حادثات نے 6افراد سے زندگی چھین لی، 4موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے

حادثات نے 6افراد سے زندگی چھین لی، 4موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے

چوک مہر پور، چوک مکول، شاہجمال، جلال پور پیر ولا، شادن لُنڈ، محسن وال، ڈہرکی، ڈیرہ غازیخان، میلسی، (نمائندگان) ٹریفک حادثات میں 6افراد زندگی سے محروم ہوگئے، مختلف واقعات میں 4افراد قتل کردیئے گئے، چوک مہر پور اور شاہجمال سے نمائندہ پاکستان ، چوک مکول سے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ روز شاہ جمال سے مظفرگڑھ جانے والا مزدہ نمبر 5986 مونڈکا کے نزدیک موٹر سائیکل سوار کو بچاتے ہوئے الٹ گیا جس کی وجہ سے نا معلوم موٹر سائیکل سوا ر ،پندرہ سالہ طالب علم محمد جاوید سندیلہ ،اور ایک نا معلوم عورت جس کی ابھی تک شناخت نہ ہو سکی جانبحق ہو گئے عینی شاہد ین کے مطابق مہر پور کے نزدیک (بقیہ نمبر50صفحہ7پر )

مزکورہ مزدے کے ایک سائیڈ کے پٹے ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے ایک سائیڈ کی بریکس فیل ہو گےءں بس ڈرائیور نے مہر پور میں عارضی طور پر بریکس چالو کئے اور نہایت تیز رفتاری کے ساتھ چل پڑا ،چوک سندیلہ کے قریب بیل گاڑی کو گھسیٹتا ہوا کئی فٹ دور لے گیا مگر رفتار میں کوئی کمی نہ آئی بس مونڈکا کے قریب سامنے بیٹھے ہوئے نا معلوم موٹر سائیکل سوار کو بچاتے ہوئے مزدہ الٹ گیا جس کی وجہ سے نا معلوم موٹر سائیکل سوار موقع پر جانبحق ہو گیا جب کہ مزدے کی چھت پر بیٹھے ہوئے سینکڑوں طالب علم ڈھڑام سے نیچے آگرے جن میں سے ایک طالب علم جاوید سندیلہ موقع پر ہی جان بحق ہو گیا اور مزدے کے اندر بیٹھی ایک نا معلوم عورت بھی شدید زخمی ہو گئی اور ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی جان کی بازی ہار گئی حادثے کی خبر علاقہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں حادثہ کی جگہ پر پہنچ گئے ریسکیو کی گاڑیاں طبی امداد کے لئے حادثے کی جگہ پر پہنچی اور مزدے کے اندر پھنسے ہوئے پچاس کے قریب زخمیوں کو مزدے کی باڈی کاٹ کر باہر نکال لیا اور ان کو ہسپتال ریفر کیا،موقع پر کونسلر سید اعظم شاہ ،ظفر چانڈیہ،عوامی راج پارٹی کے رہنما ملک نیاز ملانہ،میاں تنویر نوناری،مہر منور عباس،میاں عاطف دھنوتر،مہر فیصل،مہران ملک کے علاوہ ہزاروں لوگ پہنچ گئے اور ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ مل کر زخمیوں کو باہر نکالا،ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی ذمہ دار آفیسر موقع پر نہ آیا شہریوں نے مونڈکا مظفرگڑھ روڈ بلاک کر کے ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ جلال پور پیر والا سے نامہ نگار کے مطابق موضع کہیر واہ کا رہائشی 74 سالہ حاجی احمد بخش پنوار اپنے بیٹے غلام یٰسین پنوار کے ہمراہ اراضی ریکارڈ سنٹر جلال پور آیا ہوا تھا اپنے کام سے فراغت کے بعد وہ پیدل نزدیک واقع نادرا دفتر چوک پر پہنچا تو اچانک ایک موٹر سائیکل کی ٹکر سے زخمی ہو گیا اور کچھ دیر بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ تھانہ سٹی پولیس نے موٹر سائیکل سوار کو اپنی تحویل میں لے لیا تاہم متوفی کے بیٹے غلام یٰسین نے وقوعہ کو اتفاقی حادثہ قرار دیتے ہوئے موٹر سائیکل سوار کے خلاف قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ شادن لُنڈ سے نامہ نگار کے مطابق قصبہ کا لا کے نز دیک انڈ س ہا ئی وے کی سا ئیڈ پر ٹریکٹر کھڑا ہوا تھا کہ پیچھے سے آ نے وا لے ٹرا لے نے ٹکر ما ر دی جس سے ٹریکٹر سٹا ر ٹ ہو کر کچھ فا صلہ پر مز دو ری کے بعد دو بھا ئی سو رہے تھے کہ ٹریکٹر ان پر چڑ ھ دو ڑا جس سے 14 سا لہ مز دور بچہ محمد مز مل جو کہ بستی در کھا ن وا لا کا رہا ئشی تھا ٹر یکٹر کے نیچے آ کر مو قع پر ہلا ک ہو گیا جبکہ اس کا بھا ئی معجزا نہ طو ر پر محفو ظ رہا ۔ محسن وال سے نامہ نگار اور نمائندہ پاکستان کے مطابق نواحی گاؤں 7ایٹ اے آر کر ملی والا کا 60سالہ فتح محمد ریلوے لائن کراس کرتے ہوئے کراچی سے لاھور جانے والی ٹرین کراچی ایکسپریس کی زد میں آکر موقع پر جان بحق ہو گیا تھانہ صدر پولیس میاں چنوں نے ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔ڈہرکی سے نامہ نگار کے مطابقڈہرکی کے قریبی گاؤں شیر محمد لونڈمیں سیاکاری کے چلنے والے دیرینہ تنازع کے باعث دوافراد قتل ہوگئے کوری اور لونڈ قبائل میں جھگڑا شدت اختیارکرگیا مذید ایک افرادقتل ہوگیا خبر کے مطابق کچھ عرصہ قبل کوری برادری کے لوگوں نے سیاکاری کا الزام لگا کرلوند برادری کے ایک نوجوان کو قتل کیا گیا تھا جس کا بدلہ لینے کی خاطر لونڈقبائل کا کوریوں کے گھروں پرحملہ کردیا اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں حملہ آور کوری قبائل کی جوابی فائرنگ سے اشرف لوند موقع پر ہی ہلاک ہوگیا ایسے واقع کے بعد دونوں قبائل کے لوگ مورچہ زن ہوگئے ہیں مذید جانی نقصان ہونے کا اندیشہ علاقے میں خوف و حراس کی لہر چھاگئی ہے اہل علاقہ اپنے گھروں تک محدودہوکر رہ گئے ہیں آخری اطلاعات تک پولیس نے ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا ہے اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں لاسکی ہے۔ ڈیرہ غازیخان سے نمائندہ خصوصی کے مطابق نواحی علاقہ چوٹی کے رہائشی 26 سالہ شیرو ولد لطیف نامی نوجوان نے گلابو نامی شادی شدہ خاتون کو چھ ماہ قبل فیصل آباد سے بھاگا کر پسند کی شادی کی تھی ، تاہم خاتون کے سابقہ شوہر کو اس بات کا رنج تھا اور ملزم اعظم نے گذشتہ روز اپنے ساتھیوں کی مدد سے 26 سالہ شیرو کو کلہاڑیوں کے وار کرکے انتہائی بے دردی سے قتل کردیا اور مقتول کے چہرے کے دوٹکڑے کردئیے، ملزم واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگیا اور اپنی سابقہ بیوی گلابو کو بھی ساتھ لے گیاواقعہ کی اطلاع ملنے پر تھانہ چوٹی پولیس نے مقتول شیرو کی نعش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا اور ملزم اعظم سمیت ایک خاتون کے علاوہ چار ملزمان کیخلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ۔ میلسی سے نمائندہ اور سپیشل رپورٹر کے مطابق بستی خیروالی کے رہائشی ظفراقبال نے پسند کی شادی کی عبدالحفیظ فیاض اوراجمل وغیرہ اس شادی پرناخوش تھے ظفراقبال کابستی مراد آباد میلسی عبدالحفیظ وغیرہ کے گھرآناجاتھاوقوعہ کے روز مبینہ ملزمان عبدالحفیظ ۔اجمل ۔فیاض اورممتابی بی نے ظفراقبال کوزہردیکرقتل کردیاظفراقبال کے رشتہ داروں کواطلاع دی کہ ظفراقبال کودل کادورہ پڑاہے اوروہ فوت ہوگیاہے بعدازاں پوچھ گچھ ممتابی بی نے اعتراف کیاکہ ظفراقبال کوزیردیکرقتل کیاگیاہے پولیس تھانہ سٹی میلسی نے مقدمہ درج کرلیا۔

حادثات /قتل

مزید : ملتان صفحہ آخر