری ملازمین ذہنی اذیت کا شکار

پنجاب سروس ٹریبونل میں ججوں کی کمی ، سرکاری ملازمین ذہنی اذیت کا شکار

لاہور(آن لائن)پنجاب سروس ٹریبونل میں ججوں کی کمی کی وجہ سے سرکاری ملازمین ذہنی اذیت کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں ججوں کی عدم تعیناتی کے باعث پنجاب سروس ٹریبونلز میں چودہ ہزار کیسز التواء کاشکار ہیں واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کی داد رسی کے لیے پنجاب سروس ٹربیونل قائم کیا یہاں پر ایک چیرمین اور چھ جج مقرر کر دئیے ججوں نے سرکاری ملازمین کو انصاف فراہم کیا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ پنجاب سروس ٹربیونل میں ایک چیرمین اور دو جج کام کر رہے ہیں جبکہ چار جج دو سال سے مقرر ہی نہیں کئے گئے جس سے سائلین سخت پریشانی سے دوچار ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب جج ہی نہیں ہو گا تو انصاف کیس سے پہلے محکمے کے دھکے کھاے اب عدالتوں کے کھا رہے ہیں پنجاب سروس ٹربیونل میں پیش ہونے والے وکلا بھی سائلین کے ساتھ خود بھی زہنی ازیت میں مبتلا ہیں ان کا کہنا ہے کہ حد ہوتی ہے ایک ادارے کو نظر انداز کرنے کی کوئی بھی سرکاری ملازمین کی داد رسی کی طرف.توجہ نہیں دے رہاپنجاب سروس ٹربیونل انصاف فراہم کرنے والا اہم ٹربیونل.ہے حکومت کو اس کیطرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملازمین کی شکایت کا ازالہ ہو سکے۔

مزید : صفحہ آخر