انتخابی اصلاحات بل و ختم نبوت پر حلف ختم کرنے کیخلاف عدالت جائینگے: سراج الحق

انتخابی اصلاحات بل و ختم نبوت پر حلف ختم کرنے کیخلاف عدالت جائینگے: سراج الحق

اسلام آباد (این این آئی)جماعت اسلامی نے انتخابی اصلاحات بل اور ختم نبوت کے حوالے سے حلف ختم کر نے کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم دینی جماعتوں اور قانون ماہرین کا اجلاس پانچ اکتوبر کو منصورہ میں بلا رہے ہیں جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا ٗانتخابی اصلاحات بل کے حوالے سے حکومتی اقدامات جمہوریت پر دھبہ ہیں ٗ احتساب صرف ایک فرد کا نہیں سب کا ہوناچاہیے ۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے رکن پارلیمنٹ صاحبزادہ طارق اللہ ٗ نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ٗ امیر جماعت اسلامی سندھ اسد اللہ بھٹو سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سراج الحق نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)نے قومی اسمبلی میں مصنوعی اکثریت کے بل بوتے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو بلڈوز کیا ہے ایک نا اہل شخص کو پارٹی کاسربراہ بنانا بدترین واقعہ ہے جو شخص سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسمبلی نہیں جاسکتا اسے اراکین اسمبلی کا سربراہ بنا دیا گیا انہوں نے کہاکہ انتخابی اصلاحات آئین کے منافی اور آرٹیکل 62اور 63کی خلاف ورزی ہے اور ہم اس بل کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم فیصلے کے خلاف عدالت اور عوام جائیں گے نا اہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کا قانون جمہوریت پر دھبہ ہے جسے دھونے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)نے چند لمحوں میں پارٹی آئین میں ترمیم کی ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہمیشہ پاکستان کے عوام ٗ قوم اور ملک کے مفاد میں ترامیم کی جاتی ہیں مگر مسلم لیگ (ن)نے فرد واحد کیلئے ترمیم منظور کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی کیلئے ختم نبوت کے حوالے سے حلف ختم کر دیا گیا پہلے قومی اسمبلی کا ممبر حلف اٹھاتا تھا کہ وہ نبی پاک ؐ پر ایمان لاتا ہے اور اس کے بعد کہتا تھا کہ ختم نبوت کے خلاف عقیدہ رکھنے والے سے میرا کوئی تعلق نہیں ٗاب یہ حلف ختم کر دیا گیا ہے ۔سراج الحق نے کہاکہ یہ سب کچھ مغربی قوتوں کو خوش کر نے کیلئے کیا گیا یہ مغربی ایجنڈا ہے حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں یہ آئین اور شریعت کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کو خوش کر نے اور احمدیوں کو نوازنے کیلئے حکومت نے اقدام اٹھایا ہے ہم نے اس کا نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں پانچ اکتوبر کو دینی جماعتوں اور قانونی ماہرین کو منصورہ میں بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مشترکہ پالیسی بنائی جائے اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے ۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر