پی ٹی آئی کا رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے ہونے والی غیر ملکی فنڈنگ کے باعث دونوں پارٹیز کو غیر ملکی فنڈڈ پارٹی قرار دینے کیلئے دائر پٹیشن پر سپریم کورٹ رجسٹری کی جانب سے اعتراضات لگا کر واپس کیے جانے کے اقدام کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔یہ پٹیشن پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی اسد عمر اور شیریں مزاری کی جانب سے 12 ستمبر کو دونوں پارٹیز کے خلاف حکم جاری کرنے کیلئے دائر کی گئی تھی۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے یہ پٹیشن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈڈ پارٹی قرار دینے کی دائر پٹیشن کے رد عمل کے طور پر دائر کی گئی ٗجس کی سماعت جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کررہا ہے۔حنیف عباسی نے اپنی پٹیشن کے ذریعے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین کو ان کے غیر قانونی اثاثوں اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے باعث نا اہل قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔پی ٹی آئی کی پٹیشن پر سماعت عدالت عظمیٰ میں منگل کے لیے مقرر کی گئی تھی، تاہم رجسٹرار آفس نے گزشتہ روز اسد عمر کی پٹیشن جبکہ گزشتہ ہفتے شیریں مزاری کی درخواست کو اس وجہ سے واپس کردی کہ درخواست گزار نے اس حوالے سے متعلقہ فورم سے رابطہ نہیں کیا جبکہ ان دونوں کی جانب سے ایسا کرنے کی معقول وجہ نہیں بتائی گئی۔علاوہ ازیں، رجسٹرار آفس نے ایک اور اعتراض بھی لگایا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے فراہم کی گئیں دستاویزات سپریم کورٹ کے قوائد و ضوابط پر پورا نہیں اترتی۔ نجی ٹی وی کے مطابق رجسٹرار کی جانب سے پٹیشن واپس کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں کے نمائندے ایڈووکیٹ چوہدری فیصل حسین نے مذکورہ حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بجائے مطالبہ کیا کہ پٹیشن پر عدالت عظمیٰ کا ایک رکنی بینچ سماعت کرے۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنی پٹیشن میں زور دیا کہ عدالت کو مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے سال 15۔2013 کے درمیان اکاؤنٹس کی جانچ کا حکم دینا چاہیے جس کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری پولیٹکل پارٹیز آڈر (پی پی او) کے آرٹیکل 13 کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اترتے ہیں۔دونوں درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی ۔

مزید : صفحہ آخر