لاہور ہائیکورٹ بار کا انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف تحریک چلانے اور عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان

لاہور ہائیکورٹ بار کا انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف تحریک چلانے اور عدالتوں ...

لاہور (آن لائن) لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسکے خلاف تحریک چلانے اور عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے کے لیے ترمیم کی جس کی مذمت کرتے ہیں ۔سیکرٹری ہائی کورٹ بار عامر سعید راں نے کہا کہ کرپشن پر نااہل قرار دیئے گئے شخص کے لیے ترمیم ناقابل قبول ہے ۔ ہائی کورٹ بار انتخابی اصلاحات ایکٹ کو چیلنج کرے گی ۔ اگر یہ ترمیم ختم نہ کی گئی تو ملک بھر کے وکلا تحریک چلائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے ترمیم کسی بھی مسلمان کے لیے قابل قبول نہیں۔ نائب صدر راشد لودھی نے کہا کہ ایک شخص کے لیے ملک کے اداروں سے ٹکراؤ کیا جا رہا ہے ۔ نواز شریف کی پالیسی ملکی سلامتی کے خلاف ہے ۔ نواز شریف آگ سے کھیل رہے ہیں جو ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پوری پارلیمنٹ نے ایک نااہل شخص کا ساتھ دیا جو قابل افسوس ہے۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہے ۔ سیکرٹری فنانس ظہیر بٹ نے کہا کہ ختم نبوت کے حوالے سے ترمیم کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ختم نبوت کے لیے ہم اپنی جانیں دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔ ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں نے اعلان کیا کہ اس ایکٹ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا یہ ترمیم بدنیتی پر مبنی ہے اس لیے امید ہے عدالتیں اسے کالعدم قرار دیں گی ۔

مزید : صفحہ آخر