نشتر ہسپتال ادویہ چوری کے بعد 4لاکھ آئی وی سیٹ غائب ہونیکا انکشاف

نشتر ہسپتال ادویہ چوری کے بعد 4لاکھ آئی وی سیٹ غائب ہونیکا انکشاف

ملتان(نمائندہ خصوصی) نشتر ہسپتال ملتان ادویہ چوری سکینڈل کی تحقیقات کے دوران ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ نشتر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے 2015-16ء کے دوران بھاری مقدار میں خریدے گئے آئی وی سیٹ میں سے لاکھوں کی تعداد میں سٹور سے غائیب ہوگئے۔ نشتر انتظامیہ بھاری مقدار میں آئی وی سیٹ کے غائیب ہونے کے باوجود خاموش رہی اور معاملہ کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوسٹی گیشن (بقیہ نمبر46صفحہ7پر )

عدنان آصف بھٹہ نے 4لاکھ آئی وی سیٹ کی گمشدگی کا ریکارڈ اپنے قبضہ میں لے لیا جبکہ متعلقہ آفسران اور اہلکاروں سے جواب طلب کرلیا۔ معلوم ہوا ہے نشتر ہسپتال ملتان میں ادویہ خریداری کیس کی تفتیش آئے روز نیا رخ اختیار کررہی ہے۔ سابق ایم ایس ڈاکٹر عاشق ملک کے دور میں جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے ادارے میں انتظامی نا اہلی کا بد ترین مظاہرہ کیا گیا ۔ اس دوران پرچیز کمیٹی نے پری کوالفیکشن کے بغیر سپلائرز کو مشینری اور ادویہ کی فراہمی کا ورک آرڈر جاری کیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے غریب مستحق مریضوں کیلئے کروڑوں روپے مالیت کے فنڈز جاری کیے گئے۔ تاکہ جنوبی پنجاب کے مستحق اور نادرار مریضوں مفت ادویہ فراہم ہو سکیں اور مسلم لیگ ن کا امیچ بھتر ہو سکے ۔ لیکن نشتر ہسپتال کی انتظامیہ نے مسحائی کے فرائض سر انجام دینے کی بجائے کمیشن ، کک بیکس کے ذریعہ اپنی جیبیں بھر نا مقدم سمجھا۔ نشتر انتظامیہ اور پرچیز کمیٹی 2015-16ء کے دوران ایمرجنسی بلاک کیلئے آئی وی سیٹ کی خریداری کیلئے ٹینڈر مشتہر کیے اور اپنے چہیتے سپلائزر کو روک آرڈر جاری کیا۔ بتایا گیا ہے سابق ضروریات کے بر عکس 2015-16ء میں زائد آئی وی سیٹ خریدے گئے۔ ان کی خریداری کا بنیادی مقصد صرف اور صرف کمیشن کھرا کرنا تھا۔ متعلقہ حکام اپنا اپنا حصہ لینے کے بعد تو سائیڈ پر ہوگئے۔ لیکن ان آئی وی سیٹ کی حفاظت کا کوئی خاص انتظام نہ کیا گیا۔ جس کیوجہ سے 4لاکھ آئی وی سیٹ غائیب ہوگئے۔زائد خریداری کیوجہ سے اس وقت نشتر ہسپتال کی انتظامیہ کیلئے ادویہ کی حفاظت درد سر بنی ہوئی ہے۔زائد ادویہ ہونے کیوجہ سے فارمسی کا درجہ حرارت سٹینڈرڈ ٹیمپریچر پر قائم نہیں ہے۔ جس سے ادویہ قبل ازوقت ایکسپائر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو چکا ہے۔ معلوم ہوا ہے ادویہ خریداری سکینڈل کی انکوائری کرنے والے انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ اے ڈی آئی عدنان آصف بھٹہ نے زائد خریداری انتظامی نا اہلی کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔ جبکہ لاکھوں لاکھوں کی تعداد میں آئی سیٹ کی گمشدگی کا ریکارڈ بھی قبضہ میں لے لیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر